وزیر اعظم،چیئر مین سینیٹ،واسپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر مشاورت،نمبرز گیم پورے ہیں،ایاز صادق

اسلام آباد:مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا ورچوئل اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، چیئرمین سینیٹ کیخلاف عدم اعتماد لانے پر مشاورت کی گئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں مولانا عبدالغفورحیدری، میر کبیر شاہی، احسن اقبال، حافظ عبدالکریم، سکندر شیر پاؤ شریک ہوئے۔اجلاس میں لانگ مارچ کی تیاری اور خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے پر غور اور پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی رپورٹ اور الیکشن کمیشن کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔اس کے علاوہ اجلاس میں منی بجٹ،ا سٹیٹ بینک ترمیمی بل اور ای وی ایم مشین کے استعمال کا معاملہ بھی زیر بحث آیا جب کہ صدارتی نظام پر چھیڑی جانے والی بحث پر سفارشات تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں شرکاء نے لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل نہ کرنے کی سفارش کی جبکہ تحریک عدم اعتماد کیلئے پی ڈی ایم قیادت کو غور کرنے کا کہا گیا۔ اجلاس میں فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کا فیصلہ بھی کیا گیا۔اسلام آباد (انتخاب نیوز) سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار ایاز صادق نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے کے لئے متفق ہے۔ اس سلسلے میں پیپل زپارٹی اور ن لیگ ایک پیج پر ہیں۔ نمبرز گیم پورا ہیں تاہم عدم اعتماد کب پیش کی جائے۔ اس کا فیصلہ قیادت کرے گی ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ان۔۔۔ تبدیلی بحران کا حل نہیں ہے کیونکہ حالات اتنے گمبھیر ہیں کہ آنے والی حکومت عمران خان حکومت کے مسائل اپنے نام نہیں کرسکتی لہٰذا عام انتخابات ہی بحران کا حل ہیں۔ زرداری نے کہا کہ بحران اتنا بڑا ہے کہ کوئی ایک جماعت ان سے نہیں نمٹ سکتی بلکہ تمام جماعتوں کو مل کر بحران کا حل ڈھونڈنا ہوگا۔ سردار ایاز صادق نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کا اس وقت باپ پارٹی جی ڈی اے اور دیگر جماعتوں سے رابطہ ہے۔ پی ٹی آئی کے ان 25 اراکین بھی ساتھ دینے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک کو ناقابل بیانمسائل میں گرفتار کیا ہے اور اس میں صلاحیت نہیں کہ اب ملک کو موجودہ صورتحال سے نکالے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف بھی واپس آنے کیلئے تیار ہیں تاہم ابھی یہ طے نہیں آپ کونسی تاریخ کو آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو معلوم ہے کہ واپسی پر وہ جیل جائیں گے۔ اس کے باوجود وہ واپس آنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کی

اپنا تبصرہ بھیجیں