سپریم کورٹ نے بولان یونیورسٹی کوئٹہ میں طالبہ کو میڈیکل میں داخلہ نہ دینے سے متعلق مسمات شہلا کی درخواست مسترد کردی

کراچی :سپریم کورٹ نے بولان یونیورسٹی کوئٹہ میں طالبہ کو میڈیکل میں داخلہ نہ دینے سے متعلق مسمات شہلا کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت عظمی نے وفاق، پاکستان میڈیکل کمیشن اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیئے حافظ قرآن کو داخلے کیلئے اضافی نمبروں سے متعلق سماعت الگ ہوگی۔جسٹس قاضی فائر عیسی کی سربراہی میں بینچ کے روبرو بولان یونیورسٹی کوئٹہ میں طالبہ کو میڈیکل میں داخلہ نہ دینے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ حافظہ قرآن کوٹہ کے 20 نمبرز اضافی مل جاتے تو میرٹ پر داخلہ ہوجاتا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے حفظ قرآن کی بنیاد پر میڈیکل اور دیگر جامعات داخلہ میں اضافی نمبرز کیوں دیئے جائیں؟ سپریم کورٹ نے حفظ قرآن کی بنیاد ہر داخلوں پر اہم سوال اٹھا دیا۔ عدالت نے وفاق، پاکستان میڈیکل کمیشن اور دیگر کو نوٹس جاری کردیئے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے کہ اہم معاملہ ہے ہم اس پر فریقین کو سن کر فیصلہ دیں گے۔ حافظ قرآن کو 20 نمبرز زیادہ کیوں دیں؟ امام مسجد لگانا ہو یا لیکچرر بھی رکھنا ہو تو یہ قابلیت دیکھی جاسکتی ہے۔ درخواستگزار مسمات شہلا نے کہا کہ میرٹ کیلئے حافظ قرآن کوٹہ کے 20 اضافی نمبرز نہیں دیئے گئے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے یہ بتائیں کیا حافظ قرآن طالب علم بہتر ڈاکٹر بن جائے گا؟ حافظ قرآن ہونا مقدس عمل ہے مگر اس بنیاد پر میڈیکل میں داخلہ کیوں دیا جائے؟ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ یہ بہت حساس معاملہ ہوجائے گا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس میں کہا کہ آپ مذہب سے گھبراتے کیوں ہیں؟ مذہب تو بہت آسانی پیدا کرتا ہے۔ سپریم کورٹ نے مسمات شہلا کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے حافظ قرآن کو داخلے کیلئے اضافی نمبروں سے متعلق سماعت الگ ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں