دشمن کشمیر میں تکلیف کا بدلہ بلوچستان میں لے رہا ہے، کورکمانڈر کوئٹہ
کوئٹہ:کور کمانڈر 12لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے کہاہے کہ دشمن کشمیر کی تکلیف کااظہار بلوچستان میں کرنے کی کوشش کررہاہے لیکن شکست ان کا مقدر ہوگا،کشمیر کو واپس لینا اس قوم پر قرض ہے جس کو واپس لینے کیلئے 100سال لگیں یا ہزار سال ہم محنت کرینگے،حالات کادھارا دیکھنے کی ضرورت ہے نقطے کی نہیں ہمیں ان حالات کو بھی یاد کرناچاہیے جب شیطانی اپنے عروج پر تھیں لیکن آج حالات بہت بہتر ہیں مکار دشمن سوشل میڈیا اور دیگر سائل کے ذریعے مایوسی پھیلانے کی کوشش کررہاہے جس میں کسی صورت کامیابی نہیں ملے گی۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے قائد اعظم ریذیڈنسی میں یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کور کمانڈر 12لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے کہاکہ آج بہت اہم دن ہے آج ہمیں بھی اپنا حصہ ڈالنے کا موقع مل رہاہے کیونکہ جب قوموں کا مستقبل مزیدروشن ہوگا تو ہم یہ کہہ سکیں گے کہ ہم نے بھی اپنا حصہ ڈالا تھا آج قائد کی ریذیڈنسی میں بلوچستان میں بلوچی پگڑی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتاہوں یوم کشمیر کو منانے کیلئے قائد کی ریذیڈنسی کیلئے بہتر جگہ نہیں ہوسکتی تھی،قائد کااخوت اور متحد ہونے کا پیغام آج سب کے سامنے ہیں،ہم سب کے جذبات مقدس اور صاف ہیں ہمارے سیاسی وسماجی تفریق جو کسی سوسائٹی کا حصہ ہے اور خوبصورتی ہوتی ہے ان کو بڑھا چڑھا کر پیش کرناکہ ہم ملک کے دھارے سے ہی مختلف ہیں آج کے تقریروں نے اس کی نفی کردی۔ان تقریروں سے یہ اخذ کیاجاسکتاہے کہ ہمیں یکجہتی کے درس دینے کی کسی کو ضرورت نہیں ہمیں معلوم ہے کہ یکجہتی کیسے کی جاتی ہے،ہم ہرسال یوم یکجہتی کشمیر منا کر کیا حاصل کرتے ہیں جواب ملا کہ اگر آپ کا کوئی قرض ہوں اور آپ اس کاتقاضا بند کردیں تو قرض وقت کے ساتھ اپنی وقت ختم کرتے ہیں یہ ہمارا قوم کا قرض ہے جس کو ہم نے واپس لینا ہے اس کیلئے سو سال یا ہزار سال محنت کرناپڑی تو ہم اعادہ کرینگے،چین میں اولمپکس گیمز ہورہے ہیں یہ ایسا ہی جیسا بوڑھوں کی جنریشن جارہی ہے تو اپنے حصے کی آگ جلائے شمع کو نئے جنریشن کو دے رہے ہیں بچوں کی ٹیبلوز اور نغمے اس بات کی غماز ہے کہ انہوں نے اس شمع کو تھام کرآگے بڑھناہے،انہوں نے کہاکہ وہ وقت دور نہیں جب کشمیر آزاد ہوکر کشمیریوں کو ان کا حق ملے گا،انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے حالات کو اگر سیکورٹی صورتحال سے متعلق بیان کرناہے تو اس کا ایک ویریبل ہیں دشمن کشمیر کی تکلیف کااظہار بلوچستان میں کرنے کی کوشش کررہاہے اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہوناچاہیے کہ کشمیر اور بلوچستان کو کسی طرح کمپیئر نہیں کیاجاسکتا یہ ایسا ہی جیسے زمین اور آسمان کا آپس میں تقابل کرنے کی کوشش کی جارہی ہوں ناکامی انشاء اللہ دشمن کے ہاتھوں لکھی جاچکی ہیں ہمیں ہمارا مکار دشمن سوشل میڈیا اور اس طرح کے وسائل کے ذریعے مایوسی پھیلانے کی کوشش کررہاہے حالات اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں لیکن حالات کا دھارا دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے حالات کے اندر حالات کے نقطے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی،حالات کادھارا دیکھیں تو 2013ء اور ان حالات کو یاد کیجئے جب شیطانی اپنے عروج پر تھی لیکن آج حالات بہت بہترہیں۔ اس موقع پر انسپکٹرجنرل فرنٹیئرکور(آئی جی ایف سی)نارتھ میجرجنرل محمدیوسف مجوکہ نے کہاہے کہ کشمیریوں کی 75سالہ آزادی کی جدوجہد کو دہشتگردی کہہ کر نہیں روکاجاسکتا، قائداعظم نے کہاتھاکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے کوئی قوم یا ملک یہ برداشت نہیں کریگا کہ اس کی شہ رگ دشمن کی تلوار کے نیچے رہے،آج کشمیر جیسی جنت نظیر وادی پر ایک انتہا پسند بھارتی حکومت نے 9لاکھ کی غاصب فوج مسلط کررکھی ہے یہ فوجیں کشمیری مسلمانوں پر پچھلے 7دہائیوں سے تشدد کی نئی داستانیں رقم کررہی ہے کشمیر میں ایک ڈاکٹر اور 3ہزار60مریض کیلئے جبکہ فوجیوں کی ریشو 7کشمیریوں کیلئے ایک فوجی ہیں۔کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے 500کشمیری رہنماؤں کو قید کررکھاہے،کورونا وباء کے دوران لاکھوں کشمیریوں کا فوجی محاصرہ کرکے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی،لاک ڈاؤن کے دوران بھارتی فوج نے فیک انکاؤنٹرزکے نام پر نہتے کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا۔ بھارت کی یہ خام خیالی ہیں کہ وہ کشمیرکی75سالہ آزادی کی جدوجہد کو دہشتگردی کہہ کرروک سکے گا یہ جدوجہد ہر آنے والے دن کے ساتھ کشمیری نوجوانوں کے لہو سے مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔آزادی کی یہ جدوجہد ان ناکام ہتھکنڈوں سے کبھی بھی متزلزل نہیں ہوپائے گی۔آج ہم یوم یکجہتی کشمیر کی تجدید کرتے ہوئے اس بات کاعہد کرتے ہیں کہ کشمیرکی آزادی کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ہیں ہم اپنی شہ رگ کو ہر صورت ظالم وبھارتی حکومت سے محفوظ بنائیں گے۔


