پہلی قومی سلامتی پالیسی

پاکستان کی پہلی قومی پالیسی کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے اس کی شرائط ماننی پڑتی ہیں اور اس کے نتیجے میں عوام پر مہنگائی کا بوجھ پڑتا ہے۔ مہنگائی بڑھنے سے عوام میں حکومت مخالف جذبات پیدا ہوتے ہیں اور عوام ساتھ نہ ہوں توقومی سلامتی متاثر ہوتی ہے۔ ملک کی معیشت کمزور ہو تو کوئی ملک خود کو محفوظ تصور نہیں کرسکتا۔ملک میں قانون کی حکمرانی نہ ہوتو کارٹیلز((بڑے سرمایہ داروں اورتاجروں کا گٹھ جوڑ)اپنی من مانی کرتے ہیں۔پاکستان میں شوگر اور آٹا مافیاز پر 250ارب روپے جرمانہ کیا گیامگر انہوں نے عدالتوں سے اسٹے لے رکھا ہے۔عد التیں طاقتور کے ساتھ ایک اور کمزور کے ساتھ دوسرا سلوک کرتی ہیں۔ریاست کا نظریہ ہے کہ کمزور طبقہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔جن صوبوں میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے وہاں ہر خاندان کو ہیلتھ انشورنس حاصل ہے۔ خیبر پختونخواکے وہ علاقے جہاں قبائلی نظام تھا، پیچھے رہ گئے ہیں اب وہاں زیادہ توجہ دی جائے گی، اسی طرح بلوچستان میں پسماندگی کو دور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ معیشت صحیح سمت جائے، معیشت صحیح ہونے تک ہم خود کو بہتر تصور نہیں کر سکتے۔قومی سلامتی پالیسی تین بنیادی نکات اکانومی، ملٹری اور ہیومن سیکیورٹی پر مشتمل ہے۔ملک میں تین قسم کے تعلیمی نظام رائج ہیں، سب سے محروم طبقہ مدارس ہیں۔حکومت نے بمشکل پانچویں تک یکساں قومی نصاب تشکیل دیا ہے جسے مرحلہ وار اگلی کلاسوں تک لے کر جائیں گے۔اس دوران مدارس کے اساتذہ بھی اپنی تعلیمی استعداد بڑھا لیں گے،اور انہیں بیروزگاری کا سامنانہیں کرنا پڑے گا۔وزیر اعظم کے خطاب اور لب و لہجے سے صاف نظر آتا ہے کہ ملک ہمہ جہتی مشکلات سے دوچار ہے۔تاہم وہ پر امید ہیں کہ آئندہ تین ماہ میں مہنگائی کا گراف نیچے آئے گا۔تین ماہ کی مختصر مدت کی تکرار معنی خیز ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت وزیر اعظم کے دورہئ چین سے توقعات وابستہ کئے بیٹھی ہے۔قومی سلامتی پالیسی میں بھی اس تأثر کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔سی پیک کے حوالے سے تفصیلات اور خطے کے ممالک سے تجارت کو فروغ دینے کے یہی معنی ہوتے ہیں پاکستان،ایران، افغانستان روس اور ترکی سے تجارت کو فرغ دینے پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں سے پہلے ہی تجارتی تعلقات قائم ہیں۔ قطر سے بھی ایک تجارتی وفد 22سال بعد پاکستان آیا ہے۔ایل این جی ٹرمینل سمیت متعد دمعاہدے متوقع ہیں۔ ایک لاکھ ڈالر سرمایہ کاری پر مستقل رہائش کی پیشکش بھی اسی تناظر میں ہے۔دس برسوں دس ڈیم تعمیر کئے جانے کو عشرہئ ڈیم تعمیر(Decade of Dams) کا نام دیا ہے۔اس کے علاوہ حکومت چین کی مدد سے زرعی پیداوار بڑھانے کے متعدد منصوبوں پر بھی عمل پیرا ہے۔بھنگ کی کاشت کا تجربہ کامیاب رہا اس کے لائسنس 100 مختلف کمپنیوں کو جاری کئے جا رہے ہیں۔زیتون اور دیگر اقسام کے درختوں کی بڑے پیمانے پر شجر کاری کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔شہد کی پیداوار میں بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔اس کے ساتھ ہی شہد کے عالمی معیار کی تصدیق کے لئے چکوال، پشاور اور کوئٹہ میں لیبارٹریز قائم کی جارہی ہیں۔حکومت غیر روایتی شعبوں کو معیشت میں شامل کر رہی ہے۔مانسہرا کی پہاڑیوں پر چائے کی کاشت کامیا ب ہوئی، یہ چائے جاپان میں پسند کی گئی اور 1600روپے فی کلو کی بڑی منڈی تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ کسی ملک میں تجارتیاور صنعتی سرگرمیوں بنیادی شرط امن کا قیام ہے۔کاروبار دوست ماحول جتنا بہتر ہوگا،ملکی معیشت کو اتنا ہی استحکام ملے گا۔یہ کام اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک تمام ادارے فعال اور مربوط کردار ادا نہ کریں۔حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ اس کے اقتدار کی مدت تیزی سے ختم ہورہی ہے۔اپوزیشن بھی اپنی داخلی کمزوریوں سے باخبر ہے، اسے علم ہے متعددارکان فون کالز پر عمل کرتے ہیں اور حکومت مشکل سے نکل آتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ حکومت گرانے کے زبانی کلامی دعوے کرنے کے بعد خاموش ہو جاتی ہے۔کسی حلقے میں جیت جائے تو کہا جاتا ہے سرپر ہاتھ رکھنے والوں نے (حکومت کے سر سے) ہاتھ اٹھا لیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر خلاف توقع بیان دیں تو الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا جاتا ہے: ”پولنگ والے دن فوج نہ بلائی جائے“۔عام آدمی نجی محفلوں میں حکومت اور اپوزیشن دونوں پر تبصرہ کرتا ہے ورنہ وزیر اعظم آئی ایم ایف کے پاس جانے کو سیکیورٹی کمپرومائز ہونے سے تعبیر نہ کرتے۔عوام کی ناراضگی کے اثرات اورسیاسی قوت سے واقف ہیں۔آنے والے مہینے صرف حکومت کے لئے ہی اہم نہیں، اپوزیشن کے لئے بھی اتنے ہی اہم ہیں۔پس پردہ سائے متحرک ہیں۔مدارس میں یکساں نظام تعلیم کا نفاذ پہلے ایجنڈے پر آیا اور مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ بعد میں قومی سلامتی پالیسی کا حصہ بنا۔مسلکی بنیادوں پر خارجہ پالیسی سے علیحدگی اسی تناظر میں دیکھی جائے۔سعودی عرب اور ایران سے بیک وقت یکسا ں نوعیت کے تعلقات رکھنے کا اعلان بھی مذہبی یکجہتی کی ضرورت ہے۔امریکہ اور چین سے یکساں مراسم کا پالیسی میں ذکر دنیا کے لئے بہت سے پیغام رکھتا ہے۔بھارت کو بھی جلد یا بدیر عالمی تناظر میں بڑے اور دور رس نتائج کے حامل فیصلے کرنے پڑیں گے۔خطے کے ممالک سے دشمنی اور سات سمندر پار اکلوتے امریکہ سے دوستی نبھانا ممکن نہیں رہے گا۔دیوار کے پار دیکھنے والے یہی کہہ رہے ہیں۔یہ پہلو بھی سامنے رہے کہ مستقبل میں توانائی کے شعبے میں پیٹرول کی فیصلہ کن حکمرانی موجودہ طمطراق کے ساتھ برقرار رہنا ممکن نہیں۔ پیٹرول کی جگہ لینے توانائی کی دوسری شکلیں تیزی سے اپنا مقام بنا رہی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک نے دوسرے شعبوں کو اپنی معیشت کا حصہ بنانا شروع کر دیاہے۔پاکستان میں بھی پیٹرول پر انحصار کم کرنے کے اقدامات اسی رجحان کی طرف اشارہ
کرتے ہیں۔پتھر کے زمانے سے شروع ہونے والا ترقی کا سفر جاری ہے،جاری رہے گا۔کائنات کی وسعتوں میں بہت کچھ پنہاں ہے۔ہر آن نئی ایجاد انسان کی خدمت کے لئے نمودار ہو رہی ہے۔انسان اپنے اردگرد استحصالی قوتوں کے آلہ کار ایجنٹوں سے جیسے ہی نمٹے گا، دنیا امن کی برکتوں سے فیضیاب ہونے کو تیزی سے لپکے گی۔ ہڈیوں کے ڈھانچوں پر گوشت پوست ابھرنا شروع ہو جائے گا۔زردروچہروں پر سرخی جگہ پائے گی۔پستہ قدوں کو دراز قد نصیب ہوگا۔پاکستان میں یہ وقت زیادہ دور نہیں۔اس کے قدموں کی ہلکی ہلکی آہٹ سنائی دینے لگی ہے۔نوشتہئ دیوار پڑھنے والوں کو اچھے دن قریب آتے نظر آرہے ہیں۔اپنی ناک سے آگے نہ دیکھنے والوں کو وقت کے سواکوئی نہیں سمجھا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں