خضدار، شہری بجلی سمیت دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں،بی اے پی
خضدار(انتخاب نیوز) بلوچستان عوامی پارٹی باپ خضدار کے ضلعی ترجمان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خضدار کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کی وجہ سے یہاں کے شہری بجلی سمیت دیگر بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں جبکہ بلوچستان کا دوسرا اور انتہائی اہم ضلع ہونے کے باوجود یہاں کے شہری اب بھی گیس کی سہولت سے محروم رکھے گئے ہیں۔ عوام کو درپیش مسائل سے نہ کسی کو دلچسپی ہے نہ یہاں کے عوام کی ترقی کبھی کسی کی ترجیح رہی ہے۔مسائل پر مسلسل جشم پوشی اختیار کرنے اور بااثر قبائلی و مذھبی طبقے کی جانب سے یہاں کے عوام کو ہمیشہ اپنے دست نگر و زیر اثر رکھنے کی وجہ سے آج حالات اس نہج تک پہنچ گئے ہیں کہ شہر میں نہ بجلی ہے اور نہ ہی گیس سمیت دیگر سہولیات موجود ہیں۔جس سے نہ صرف عوام کی روزہ مرہ کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے بلکہ کاروباری طبقہ بھی شدید طور پر متاثر ہوا ہیبیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی عوامی مشکلات پر خاموش رہنے کو نہ صرف جرم سمجھتی ہے بلکہ اس بات کا ادراک رکھتی ہے کہ موثر احتجاجی تحریک شروع کیئے بغیر مسائل سے چھٹکارہ پانا ممکن نہیں۔اسی سلسلے میں چند روز پہلے پارٹی کے ضلعی قائدین نے ایک باقائدہ پریس کانفرنس کے زریعے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد کمشنر قلات ڈویڑن داود خلجی نے مداخلت کرکے بجلی کی بلاتعطل فراہمی و N-30 کے متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی سمیت دیگر مطالبات پندرہ جنوری تک حل کرنے کی یقین دھانی کرائی تھی۔اس دوران کمشنر قلات ڈویڑن کے زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ڈپٹی کمشنر خضدار و ایکسیئن کیسکو سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے سربراہان نے بھی کمشنر قلات ڈویڑن سمیت بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی قائدین کو یقین دھانی کرائی تھی کہ پندرہ دن کے اندر تمام مطالبات پر عملدر آمد کیا جائیگا لیکن پندرہ دن کی مہلت ختم ہونے کے باوجود مطالبات سے متعلق کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔شدید سردی میں بجلی کی طویل و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، ہفتے میں دو دن کے لیئے جمپر کاٹنے جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں جبکہ بسیمہ تا خضدار زیر تعمیر سڑک کے متاثرین، اکرو و ملگزار کے متاثرین اب بھی معاوضوں سے محروم ہیں۔سرکاری ہاوسنگ اسکیم ٹاون شپ سے متعلق انکوائری کمیٹی تشکیل دیکر بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی یقین دھانی کرائی گئی تھی لیکن تمام وعدے وعید اور یقین دھانیاں محض طفل تسلیاں ثابت ہوئیں۔اس لیئے بلوچستان عوامی پارٹی کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں کہ خضدار کے غریب و بنیادی سہولتوں سے محروم عوام کی قیادت و ترجمانی کرتے ہوئے موثر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے۔اس حوالے سے کل اتوار کے روز پارٹی قائدین باقائدہ احتجاج کے لیئے حکمت عملی طے کریں گے جس کا اعلان پریس کانفرنس کے زریعے کیا جائیگابیان میں وزیر اعلی بلوچستان سمیت دیگر حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر خضدار میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور گیس فراہمی کے لیئے فوری نوعیت کے اقدامات کیئے جائیں۔


