بلوچستان میں ایک بااختیار نظام لائیں گے،شاہ محمود قریشی

ملتان:وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ صدارتی نظام قیاس آرائی ہے اور ایسی پتنگیں اڑتی رہتی ہیں،ہم مہنگائی سے واقف ہیں،اسے کم کرنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں، مانتے ہیں حالات مشکل ہیں اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا،چین اور سعودی عرب کی مدد کے باوجود ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، ہم پْرامید ہیں، یہ سال معاشی ریکوری اور اگلا سال خوشحالی کا ہوگا،2023 میں سرپرائز دیں گے،پاکستان کے دشمن ملک میں عدم استحکام اور انتشار چاہتے ہیں،ان کے عزم ناکام ہوں گے، ہم دہشتگردوں کو سر اٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صدارتی نظام کے نفاذ کی خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں، یہ پتنگ اڑتی رہتی ہے، پتنگ نہ اڑائیں تو کام کیسے چلے گا۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض لینے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمیں آئی ایم ایف کی شرائط اس لیے ماننا پڑیں کیونکہ معیشت میں سکت نہیں تھی کہ گزشتہ حکومت کا چھوڑا گیا 20 ارب ڈالر کا خسارہ پورا کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے چین، سعودی عرب سمیت اپنے دوست ممالک سے مدد لی لیکن اس کے باوجود ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔انہوں نے کہاکہ ہمیں لوگوں کی مشکلات اور بڑھتی مہنگائی کا پورا احساس ہے، ہم اس سے غافل نہیں ہیں لیکن گزشتہ دو سالوں میں ایسے اقدامات لیے گئے جس سے معاشی استحکام کی کوشش کی گئی، اللہ کے کرم سے معاشی استحکام پیدا ہوا ہے اور اب معیشت بحالی کی جانب بڑھ رہی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی بینک کے جاری کردہ سروے کے مطابق پاکستان کی معاشی ترقی آج 5.37 فیصد پر ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا جو طرہ امتیاز تھا وہ یہ تھا کہ ان کے دور میں معیشت نے 5 فیصد سے ترقی کی اور اب کورونا وائرس کے دوران سفری و تجارتی پابندیوں اور کاروباری مراکز کی بندش کے باوجود ہمارے دور میں معیشت نے ترقی کی ہے۔انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس کے دوران ہماری جی ڈی پی کی شرح بڑھتی جارہی تھی لیکن فی الحال اس میں 83 فیصد کی کمی آئی ہے اور ہماری کوشش ہوگی کہ آئندہ چند سالوں میں ہم اسے فِسکل ایکٹ کے مطابق ڈھال لیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں ہماری فی کس آمدنی 547 ڈالر تھی جو آج بڑھ کر ایک ہزار 666 ڈالر ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ بے شک حالات مشکل ہیں لیکن ہمارا یہ سال معاشی بحالی جبکہ اگلا سال معاشی ترقی کا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ جہاں تک دہشت گردی کا سوال ہے تو پاکستان نے جواں مردی سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا، ہماری مسلح افواج نے، پولیس نے اور ہمارے شہریوں نے ایک نیشنل پلان پر اتفاق رائے پیدا کیا اور اس میں ہمیں بہت کامیابی ہوئی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ حال ہی میں دہشت گردی کے ایک، دو واقعات سامنے آئے ہیں لیکن اس کے سامنے ہم نے ہتھیار ڈالے ہیں نہ ڈالیں گے اور وہ لوگ جو پاکستان میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں ان کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ اللہ پر، اپنے عوام پر اور اپنی افواج پر پورا بھروسہ ہے کہ ہم دہشت گردوں کو سر اٹھانے کی اجازت نہیں گے۔پیپلز پارٹی کے کسان مارچ کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ احتجاج ان کا سیاسی حق ہے، بلاول بھٹو صاحب نے اعلان کیا ہے کہ وہ 27 فروری کو کراچی سے پنجاب کی جانب سے آئیں گے اور پاکستان تحریک انصاف نے بھی پنجاب سے کراچی جانے کا اعلان کیا ہے تو راستے میں کہیں ملاقات ہوجائے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں نے پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے جنوبی پنجاب منصوبے کے دیرینہ مطالبے کو عملی جامع پہنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے جنوبی پنجاب کو اپنے منشور کا حصہ بنایا اور وہاں نچلی سطح پر اختیارات منتقل کیے اور تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ جنوبی پنجاب کے لیے مقرر کردہ رقم اس پر ہی لگائی اور شمالی پنجاب اور جنوبی پنجاب کیلئے الگ، الگ منصوبے شروع کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ جنوبی پنجاب کی آبادی کے مطابق پنجاب میں ملازمت کا 32 فیصد کوٹہ جنوبی پنجاب کے لیے مختص کیا جائے گا۔وزیر خارجہ نے کہاکہ یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ میں کہا تھا کہ ہمیں سیکریٹریٹ نہیں بلکہ صوبہ چاہیے، جس کی وجہ سے انہیں خط لکھا اور کہا کہ ہم جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانا چاہتے ہیں، کیا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ہمارا ساتھ دیں گی۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بنانے کیلئے پارلیمنٹ کا تعاون درکار ہے، اگر وہ تعاون کرتے ہیں تو ہم اس صوبے کا سہرا انہیں دینے کو تیار ہیں، انہیں کوئی ہچکچاہٹ ہے تو میں جنوبی پنجاب کے اراکین قومی اسمبلی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنی قیادت کو قائل کریں۔سندھ کے بلدیاتی قوانین نے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت سندھ صوبے میں بے اختیار نظام لانا چاہتی ہے جس کی وجہ سے سندھ کے عوام، سیاسی جماعتیں اور دیگر سراپا احتجاج ہیں اور انہوں نے اس نظام کو مسترد کردیا ہے، ہم پنجاب اور بلوچستان میں ایک بااختیار نظام لائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں