فاٹا طلبا کامعاملہ،بلوچستان میں جہاں سے ان طلبہ کوتعلق ہے وہاں پاکستان کے حق میں نعرہ لگانے پر گولی ماردی جاتی ہے،ارکان کمیٹی

اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران نے حکام پی ایم سی کی طرف سے فاٹا کے طلبا کامعاملہ حل کرنے کے لیے پی ایم سی کونسل کے اجلاس کی تاریخ نہ دینے پر جھاڑپلادی،سیکرٹری پی ایم سی کوجھاڑپلانے پر سیکرٹری سیفران نے ارکان کمیٹی کوکہاکہ آپ میرے افسران کو ہراساں نہیں کرسکتے ہماری بھی عزت ہے،ارکان کمیٹی نے کہاکہ سیکرٹری پی ایم سی کے کونسل اجلاس کی تاریخ دینے کے بجائے کہے رہے کہ جلدازجلد بلایاجائے گا کمیٹی تاریخ کاپوچھ رہی ہے یہ کمیٹی کی توہین کررہے ہیں کمیٹی کوئی مذاق نہیں ہے۔کمیٹی نے پی ایم سی کو بلوچستان کے طلبہ کامسلہ حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں جہاں سے ان طلبہ کوتعلق ہے وہاں پاکستان کے حق میں نعرہ لگانے پر گولی ماردی جاتی ہے آپ ان کے ساتھ یہ رویہ رکھ کرکیاپیغام دے رہے ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران نے جلاس میں مسلسل نہ آنے پرصدر پاکستان میڈیکل کمیشن ڈاکٹرارشد تقی کامعاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیج دیا،نائب صدر پی ایم سی کو بلوچستان کے طلبہ کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ پر کمیٹی نے اگلے اجلاس میں طلب کرلیا۔کمیٹی نے سابقہ فاٹا کے لیے میڈیکل کالجوں میں مختص نشستوں کواگلے پانچ سال کے لیے بھی توسیع دینے کی سفارش کردی۔پیر کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کااجلاس چیئرمین سینیٹرہلال الرحمن کی زیرصدرات ہوا۔اجلاس میں سینیٹردنیش کمار، انور الحق کاکڑ، انور لال دین، بہرمندتنگی، صابر شاکر شاہ دوست محمد خان نے شرکت کی۔سابقہ فاٹا میں صحت شعبہ میں غیرمقامی لوگوں کوبھرتی کرنے پر کمیٹی نے بھرتی ہونے والوں کی تفصیلات شناختی کارڈنمبر سمیت طلب کرلیں کمیٹی نے کہاکہ سابقہ فاٹا میں صحت کے شعبہ میں غیرمقامی لوگوں کو بھرتی کیاگیاہے اگلے اجلاس میں تمام بھرتی ہونے والے ملازمین کے شناختی کارڈ بھی دیئے جائیں۔سینیٹربہرمندتنگی نے کہاکہ پی ایم سی والے کتوں سے برترسلوک میڈیکل کے طلبہ سے کرتے ہیں۔جس کی وجہ سے طلبہ خودکشیاں اور نشہ کی طرف چلے جاتے ہیں۔بلوچستان کے طلبہ نے کمیٹی کوبتایا کہ پی ایم سی کے افسر ان کا رویہ انتہائی تضحیک آمیز ہوتا ہے، ہم ایچ ای سی کے سامنے دھرنہ دے کر بیٹھے ہیں۔نائب صدرپی ایم سی ڈاکٹرعلی رضا سگریٹ پی کر ہمیں کہے رہاتھا کیا مسئلہ ہے 5منٹ میں مسئلہ بتائیں۔بلوچستان کے 6سو طلبہ کا کالج غیر رجسٹرڈ طلبہ کا نقصان ہورہاہے۔اب وہ کالج پی ایم سی میں رجسٹرڈ ہوگئے ہیں مگر ہم تیسرے سال کے طلبہ ہیں ہمیں رجسٹرڈ کیاجائے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پی ایم سی نے ویسے بھی ڈاکٹر کے لیے این ایل ای ٹیسٹ لے گی اگر ہم پاس نہیں کریں گے تو ہم پریکٹس نہیں کرسکیں گے۔طلبہ سے تضحیک آمیز رویہ رکھنے پر کمیٹی نے نائب صدرپی ایم سی علی رضا کو کمیٹی میں طلب کرلیا۔سینیٹرانور الحق کاکڑ نے کہاکہ بچوں کے ساتھ جو رویہ اختیار کیاگیا وہ افسوس ناک ہے آوارن میں لوگ الاعلان پاکستان کے خلاف ہیں پاکستان کے حق میں بات کرنیوالوں کو گولی ماردی جاتی ہے بچہ اس علاقہ سے آرہاہے مگر ہم ان کے ساتھ یہ رویہ رکھ رہے ہیں۔حکام پی ایم سی امداد علی نے کمیٹی کوبتایاکہ صدر پی ایم سی ڈاکٹرارشد تقی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس کی وجہ سے وہ کمیٹی میں نہیں آئے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ مسلسل تیسری بار وہ کمیٹی میں نہیں آرہے ہیں پچھلی مرتبہ بھی پی ایم سی حکام کے کہنے پرایجنڈا موخرکیاگیاکہ وہ اگلے اجلا س میں آئیں گے۔ ارکان کمیٹی نے کہاکہ تیسری مرتبہ صدر پی ایم سی کمیٹی میں نہیں آئے اس معاملہ کو استحقاق کمیٹی میں بھیج دیں کہ کیون وہ باربار کہنے کے باجود کمیٹی میں نہیں آرہے ہیں۔کمیٹی نے صدر پی ایم سی کامعاملہ استحقاق کمیٹی میں بھیج دیا کہ انہوں نے کمیٹی کااستحقاق مجروع کیاہے اب وہ استحقاق کمیٹی میں جواب دیں۔سینیٹردوست محمد خان نے کہاکہ 265سابقہ فاٹا کا کوٹہ ہے اس کو حل کیا جائے طلبہ دھرنہ دئیے ہوئے ہیں۔2011میں یہ کوٹہ پانچ سال کا تھا اس کے بعد اس میں 5سال اضافہ کیا گیا۔ہماری حکومت بھی اس میں مزید پانچ سال اضافہ کی خواہش مند ہے۔کمیٹی نے سفارش کردی کہ سابقہ فاٹا کامیڈیکل کالجوں میں 265سیٹوں کواگلے پانچ سال کے لیے بھی توسیع دی جائے۔سابقہ فاٹا کے طلبہ نے کمیٹی کو بتایا کہ 45دن سے ایچ ای سی کے سامنے دھرنہ دیا ہواہے۔انور الحق کاکڑ نے کہاکہ چیف سیکرٹری خدا بن گئے ہیں ایچ ای سی کو فون کرنا چاہیے کہ وہ کیوں نہیں کررہاہے اس کی وجہ سے بچے سفر(تکلیف)ہورہے ہیں۔کمیٹی نے تمام چیف سیکرٹریز کو خط لکھنے کی ہدایت کردی۔حکام ایچ ای سی نے کہاکہ میڈیکل سیٹوں کے حوالے سے سندھ، بلوچستان اورکشمیر کے چیف سیکرٹری نے جواب نہیں دیا۔انور الحق کاکڑ نے کہاکہ بتایاجائے کہ کونسل کا اجلاس کب ہوگا جس میں اس معاملہ کورکھاجائے گا۔پی ایم سی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کونسل اجلاس جتنا جلدی ممکن ہوگا کیاجائے گا۔انور الحق نے کہاکہ آپ جتنا جلدی ممکن ہو گا کریں گے اس کا بتائیں یہ سال لگے گا دہائیاں لگیں گیں ہمیں بتایا جائے۔کمیٹی تاریخ مانگ رہی ہے۔اس پر سیکرٹری سیفران نے کہاکہ آپ ہمارے افسران کو ہراساں نہیں کرسکتے ہیں۔ہمارے افسران کی بھی عزت کہ جائے۔انور الحق کاکڑ نے کہاکہ میں کسی کوہراساں نہیں کررہاہوں۔یہ افسران محترم ہیں ہماری عزت نہیں ہے۔بلوچستان کے لوگوں کو شہری سمجھتے ہوتے تو ان کا مسئلہ حل ہوجاتا۔کمیٹی نے ایچ ای سی حکام ہدایت کی کہ 265طلبہ کے کوٹہ کے حوالے سے آج ہی پی ایم سی کو لکھیں پی ایم سی حکام نے یقین دہانی کروائی کہ وہ اس حوالے سے سرکولیشن سمری کے ذریعے اس کوکونسل ممبران کوبھیج دیں گے اگر وہ منظوری دیں گے تو کوٹہ بحال کردیں گے،کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے اور وہاں سے منظوری لی جائے تاکہ پی ایم سی پر اس پر عمل کرناضروری ہوجائے۔سینیٹرصابر شاہ سیکرٹری سیفران کوکہاکہ اپ سیکرٹری پی ایم سی کے حق میں اس لیے بولے کہ وہ بھی سندھی ہے یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔پی ایم سی کی طر ف سے کونسل کی تاریخ نہ دینا کمیٹی سے مذاق ہے۔(م۔ا)

اپنا تبصرہ بھیجیں