،ہم ایسی جمہوریت چاہتے ہیں جس کے پیٹھ پیچھے بندوق کا کوئی عمل دخل نہ ہو،عوامی نیشنل پارٹی
کوئٹہ :عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماوں نے کہاہے کہ ہم اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام، عوام کے حق حکمرانی کے حصول اور ملک کو عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے آزاد کرانے کے لئے مرتے دم تک جدوجہد کریں گے اس وقت ملک میں جمہوریت نہیں ہے بلکہ یہ جمہوریت کے نام پر مارشل کی ایک خطرناک قسم ہے جس کا ہم راستہ روکیں گے،ہم ایسی جمہوریت چاہتے ہیں جس کے پیٹھ پیچھے بندوق کا کوئی عمل دخل نہ ہو بلکہ عوام کی قوت ہو، عمران خان سلطنت عثمانیہ کی طرح ہمارا مالیاتی اور اقتصادی اختیار عالمی اداروں کو سونپ چکے ہیں،پشتونوں کی سرزمین پر نئی جنگ شروع کی جارہی ہے پشتونوں پرایک بار پھر تجربے کئے جارہے ہیں اور یہ تجربے ہمیشہ ناکام ثابت ہوئے ہیں ہم صوبہ پشتونخوا کی طرز پر بلوچستان کے بچوں کے لئے بھی اچھے تعلیمی ادارے اورطبی مراکز چاہتے ہیں کسی بھی صورت اپنی جدوجہد اور اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے بلکہ مرتے دم تک اپنے عوام اور اپنی سرزمین کی ترجمانی اورنمائندگی کرتے رہیں گے۔ ان خیالات کااظہار عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین صوبائی صدر وصوبائی پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی صوبائی وزیر انجنئیر زمرک خان اچکزئی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل صاحب جان کاکڑ ضلعی صدر جمال الدین رشتیامرکزی نائب صدر ملک عثمان اچکزئی پارلیمانی سیکرٹری ملک نعیم خان بازئی رکن صوبائی اسمبلی شاہینہ کاکڑ مرکزی جوائنٹ سیکرٹری رشیدناصرچئیر مین نیشنل لائرز فورم ارباب غلام ایڈوکیٹ صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری عبدالباری اغاضلعی سیکرٹری نظرعلی شان عالم کاکڑ سیدخلیل آغاحاجی نورمحمدعرف قبائلی نے عوامی نیشنل پارٹی ضلع کوئٹہ کے زیراہتمام کوئٹہ پریس کلب میں باچاخان کی 34ویں برسی خان عبدالولی خان کی 16ویں برسی کے موقع پریاد ریفرنس سے خطاب کے دوران کیا اس موقع پر حاجی نور محمد رخشانی عرف قبائل نے سینکڑوں ساتھیوں سمیت ایک سیاسی جماعت سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت کااعلان کیاجبکہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے سابق صوبائی صدر سید خلیل آغا ساتھیوں سمیت اے این پی میں شامل ہوگئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی قیادت اور صوبائی پارلیمانی پارٹی کوسراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں پارٹی کی پارلیمانی نمائندگی انتہائی محدود ہے لیکن سب سے زیادہ حقیقی عوامی نمائندگی ہمارے اراکین اسمبلی کررہے ہیں آج ہم جن عظیم شخصیات کوخراج عقیدت پیش کرنے کے لئے اکھٹے ہوئے ہیں ان کی جدوجہد، خدمت اور قربانیوں کی پوری دنیا معترف ہے ہمیں آج جن باتوں کا خیال رکھنا چاہئے ان میں سب سے پہلی بات یہ ہونی چاہئے کہ ہم ہر حال میں تنظیم کو اہمیت اور اولیت دیں افراد سے زیادہ تنظیم اہم ہوتی ہے ہر انسان ہمارے لئے قابل احترام ہے لیکن تنظیمی ڈھانچہ مضبوط ہوگا تو ہم اپنے نظریے کا بھی پرچار کرسکتے ہیں پارلیمانی نمائندگی بھی کرسکتے ہیں اور اپنے عوام کی امیدوں اور توقعات پر پھی پورا اترسکتے ہیں دوسرا بنیادی نکتہ پارٹی کی فعالیت کا ہے ہمیں پارٹی کی فعالیت کو یقینی بنانا ہوگا اور اس کے لئے ہم اپنے کارکن کو جتنی عزت دیں پارٹی اور پشتون قوم کے لئے مفید ہے ہماری تحریک اسی طرح مضبوط ہوگی بہت سے لوگوں نے بہت سازشیں اور کوششیں کیں کہ کسی طرح یہ تحریک ختم ہو یا کمزور ہو لیکن مشران کے فکر فلسفے اور کارکنوں کی محنت اور قربانیوں کی بدولت تمام سازشیں ناکام ہوئیں اورہماری تحریک انتہائی کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے جس کے لئے میں بطور مرکزی نائب صدر عوامی نیشنل پارٹی اور اس کی تنظیموں کے تمام کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں تیسری بات جو غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت یہ میری بھی ذمہ داری ہے اور پارٹی کے تمام کارکنوں کی بھی یہ ذمہ داری اور فرض ہے کہ ہم اپنے اولس اوراپنی سرزمین کی حقیقی ترجمانی کریں اس کے لئے آواز بلند کریں ااس وقت ایک بار پھر یک اور پرائی جنگ ہم پر مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے پشتونوں کی سرزمین پر ایک نئی جنگ شروع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ پشتونوں کو مارنا بھی چاہتے ہیں اور قصور وار بھی ٹھہرانا چاہتے ہیں لوگ چاہتے ہیں کہ باچاخان بابا اور خان عبدالولی خان کی کوششوں اور جدوجہد سے ہم نے جو کامیابیاں حاصل کیں بھلے وہ 1973کا متفقہ آئین ہو یا پھر ا ٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی کی شکل میں ملنے والے اختیارات ان سے ہمیں محروم کیا جائے۔ ہم پر ایک بار پھر تجربے کئے جارہے ہیں اور یہ تجربے بہت خطرناک ہوتے ہیں۔ان حالات کا تقاضہ اور ہماری سوچ نظریہ اور فکر یہ تقاضہ کرتی ہے کہ اپنے عوام اور اپنی سرزمین کی ترجمانی کریں اپنے وسائل کا دفاع کریں اگر صوبہ پختونخوا کے ساتھ بجلی کی مد میں ناانصافی ہوتی ہے تو اس پر بھی آواز بلند کریں اور بلوچستان کے وسائل کی بھی بات کریں بلوچستان کے بچوں کو بھی اچھی تعلیم اور بہتر طبی سہولیات چاہئیں ہم نے پختونخوا صوبے میں تعلیمی ادارے قائم کئے جس کی ایک مثال عبدالولی خان یونیورسٹی ہے جسے قائم ہوئے ابھی قلیل عرصہ ہوا ہے لیکن ہر سال پاکستان کی اچھی جامعات کی رینکنگ میں یہ پہلے نمبروں پر آتی ہے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پختونخوا کی طرح یہاں بلوچستان کے عوام کی بھی بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر نے پچھلے سو سال میں بہت بڑی ہستیوں کو جنم دیا ہے لیکن پچھلے سو سال اور آنے والے سو سال بعد بھی باچاخان جیسا کوئی لیڈر نہیں آئے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے باچاخان اور خان عبدالولی خان کو بھرپور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ باچاخان کی فکر شخصیت اور جدوجہد نہ صرف ہم پشتونوں کے لئے بلکہ پوری دنیا کے لئے روشن مثال اور مشعل راہ ہے ملنگ بابا پشتونوں کے دلوں میں رہنے والے بادشاہ ہیں اسی لئے انہیں فخر افغان باچاخان کہا جاتا ہے۔ ان کے دل میں پشتونوں کا درد بھی تھا اور اس درد کے علاج کے لئے انہوں نے اس کی تشخیص کرکے علاج بھی کیا۔ پشتونوں کے مرض کی تشخیص باچاخان نے کی اور اس تشخیص کی بنیاد پر علاج کیا۔باچاخان نے نااتفاقی کا علاج کیا جہالت کا علاج کیا ایک منظم تنظیم بنا کر دی اور عدم تشدد کا عظیم فلسفہ دیا جس کی ضرورت آج پوری دنیا محسوس کررہی ہے باچاخان بابا نے منظم تنظیم اور جدوجہد کی بدولت انگریزوں کو اس خطے سے نکالا انہوں نے ملک میں جمہوریت کے قیام کے لئے لازوال جدوجہد کی اسی جدوجہد کو خان عبدالولی خان نے آگے بڑھایا لیکن افسوس آج ملک میں جمہوریت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں جونظام ہے یہ جمہوریت نہیں ہے بلکہ یہ مارشل لاکی ایک خطرناک شکل ہے ہم جمہوریت اسے مانتے ہیں جس کے پیچھے بندوق نہ ہو بلکہ عوام کی قوت ہو جہاں وزیراعظم اشاروں پرنہ ناچتا ہوں ہم ان حالات کا مقابلہ کریں گے اصلی جمہوریت لائیں گے۔ اصلی وزیراعظم لائیں گے یہ ہماری ڈیوٹی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت پورے ملک کو عالمی اداروں کے پاس گروی رکھ دیا گیا ہے ایسے معاہدے کئے گئے ہیں جن کی بدولت عالمی ادارے جب چاہیں ملک میں مہنگائی لاسکتے ہیں سٹیٹ بینک ہمارے اختیار میں نہیں رہا دنیا کی تاریخ میں کبھی کسی ملک نے اپنا اقتصادی اور مالیاتی اختیار ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کو نہیں دیا دنیا کی تاریخ میں واحد مثال سلطنت عثمانیہ کی ہے جس نے اپنا مالیاتی اختیار عالمی اداروں کو دیا اور نتیجہ پوری دنیا نے دیکھ لیا آج عمران خان سلطنت عثمانیہ کی نقل اتاررہا ہے ہم اس کی راہ روکیں گے ملک کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے چنگل سے چھڑائیں گے غلامی سے نجات دلائیں گے اور اس کے لئے مرتے دم تک جدوجہد کریں گے اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے فخرافغان باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کو ان کی برسی پر زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان اکابرین کی فکر اور سیاست ہمارے لئے مشعل راہ ہیآج پشتون وطن اور قوم کیآخری امید اے این پی،فکر باچاخان اور باچاخان کی سیاست ہے پشتون قوم نے ہم سے جو امیدیں وابستہ کرکھی ہیں انشااللہ ہم انہیں مایوس نہیں کریں گے انہوں نے ضلع کوئٹہ کی تنظیم کو کامیاب پروگرام پر مبارکبادکرتے ہوئے کہا کہ منظم اور فعال تنظیم ہی کے ذریعے ہم موجودہ حالات کا مقابلہ کرسکتے ہیں کارکنوں کو چاہیے کہ وہ فکر باچاخان کو سامنے رکھتے ہوئے تنظیم کو مضبوط اور فعال کرنے کیلئے دن رات محنت کریں اور یہاں پر قوم اور اسلام کے نام پر جو جعلی لوگ مسلط ہیں عوام کو اس کا اصل چہرہ دکھائے انہوں نے کہاکہ کوئٹہ اور دیگر اضلاع کے کارکن آج ہرنائی میں ہونے والے جلسہ عام کو بھرپورانداز میں شرکت کریں۔


