ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا بلوچستان بھر میں ایمرجنسی سروسز سے بائیکاٹ کااعلان

کوئٹہ(آن لائن)ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے بلوچستان بھر میں ایمرجنسی سروسز سے بائیکاٹ کااعلان کرتے ہوئے عوام پرواضح کیاہے کہ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس یا انتظامیہ کے دفاتر جا کر اپنے پیاروں کاعلاج کروائیں،حکومتی غیر سنجیدگی سب کے سامنے،ڈاکٹرز،پیرامیڈیکس ونرسز پر بہیمانہ تشدد کرکے ہمارے دو درجن سے ڈاکٹروں کو گرفتارکرلیاگیاہے،ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے لیبر روم اور سی سی یو سے بائیکاٹ نہیں ہوگادیگر تمام سروسز کا بلوچستان بھر میں مکمل بائیکاٹ ہوگا، حکومت پرواضح کرتے ہیں کہ وہ جیلوں کے دروازے کھول دیں ہم پھر نکلیں گے،کہاجاتاہے کہ ایمرجنسی سروسز کابائیکاٹ نہ کرے پرامن احتجاج کیا تو پولیس نے بہیمانہ تشدد کرکے ہمارے ایک درجن ڈاکٹرز کو زخمی کردیاہے،آج بھی گرینڈ احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ان خیالات کااظہار ڈاکٹرز احتجاجی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹرحفیظ مندوخیل نے ڈاکٹرحنیف لونی،ڈاکٹررحیم بابر، پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن کے مرکزی صدر فضل الرحمن کاکڑ،ینگ نرسز ایسوسی ایشن کے صدر ملک عزیز کاکڑ ودیگر کے ہمراہ انسکمب روڈ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر حفیظ مندوخیل نے کہاکہ نااہل وزیراعلیٰ بلوچستان کی ایما پر آج نہتے ڈاکٹرو ں، پیرامیڈیکس اور نرسز کی پرامن ریلی پر پولیس کی جانب سے جو لاٹھی چارج اور غنڈہ گردی سب کے سامنے ہے جس کی جمہوری معاشرے میں مثال نہیں ملتی ینگ ڈاکٹرزاپنے مطالبات سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونگے انہوں نے کہاکہ آج13 جنوری 2022 بروز جمعرات کو سول ہسپتال سے گرینڈ احتجاجی ریلی ریڈزون کا رخ کریں گی، تمام ڈاکٹرز اپنی موجودگی یقینی بنائے، انہوں نے کہاکہ حکومت کو دئیے گئے الٹی میٹم میں مطالبات تسلیم نہیں ہوئے اور نہ ہی گرفتار ڈاکٹرز کو رہا کیاگیا اس لئے ینگ ڈاکٹرز بلوچستان بھر میں ایمرجنسی سروسز سے مکمل بائیکاٹ کااعلان کرتی ہے مطالبات تسلیم نہ ہوئے توتو نجی ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی سروسز بند ہوں گے،بائیکاٹ کے سلسلے میں لیبر روم اور سی سی یو سے بائیکاٹ نہیں ہوگا انہوں نے کہاکہ بائیکاٹ کے دوران اموات ہوئی تو ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی، حکومت پر واضح کرتے ہیں کہ جیلوں کے دروازے کھول دیں ہم پھر نکلیں گے،ہم نے اپنے مطالبات کی خاطر جیل کاٹی کمیٹیاں بنائی جاتی ہے لیکن مسئلہ حل نہیں ہوتا ہمیں کہا جاتا ہے ایمرجنسی سروسز بند نہ کریں آج پر امن احتجاجی مظاہرے کے لئے نکلے،کیا یہ ریڈ زون عوام کی سہولہات سے زیادہ اہم ہے، انہوں نے کہاکہ حکومت ہمارے مطالبات زبانی حد تک مان گئی، آج ڈاکٹرز سمیت صحافیوں کو بھی زد و کوب کیا، کورانا کے خطرے کے باوجود ڈاکٹرز نے اپنی خدمات پیش کی ڈاکٹرز کو کورانا کے دوران خدمات کے اعتراف میں سلوٹ کیا گیادھماکوں میں علاج معالجہ کرنے والے ڈکٹرز پر لاٹھی چارج کیا گیا، ہمارے 10 ڈاکٹرز شدید زخمی ہے40 سے 50 ڈاکٹرز کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیاپاکستان لیول پر بلوچستان کو نظراندازاور لاوارث سمجھا گیا ہے ڈاکٹرز جسے مسیحا کہا جاتا ہے آج انہیں روڈوں پر گھسیٹا گیااگر ہمارے مطالبات درست نہیں تو جیل اور لاٹھی چارج کے بعد ہمیں گولی مار دیں۔ڈاکٹرحفیظ مندوخیل نے بعدازاں اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہاکہ حکومت کو دیاگیا الٹی میٹم ختم ہوگیا لہٰذاء تمام ڈاکٹرز کمیونٹی کو تاکید کرتے ہیں کہ وہ ایمرجنسی سروسز سے بائیکاٹ کرے حکومتی غیرسنجیدگی اور ڈاکٹروں کی گرفتاری کے باوجود سنوائی نہیں ہورہی لہٰذاء بلوچستان بھر میں ایمرجنسی سروسز سے بائیکاٹ کااعلان کرتی ہے انہوں نے عوام پر واضح کیا کہ ینگ ڈاکٹرز سسٹم سے تنگ آچکے اب عوام اپنے پیاروں کو علاج کیلئے وزیراعلیٰ ہاؤس یا پھر انتظامیہ کے دفتر لے جائیں تاکہ نااہل وزیراعلیٰ اس کاعلاج کرائیں۔ینگ ڈاکٹرز مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں