سینیٹ کمیٹی کا اجلاس، یونیورسٹی کے لاپتہ طلباء کو جبری گمشدگی کا کیس قرار نہیں دے سکتے، آئی جی

اسلام آباد :ء ایوان بالا ء کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ولید اقبال کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی جانب سے 10نومبر 2021کو سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے ناظم جوکھیو کے قتل، سینیٹر فدا محمد اور سینیٹر مشتاق احمد کی جانب سے 10نومبر 2021کو منعقد ہونے والے سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے مالا کنڈ میں سوشل ورکر اور میڈیا پرسن کی ٹارگٹ کلنگ، بلوچستان یونیورسٹی کے دو طلبعلموں کے اغوا کے نتیجے میں احتجاج کے علاوہ سینیٹر کامران مرتضیٰ کی جانب سے تین افراد کے لاپتہ ہونے کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ بلوچستان یونیورسٹی کے دو طلبعلموں کے اغوا کے نتیجے میں احتجاج کے علاوہ سینیٹر کامران مرتضیٰ کی جانب سے تین افراد کے لاپتہ ہونے کے معاملات کا بھی کمیٹی اجلاس میں تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ آئی جی بلوچستان نے کمیٹی کو بتایا کہ لاپتہ افراد میں سے 80فیصد لوگ واپس آ جا تے ہیں جو یونیورسٹی کے 2 طلبہ لاپتہ ہوئے تھے اُن کی تفتیش کی جا رہی ہے وہ یونیورسٹی سے باہر غائب ہوئے تھے البتہ جبری گم شدگی کے کیس قرار نہیں دے سکتے۔ یونیورسٹی میں 15دسمبر کو ویسے ہی چھٹیاں ہو جانی تھیں۔ انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تینوں لاپتہ افراد کی تفصیلات سے بھی آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ان تینوں میں سے ایک کو جبری اغوا کیا گیا ہے جس کی ویڈیو ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کہ حوالے سے ایک کمیشن بھی بنایا گیا ہے جو اسطرح کے کیسز کو دیکھتا ہے بہتر ہے قائمہ کمیٹی ان معاملات کو کمیشن کو ریفر کر دے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ ستمبر 2020میں موجودہ حکومت نے ایک کمیٹی بنائی تھی جس کا مقصد اسطرح کے واقعات کی وجوہات اور تدارک کا جائزہ لینا تھا اُس کو بھی یہ کیسز ریفر کر دیتے ہیں تا کہ لا پتہ افراد جلد سے جلد مل سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں