کابینہ اجلاس، پلاننگ کمیشن کے رولز کی خلاف ورزی، وزراء نے احتجاجاً واک اؤٹ کیا،ظہور بلیدی کا دعویٰ
کوئٹہ:صوبائی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میر ظہور احمدبلیدی نے دعویٰ کیاہے کہ کابینہ اجلاس میں پلاننگ کمیشن کے رولز کی خلاف ورزی پر متعدد وزراء نے احتجاج کرتے ہوئے کابینہ اجلاس سے واک آؤٹ کیاکابینہ نے 30بلین روپے کے منصوبوں کو رواں پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کی منظوری دی جس کی ترقیاتی منصوبوں پر اثرانداز ہونگی۔گزشتہ روز بلوچستان کی کابینہ اجلاس کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں صوبائی وزیر برائے پی اینڈ ڈی میر ظہوراحمدبلیدی نے 17محکموں کے 1232اسکیمات کی لسٹ شیئر کرتے ہوئے کہاکہ آج کے کابینہ اجلاس میں متعدد وزراء نے پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے رولز اور پی ایف ایم ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 30.88ارب روپے کے منصوبوں کو پی ایس ڈی پی برائے سال2021-22ء میں شامل کرنے کے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔یہ اقدام تیسری سہ ماہی پر نہ صرف اضافہ بوجھ ڈالے گا بلکہ اس کے ترقیاتی اسکیمات پر بھی اثرات مرتب ہونگے۔واضح رہے کہ 1232اسکیمات 17مختلف محکموں جن میں زراعت،سی اینڈ ڈبلیو، کالجز،ثقافت،توانائی،صحت، انڈسٹریز،ایری گیشن،ایل جی،افرادی قوت، اقلیتی امور،پی ایچ ای،مذہبی امور،سیکنڈری ایجوکیشن،سوشل ویلفیئر اور محکمہ کھیل سمیت ملٹی سیکٹرل منصوبے شامل ہیں۔


