نیشنل پارٹی خواتین ونگ کا ریکوڈک کے خفیہ معاہدے کیخلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

احتجاجی مظاہرے میں شریک کارکنوں نے ریکوڈک کے مبینہ معاہدے اور لوٹنے کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔کارکنوں نے ریکوڈک معاہدے کے خلاف احتجاجی بینرز و پلے کارڈز بھی اٹھائے تھے۔
اس موقع پر نیشنل پارٹی کے صوبائی خواتین سیکرٹری کلثوم نیاز بلوچ اور پارٹی رہنما سلمہ قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا مظاہرہ نیشنل پارٹی کے مرکزی کال کے مطابق ریکوڈک بچاؤ تحریک کی تسلسل ہے۔ نیشنل پارٹی بلوچستان کے وسائل پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرسکتا۔کلثوم نیاز بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے ہمیشہ بلوچستان کے وسائل پر قابض ہونے کی پالیسی جاری رکھی ہے۔سوئی گیس بلوچستان سے نکلی اور ملک کے کونے کونے تک پہنچ گئ لیکن خود سوئی سمیت بلوچستان کے اکثریتی اضلاع گیس سے ابھی تک محروم ہیں۔سیندک کی قیمتی وسائل کو اونے پونے فروخت کیا گیا اور اس کو اس بےدردی سے لوٹا گیا جیسا مال غنیمت میں ملا ہو۔سیندک سے بلوچستان کو کچھ نہیں ملا۔سی پیک کو گیم چینجر کہا جاتا ہے اور اس کو ملک میں معاشی انقلاب قرار دیا جارہا ہے۔لیکن سی پیک کے محور گودار ہے اور گوادر میں انقلاب کجا الٹا ماہی گیروں کی روزی روٹی کو بھی چینا جارہا ہے۔گوادر کے عوام صاف پانی تو اپنی جگہ عام پانی سے بھی محروم ہے۔اور بنیادی حق و ضروریات کی بات کی جائے تو ہر جگہ عوام کو فورسز کے ہاتھوں ذلیل کیا جاتا ہے۔نوجوانوں کو لاپتہ کیا جاتا پے۔انہوں نے کہا کہ اب ریکوڈک پر حکمرانوں کی نذر ہے۔موجدہ حکومت نے ملک کو مکمل طور پر معاشی طور پر دیوالیہ بنا دیا ہے اور اپنی ناکامی کو چھپانے کےلیے ریکوڈک کو غصب کرنا چاہتا ہے۔لیکن ہم اس ملک کے حکمرانوں کو باور کراتے ہیں کہ نیشنل پارٹی بلوچ و بلوچستان کی نمائندہ قومی جماعت ہے اور وہ بلوچستان کے وسائل کو کسی کو لوٹنے نہیں دے گی۔اس موقع پر نیشنل پارٹی کے ممبران مرکزی کمیٹی نیاز بلوچ ستار بلوچ صوبائی ترجمان علی احمد لانگو صوبائی یوتھ سیکرٹری نعیم بنگلزئی صوبائی لیبر سیکرٹری منظور راہی ممبر ورکنگ کمیٹی انیل مسیح بلوچ چیر مین گہرام بلوچ ضلعی خواتین سیکرٹری قلات ماہرہ ستار لانگو سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں