پاکستان میں 22ہزارسرکاری ملازمین کے دوہری شہریت رکھنے کا انکشاف
اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ میں انکشاف ہواہے کہ پاکستان میں 22ہزارسرکاری ملازمین دوہری شہریت رکھتے ہیں،کمیٹی نے سرکاری ملازمین کی دوہری شہریت پر پابندی سے متعلق بل ”سول سرونٹس ترمیم بل“ پر سیکرٹری کابینہ ڈویژن او رسیکرٹری داخلہ کوجمعرات کواجلاس میں طلب کرلیا،سیکرٹری کابینہ کے اجلاس میں نہ آنے پر کمیٹی نے شدید برہمی کااظہارکیا،سنٹرل سلیکشن بورڈ پر حکومتی سینیٹراوروزیر آمنے سامنے آگئے حکومتی سینیٹر زرقاتیمور نے کہاکہ سنٹرل سلیکشن بورڈ پرمیرٹ کی پامالی اورمن پسندافسران کو ترقی دی گئی اس لیے کمیٹی کوبورڈ اجلاس کے منٹس اور افسران کے سکورکارڈز نہیں دیئے جارہے ہیں۔وزیرمملکت علی محمدخان نے کہاکہ بورڈ میں میرٹ کی پامالی کی گئی ہے یہ ہمارے ساتھ پارلیمان پر بھی الزام ہے کہ سینیٹرسیف اللہ خان نیازی اس بورڈ کاحصہ تھے۔سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے کمیٹی کوبتایاکہ سنٹرل سلیکشن بورڈ کے منٹس اور افسران کے سکورکارڈز کلاسیفائیڈ ہیں کمیٹی کونہیں دے سکتے،ترقی نہ ملنے پرعدالت میں جانے والے افسران نے بھی انہی چیزوں کے لیے عدالت میں اپیل کی ہے۔چیئرمین کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کوہدایت کہ جمعرات دس فروری کوسنٹرل سلیکشن بورڈ کے کلاسیفائیڈ منٹس اور افسران کے سکور کارڈز کمیٹی دیئے جائیں کمیٹی اجلاس ان کیمرہ ہوگا تاکہ یہ معلومات افشاء نہ ہوں۔ جمعرات کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین رانا مقبول احمد کی سربراہی میں ہوا۔اجلاس میں سینیٹر سعدیہ عباسی،افنان اللہ،دلاور خان،خالدہ اطیب،سیف اللہ سرور خان نیازی،طلحہ محمود،کامل علی آغا اور سینیٹر زرقا تیمور نے ان لائن شرکت کی جبکہ وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمدخان اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ودیگر حکام نے شرکت کی۔سول سرونٹس ترمیمی بل 2021پر کمیٹی کوسیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے بتایاکہہم سول سرونٹ ترمیمی بل 2021کی ہم مخالفت کرتے ہیں اس پر وزارت داخلہ کو بھی سن لیا جائے۔ یہ بل نئے بھرتی ہونے والوں کے حوالے سے ہے۔ڈاکٹر افنان اللہ نے کہاکہ اس بل کی وجہ سے کتنے لوگ متاثر ہوں گے بیوروکریسی کوصرف اس بل میں رکھا جائے کیوں کہ ان کے پاس حساس معلومات تک رسائی ہوتی ہے باقی ڈاکٹر اور اساتذہ اگر دوہری شہریت رکھتے ہیں تو اس کا زیادہ نقصان نہیں ہوتا ہے۔سینیٹر طلحہ محمود نے کہاکہ دوہری شہریت کے حوالے سے کمیٹی کیا فیصلہ کررہی ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ 22ہزار ملازمین کی دوہری شہریت ہے۔ دوہری شہریت پر سپریم کورٹ نے کوئی فیصلہ دیا ہے ہم نے وزارت سے وہ فیصلہ مانگاہے اس کے بعد اس بل پر کمیٹی رائے دے گی۔وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمدخان نے کہاکہ ملک کے مستقبل کے فیصلہ پارلیمان نے کرنے ہیں اگر پاکستان کی ریاست کا ملازم ہے اس نے حلف لیا ہے وہ کس طرح دوسرے ملک کی شہریت لیتا ہے۔سیکرٹریوں کو سیاسی فیصلے نہیں کرنے ہیں یہ فیصلے پارلیمان نے کرنے ہیں۔سرکاری ملازم کا دوہری شہریت نہیں ہونی چاہیے۔اب فیصلہ کرنا ہے کہ کمیٹی قومی اسمبلی کے ساتھ ہے کہ نہیں۔یہ تاریخ ساز فیصلہ ہوگا۔ایک وقت میں دو جگہ وفاداری نہیں ہوسکتی ہے۔کمیٹی نے بل پر مزید بحث موخر کرتے ہوئے جمعرات 10جنوری کواجلاس طلب کرتے ہوئے سیکرٹری کابینہ ڈویژن اور سیکرٹری داخلہ کوکمیٹی میں بل پر رائے دینے کے لیے طلب کرلیاجبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کوہدایت کی کہ وہ دوہری شہریت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی نقل کمیٹی کوفراہم کریں گے۔کمیٹی نے سیکرٹری کابینہ کے نہ آنے پر کمیٹی کا شدید برہمی کا اظہار کیا۔اگلے اجلاس میں سیکرٹری کابینہ اور داخلہ کمیٹی میں لازمی شرکت کریں۔سنٹرل سلیکشن بورڈکے حوالے سے ایجنڈے پرسینیٹردلاورخان نے کہاکہ میرے پاس کئی لوگ آئے وزیراعظم عمران خان کی پالیسی ہے کہ اچھے لوگوں کو ترقی دی جائے۔دسمبر میں جن کا سنٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس ہواہے اس کو دیکھا جانا چاہیے۔جو لوگ اس میں سپرسیڈ ہوئے ہیں ان کی وجہ کیا ہے وہ کمیٹی کوبتائی جائے اور جوافسر کرپشن اور نااہلی کی وجہ سپر سیڈ ہواس کو ریٹائر کیا جائے۔وزارت کے جواب سے مطمئن نہیں ہوں۔ڈاکٹرزرقا تیمور سروردی نے کہاکہ اگر افسران کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک ہوتاہے تو اس سے ان کی زندگیاں تباہ ہوجاتی ہیں۔کمیٹی نے سنٹرل سلیکشن بورڈ کے منٹس اور سکور کارڈ مانگے تھے مگر کئی اجلاس ہونے کے باوجود وہ کمیٹی کونہیں دیئے جارہے ہیں میں نے بھی بورڈ اجلاس کے منٹس دیکھے ہیں مگر میں چاہتی ہوں کہ آفیشل وہ منٹس کمیٹی کودیں جس پر دستخط ہوں اگر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سب افسران جن کا بورڈ ہواہے ان کے سکور کارڈ اور لسٹ نہیں دے سکتی تو صرف ایف بی آر کے افسران کے سکور کارڈز اور ان کی تفصیل کمیٹی کودی جائے ۔جن افسران نے ٹیکس جمع کرنا ہے وہ ہائی کورٹ میں گئے ہوئے ہیں تو ٹیکس کون دے گا۔کمیٹی کوہر افسر کے سکور کارڈز فراہم کئے جائیں مزید تاخیر نہ کیا جائے۔اس کے ساتھ سنٹرل سلیکشن بورڈ کے منٹس کمیٹی کو دیئے جائیں۔ہمیں گھومایاجارہاہے تیسری میٹنگ ہے اور کوئی سکور کارڈ نہیں دیا اور نہ منٹس دیئے جارہے ہیں۔وزیرمملکت برائے پارلیمانی امورعلی محمد خان نے کہاکہ یہ معاملہ ہائی کورٹ میں چیلنج ہوچکے ہیں۔یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس پرکمیٹی میں بات رولز کی خلاف ورزی ہے۔سینیٹرطلحہ محمود نے کہاکہ عدالت میں جو معاملہ ہو کمیٹی اس معاملے کو سن سکتی ہے بریفنگ دی جاسکتی ہیان افسران کی لسٹ مہیا کی جائے جو سپرسیڈ ہوئے ہیں اور سکور کارڈز بھی کمیٹی کے ساتھ شیئر کئے جائیں۔سپر سیڈ ہونے والا کبھی کام نہیں کرسکتا ہے اس لیے ان کو ریٹائرڈ کریں۔بیوروکریسی کے ذہن میں ایک بات ہے کہ ہمیں کوئی ہٹانہیں سکتا ہے جو کریشن میں پکڑے جاتے ہیں ان کو فارغ کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ سینٹ میں 14سو ملازم بھرتی کئے ہیں اور یہاں پر 4سو سے زیادہ ملازمین نہیں ہونے چاہیے۔سینیٹ سیکرٹریٹ میں 30کڑور میں صفائی ہوتی تھی اب پرائیویٹ سیکٹر کو دیا ہے اور 5کڑور میں صفائی ہورہی ہے۔سینیٹرسعدیہ عباسی نے کہاکہ سپر سیڈ ہونے والے افسران کہہ رہے ہیں کہ ان کو اس کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے اور کہے رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔علی محمد خان نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق ترقی کسی کا حق نہیں ہے۔ڈاکٹر زرقا تیمور نے کہاکہ سکور کارڈ کمیٹی میں شیئر کئے جائیں۔جن افسران پر کرپشن کے الزمات ہیں ان کو ترقی دی گئی بورڈ میرٹ کو فالو نہیں کیا گیا بورڈ نے میرٹ کوفالو نہیں کیا پسند ناپسند پر ترقیاں دی گئی ہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن والے اس لیے کمیٹی کوسکورکارڈ نہیں دیکھارہے ہیں۔وزیرمملکت علی محمدخان نے کہاکہ سرکاری افسران نے محسوس کیا ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔یہ کہنا کہ بورڈ میں میرٹ کی پامالی کی گئی ہے یہ ہم پر الزام لگایا گیا ہے یہ پارلیمان پر بھی الزام ہے کہ اس بورڈ میں سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی بھی تھے ان پر بھی الزام لگایا گیا کہ انہوں نے میرٹ پر فیصلہ نہیں کیا۔سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے کہاکہ سپر سیڈ کا ایک مطلب ہوتا کہ کہ وہ افسرمعیار پر پورا نہیں اترتا ہے۔کمیٹی کوتمام افسران کی لسٹ فراہم کردیں گے جو سپر سیڈ ہوئے اور ان کی بھی لسٹ فراہم کردیں گے جن کو ترقی ملی اورجن افسران کے کیس پر غور نہیں کیاگیا۔اگر افسر دو مرتبہ سپرسیڈ ہوتو حکومت ریٹائرڈ کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ سنٹرل سلیکشن بورڈ کے سکورکارڈز اور منٹس کلاسیفائیڈ ہیں جو کمیٹی کونہیں دے سکتے ہیں۔سنٹرل سلیکشن بورڈ میں جوہوا وزیراعظم کو سب معلوم ہے انہوں نے منٹس پڑے اس پر اعتراض بھی کیاجو ہم نے دور کیا۔جن افسران نے ترقی نہ ملنے پر لاہور ہائی کورٹ میں کیس کیاہواہے اور انہوں اس میں بھی سنٹرل سلیکشن بورڈ کے منٹس اور سکورکارڈز مانگے ہوئے ہیں۔چیئرمین سینیٹررانامقبول نے ہدایت کی کہ کمیٹی کوسنٹرل سلیکشن بورڈ کے کلاسیفائیڈ منٹس اورہر افسر کے سکورکارڈز دیئے جائیں ان معلومات کاافشاء نہیں کیاجائے گا اور کمیٹی اجلاس ان کیمرہ کیاجائے گا اس لیے اس پر ان جمعرات کوان کیمرہ اجلاس میں بات ہوگی۔


