حکومت کا فوجداری قوانین بدلنے کا فیصلہ
اسلام آباد (انتخاب نیوز+ مانیٹرنگ ڈیسک + ایجنسیز) تحریک انصاف کی حکومت نے فوجداری قوانین میں ترامیم لانے کا فیصلہ کرلیا جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے قوانین میں ترامیم وفاقی کابینہ اجلاس میں پیش کرنے کی منظوری دیدی۔بدھ کو وزیر اعظم عمران خان کے زیر صدارت یہاں قانونی امور پر اہم اجلاس ہواجس میں وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم سمیت وزارت قانون کے حکام نے بریفنگ دی۔ اجلاس میں وزیر اعظم نے فوجداری قوانین میں ترامیم کابینہ میں پیش کرنے کی بھی منظوری دی۔ وزیر اعظم کو حکام کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ تمام ٹیکس ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ا تفاق رائے سے فیصلہ سازی کی گئی ہے اور فوجداری قانون میں نئے جرائم و دفعات تجویز کیے گئے ہیں۔ اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ فوجداری نظام میں اصلاحات لے کر آرہی ہے اور فوجداری قوانین میں اصلاحات ملک میں قانون و آئین کی بالا دستی کے لئے ناگزیر ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت ملک کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اس نظام میں بڑی تبدیلیاں لے کر آرہی ہے جس کیلئے تمام اسٹیک ہولڈر کو اعتماد میں لے کر اتفاقِ رائے سے فیصلہ سازی کی گئی ہے،اسکے علاوہ قانون میں تبدیلی کیلئے بین الاقوامی سطح پر رائج بیسٹ پریکٹسس کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے۔نئے نظام میں ایف آئی آر کی ڈیجٹلائزیشن، ٹرائل کے طریقہ کار، اپیل، الیکٹرانک و ڈیجیٹل ذرائع سے شواہد اکٹھا کرنے، فوجداری نظام میں بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ جدید آلات کا استعمال، پلی بارگین کے طریقہ کار میں تبدیلی، وڈیو کو شواہد کے طور پر استعمال کرنا شامل ہیں۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ فوجداری قانون میں نئے جرائم و دفعات تجویز کی گئی ہیں جن میں خواتین کے تحفظ کے قوانین جیسے Stalking of Women offence بھی شامل ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پی پی سی اور سی آر پی سی میں ترامیم بھی ان اصلاحات کا حصہ ہیں،مجوزہ ترامیم کا بل جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا جس کی منظوری کے بعد نہ صرف جرائم کی روک تھام میں بہتری آئے گی بلکہ ایسے جرائم پیشہ لوگ جو جدت آنے کے بعد پرانے نظام میں سزائیں نہ ہونے کے باعث قانوں کی گرفت سے باہر تھے ان کے خلاف بھی موثر کارروائی ممکن ہو سکے گی۔ وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم اور پارلیمانی سیکرٹری،وزارتِ قانون ملیکہ بخاری اور قانونی ماہرین کی ٹیم کی کوششوں کو سراہا اور اصلاحات کو ملک میں قانون کی بالا دستی کیلئے ناگزیر قرار دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ قانون کی بالادستی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،وقت کے ساتھ ساتھ فوجداری نظام میں انتہائی اہم تبدیلیاں نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں امیر اور غریب کیلئے قانون میں فرق بڑھتا گیا،حکومت ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ فوجداری نظامِ انصاف میں اصلاحات لے کر آرہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اصلاحات کے نفاذ سے حکومت کے قانون کی بالادستی کے منشور کو عملی جامہ پہنایا جا سکے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا میں کورونا کی ایک اور لہر آ رہی ہے تاہم حکومت معیشت، کاروبار کو بند نہیں کرے گی بلکہ حکمت عملی کو مزید بہتر بنا کر کورونا کے چیلنج کا سامنا کریں گے، حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ معیشت اور بر آمدات میں رکاوٹ ڈالے گا اس کے خلاف ایکشن لیں گے، ہمیں شرم آتی ہے کہ چھوٹا سا 50لاکھ کی آبادی والے ملک سنگاپور کی بر آمد ات 300ارب ڈالر سے زیادہ ہیں جبکہ 22کروڑ کی آبادی والے ہمارے ملک کی ایکسپورٹس صرف 24ارب ڈالرز ہیں، بیورو کریسی نے کام کرنا چھوڑ دیا جس کی وجہ سے ہم آہستہ آہستہ نیچے جانے لگے ہیں،سب سے قابل بیورو کریسی میں سیاسی مداخلت اور دیگر خرابیاں ہو گئیں،60کی دہائی میں خطے میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تھا اور باہر ملکوں سے شہزادے ہماری درس گاہوں میں آئے تھے لیکن بدقسمتی سے ہم اپنا راستہ بھول گئے، ہماری حکومت ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا ہے، 6ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کرلیا ہے اور 8ہزار ارب کے ٹارگٹ کو پورا کریں گے۔ وہ بدھ کو یہاں اسلام آباد میں سمال میڈیم انٹر پرائز ز پالیسی 2021کے اجراء کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ سمال اینڈ میڈیم انڈسٹری معیشت کی ترقی کیلئے بہت اہم ہے، لیکن آج تک ملک میں ایس ایم ایز سیکٹر کو اہمیت نہیں دی گئی، ایس ایم ای سیکٹر ہی ملک میں سب سے زیادہ روزگار فراہم کرتا ہے۔


