سندھ ہائیکورٹ، لاپتہ افراد کی بازیابی اور اہلخانہ کی کفالت سے متعلق مختلف درخواستیں، وکلا سے تفصیلات طلب

کراچی:سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی اور اہلخانہ کی کفالت سے متعلق مختلف درخواستوں پر درخواستگزار کے وکلا سے تفصیلات طلب کرلیں،عدالت نے ریمارکس دیئے 15 دن کے اندر یہ تفصیلات دیں پھر ہم اس کو دیکھ کر حکم جاری کریں گے۔بدھ کوسندھ ہائی کورٹ میں جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں بینچ نے لاپتہ افراد کی بازیابی اور اہلخانہ کی کفالت سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت کی۔ دوران سماعت کمرہ عدالت میں لاپتا شہریوں کے اہلخانہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔ عدالت میں معزز جج سے ننھے بچے نے سوال کیا کہ میرے بابا کب واپس آئینگے۔ عدالت نے پولیس حکام سے استفسار کیا اپ لوگوں نے کیا کارروائی کی ہے لاپتا افراد کی بازیابی کیلئے۔ لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق کیس میں تفتیشی افسراں کی کارگردگی پر سندھ ہائیکورٹ نے سخت اظہار برہمی کیا۔ عدالت نے تفتیش افسر سے استفسار کیا کہ جو شہری لاپتہ ہے وہ کیا کام کرتا تھا۔صحیح جواب نہ دینے پر عدالت نے تفتیشی افسر پر اظہار برہمی کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ7،8سال سے لوگ لاپتہ ہیں مگر آپ نے ابھی تک تفتیش میں یہ پتا نہیں لگایا کہ وہ کیا کرتا تھا۔ آپ کے پاس اتنے اختیارات ہیں مگر آپ ان اختیارات کا استعمال کیوں نہیں کرتے۔ سالوں سے انکوائری چل رہی ہے مگر رزلٹ کچھ نہیں ملاتا۔ آپ لوگ کیا کام کرتے ہیں؟ آتے ہیں چائے پی کے چلے جاتے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ جن کے اپنے لاپتہ ہیں ان کا حق ہے جاننے کا بتائیں کہ انکے پیارے کہاں ہیں۔دوران سماعت ایک خاتون نے کہا کہ میرا شوہر سات سال سے لاپتہ ہے ایک ہی کمانے والا تھا۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ ہم معاوضے کے لئے آرڈر کریں گے۔ درخواستگزار کے وکلا نے موقف دیا کہ جو لوگ اتنے سالوں سے لاپتہ ہیں انکے گھر والوں کی کفالت کا حکم دیا جائے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ لاپتا شہریوں سے متعلق تفصیلات جمع کرائیں کہ وہ کیا کرتے تھے۔ کتنی انکم تھی اور ان کی فیملی میں کتنے افراد ہیں اخراجات کیا ہیں۔ عدالت نے درخواستگزار کے وکلا سے تفصیلات طلب کرلیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ 15 دن کے اندر یہ تفصیلات دیں پھر ہم اس کو دیکھ کر حکم جاری کریں گے۔ عدالت نے درخوستواں کی مزید سماعت 2 فروری تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں