بلوچستان کے ممتاز بزرگ مست توکلی کے دربارمیں بنیادی سہولیات کا فقدان

کوہلو (انتخاب نیوز) بلوچستان کے ممتاز صوفی بزرگ مست توکلی کے درگاہ میںبنیادی سہولیات کا فقدان ہے بنیادی سہولیات کے فقدان سے ہزاروں عقیدت مندوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے تفصیلات کے مطابق صوبے کے ناموار روحانی صوفی بزرگ مست توکلی کے دربار میں گزشتہ طویل عرصے سے بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث صوبے کے ہزاروں زائرین کا درگاہ میں جاتے ہوئے مشکلات معمول بن گئے ہیں کوہلو شہر سے 45کلومیٹر مغرب کی جانب صوبے کے ممتاز صوفی کا مزار واقع ہے جہاں پہنچنے کےلئے پکی سڑک سرے سے ہی نہیں ہے جس کی وجہ سے زائرین کو کچی اور دشوار گزار راستوں سے گزار کر درگاہ پہنچنا پڑتاہے جس کے باعث گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کا خراب ہونا ،کم وقت کا فاصلہ کئی گھنٹوں میں طے کرنے اور پہنچتے پہنچتے مٹی ودھول سے اٹ جانا معمول بن گیاہے جس کی وجہ سے زائرین کو آمد روفت میں شدید مشکلات درپیش ہیں جبکہ دور دراز علاقوں سے ہزاروں روپے کے اخراجات کرکے زائرین پہنچتے ہیں عدم سہولیات کی وجہ سے روحانی فیض حاصل کرنے کے متلاشی،درگاہ پرذلیل وخوار ہوکر واپس گھروں کو لوٹ جاتے ہیں جبکہ درگاہ میں بجلی ،زائرین کے رہائش کے لئے کمرے ،واش رومز تک میسر نہیں ہیں زائرین کھلے آسمان تلے سونے اور وقت گزارنے پر مجبور ہوتے ہیںجبکہ دربار کے دیواروں اور عمارت میں جگہ جگہ سے دراڑیں پڑگئی ہیںاور بنیادوں میں بارش کا پانی اس کو مزید کھوکھلا کرتا جارہا ہے بارش ہوتے ہی چھت ٹپکنے لگتے ہیںسابق صوبائی وزیر کھیل و ثقافت میر شاہ نواز مری نے 2009میں مست توکلی کے دربار کی تزئین وآرائش کےلئے گرانٹ دی تھی اس کے بعد گزشتہ سال صوبائی وزیر میر نصیب اللہ مری نے بھی مست توکلی کا دورہ کرکے پینے کے پانی کےلئے واٹر سپلائی بور فراہم کیا ہے تاہم اب بھی کئی مسائل میں گھیرے بلوچستان کے بزرگ صوفی کا درگاہ بلوچستان کی صوبائی حکومت ،محکمہ اوقاف بلوچستان اور صوبائی وزیر میر نصیب اللہ مری کے خصوصی توجہ کا منتظر ہے کوہلو سمیت صوبے کے ہزاروں عقیدت مندوں نے بلوچستان کی صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مست توکلی کے دربار میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ صوبے بھر سے آنے والے ہزاروں زائرین کی مشکلات ختم ہوسکیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں