بلوچستان کے ساحل پر شدید زلزلہ اور سونامی کا خطرہ ہے،محکمہ موسمیات
ڈائریکٹر جنرل پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ محمد ریاض کا کہنا ہے کہ مکران کی ساحلی پٹی پر زلزلہ آنے کا وقت آن پہنچا ہے، اگرچہ اس کے صحیح وقت کا تعین مشکل ہے لیکن مکران سبڈکشن زون کے فالٹ لائن میں اتنی انرجی جمع ہوچکی ہے کہ کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے جو ایک سونامی لاسکتا ہے۔محمد ریاض نے کہا کہ سونامی کا خطرہ موجود ہے اور مکران کے ساحل کے سبڈکشن زون پر 8 یا اس سے زائد شدت کا زلزلہ آسکتا ہے جو کراچی اور بلوچستان کی ساحلی پٹی کو متاثر کر سکتا ہے۔واضح رہے کہ مکران کی ساحلی پٹی پر سن 1944 میں بھی زلزلہ اور پھر سونامی آیا تھا جس کے نتیجے میں 4 ہزار اموات ہوئی تھیں، یہ فالٹ لائن اب اپنا قدرتی ٹائم اسکیل مکمل کرچکی ہے اور مکران کے سمندر میں موجود سبڈکشن زون کافی سرگرم ہے اور شدت پکڑ رہا ہے جس کی وجہ سے اب وہاں کسی وقت بھی زلزلہ اور پھر اس کے نتیجے میں سونامی آسکتا ہے۔محمد ریاض نے بتایا کہ خاص طور پر سندھ اور مکران کے ساحل پر یہ خطرہ پہلے سے موجود ہے اور یہ کسی وقت بھی حرکت میں آکر سونامی کی صورت میں تباہی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہ علاقہ مختلف طوفانوں اور آفات کی زد میں ہے یہاں سائیکلون بھی آتے ہیں، شدید بارشیں بھی ہوتی ہیں جیسا کہ ابھی گوادر اور مکران کے ساحل پر ہوئیں۔ڈائریکٹر جنرل پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ نے بتایا کہ یہاں پر 8 درجے شدت سے زیادہ کا زلزلہ آسکتا ہے جس کے نتیجے میں 10 سے 15 فٹ بلند لہریں پیدا ہو سکتی ہیں۔ملیر فالٹ لائن پر بھی چھوٹی اور درمیانی رینج کے زلزلے آسکتے ہیں، پہلے بھی آتے رہے ہیں اور مزید بھی آئیں گے۔ڈائریکٹر جنرل پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کی بات کی تائید کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پاکستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی سندھ سید سلمان شاہ نے بتایا کہ مکران کی ساحلی پٹی پر دو ٹیکٹونک پلیٹس ملتی ہیں اور گوادر کے جنوب میں تقریباً 40 ناٹیکل مائلز کے فاصلے پر وہ پوائنٹ ہے جہاں یوریشین اور انڈین پلیٹس ملتی ہیں جو کہ سبڈکشن زون کہلاتا ہے۔سید سلمان شاہ کا کہنا تھا کہ سبڈکشن زون میں جب بھی پلیٹس حرکت کرتی ہیں تو اس کی وجہ سے زلزلہ آسکتا ہے اور زلزلے کے اثرات اگر سمندر پر ہوں تو اس کے نتیجے میں سونامی جنم یتا ہے اور یہ زلزلہ زمین پر ٓئے تو اس کے زمین پر نقصانات ہوتے ہیں۔؎


