حکومت میں اوپر والی سطح پر تین سالوں میں بالکل کرپشن نہیں ہوئی، اسد عمر
لاہور:وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ نیب کو چھوٹے کیسز کی بجائے بڑے کیسز کو منطقی انجام تک پہنچاناچاہیے،نیب کو ہر کیس کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں، نیب کے ہر طرح کرپشن کو دیکھنے سے چیزیں پھیل گئیں، بڑے کیسز میں نصاف ہوتا نظرآئے تو پھر چھوٹے لوگوں کے پیچھے جانا چاہیے۔انہوں نے کہاہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل رپورٹ کو مختلف طریقے سے دیکھ سکتے ہیں، پاکستان میں کرپشن ہے بالکل ہے، بڑے بڑے چوروں کو سزائیں مل رہی ہیں نہیں مل رہی، کرپشن کی حقیقت ہے، لوگ تین سال سے دیکھ رہے ہیں کہ کسی لیڈر کے چپڑاسی اور فالودے والے پاس اربوں روپے نکل رہے ہیں، لیکن سزائیں نہیں ہورہے، عمران خان کے مخالف بھی یہ نہیں سمجھتے کہ عمران خان کرپشن کررہا ہے یا کرپشن کی اجازت دے رہا ہے؟کرپشن اوپروالی سطح پر بالکل نہیں ہے، بلکہ کم ہوئی ہے، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کرپشن کو نشاندہی نہیں کررہے بلکہ وہ کہہ رہے کہ آزادی صحافت پر قدغن ہے، عدلیہ آزاد نہیں، پچھلے دوتین سال سے باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے، انڈیا کی مہم پوری طرح ایکسپوز بھی ہوئی ہے، یہ چیزیں حقیقت کے قریب نہیں ہیں، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل رپورٹ میں نام تو کرپشن ہے لیکن وہ چیزیں نہیں ہیں۔ہمیں ان پر نہیں ہے کہ وہ ہمیں کتنے اسکور دے رہے ہیں، اصل میں کرپٹ لوگوں کو عبرت کا نشان بننا چاہیے۔ حکومت نے درست فیصلہ کیا کہ احتساب کا ادارہ آزاد ہونا چاہیے، نیب ایک خودمختار ادارہ ہے، شہبازشریف کا کیس دیکھ لیں، چپڑاسی کے اکانٹ سے اربوں روپے نکلے ہیں، کیس لٹکا ہوا ہے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ادارے حکومت کے کنٹرول میں ہے، لیکن نیب میں حکومتی مداخلت نہیں ہے، حکومت کو وسائل دینے میں مدد کرسکتی ہے لیکن مداخلت نہیں کررہی،نیب نے پاکستان میں ہرطرح کی کرپشن کو دیکھنا شروع کردیا ہے، جس سے چیزیں پھیل گئی ہیں،نیب کو ہر کیس کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ نیب کو چاہیے بڑے بڑے کیسز کو منطقی انجام تک پہنچائے،جب انصاف ہوتا نظرآئے تو پھر چھوٹے لوگوں کے پیچھے جانا چاہیے۔


