صوبائی حکومت نے سیکرٹریٹ ملازمین کے مطالبات تسلیم کرلئے
کوئٹہ: سینئر صوبائی وزیر خزانہ حاجی نور محمد دومڑ کی زیر صدارت سیکرٹریٹ ملازمین کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ کے ہمراہ صوبائی مشیر مٹھا خان کاکڑ، سردار مسعود لونی اور سیکرٹری خزانہ عبدالرحمن بزدار و دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔اجلاس میں سیکرٹریٹ ملازمین کے مطالبات بات مان لیے گئے جس کی بنا پر سیکرٹریٹ ملازمین نے گزشتہ دو مہینوں سے جاری ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے اجلاس میں سیکرٹریٹ آفیسر ایسوسی ایشن کے صدر عبدالمالک کاکڑ،سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر عبدالخالق زہری کی قیادت میں وفد نے صوبائی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔سینئر صوبائی وزیر خزانہ نے اجلاس کے شرکاء سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کی جانب سے پیش کیے جانیوالے معاملات کو بلا امتیاز اور بلا تاخیر حل کیا گیا ہے اب ملازمین تعطل سے اجتناب کریں تاکہ لوگوں کو حکومتِ بلوچستان کی جانب سے سیکرٹریٹ کے قیام کا فائد ہ ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام افسران جانفشانی اور محنت سے کام کریں اور لوگوں کے مسائل کے فوری حل کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیکر ٹریٹ میں لوگوں کے لیے تمام افسران اپنے دفاتر میں سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں، لوگوں کے مسائل ترجیح بنیادوں پر حل کیے جائیں اور ان کی شکایات کے فوری ازالہ کے لیے اقدامات کیے جائیں وزیر خزانہ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے سیکرٹریٹ ملازمین کے ہاوس ریکوزیشن 60کروڑ روپے ماہانہ کی مد میں مطالبات تسلیم کر لیے گئے۔


