سینیٹ اپوزیشن کا واک آﺅٹ کوئی حکومتی رکن منانے نہیں گیا
اسلام آباد:سینیٹ میں وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمدخان کی طرف سے وقفہ سوالات میں وزارت صحت کاجواب دینے پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آوٹ کیااور کورم کی نشاندہی کی کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس آدھاگھنٹے تک ملتوی کیاگیا 30منٹ بعددوبارہ اجلاس ہواپوزیشن نے دوبارہ کورم کی نشاندہی کردی تو حکومت کورم مکمل کرنے میں کامیاب ہوگئی ، کورم مکمل کرنے میں دلاور خان نے بھی حکومت کاساتھ دیا۔اپوزیشن نے پورے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور نہ ہی حکومت کی طرف سے اپوزیشن کومنانے کے لیے کوئی گیا،قائدایوان سینیٹرشہزاد وسیم نے کہاکہ وقفہ سوالات میں حکومت جواب دے ہوتی ہے ،اپوزیشن کے سینیٹرز کو دھوپ سیکھنے کی جلدی ہوتی ہے اس لیے کورم کی نشاندہی کردیتے ہیں ،شکست اپوزیشن کا مقدر بن چکی ہے ،عمران خان ان کی جیبوں سے ایک ایک پیسہ واپس لائے گا شیر لندن کے ایک پنجرے میں ہے اس سے پہلے کہ تم وہاں سے نکالے جاﺅ پاکستان آجاﺅ۔ وزراءنے کہاکہ ایوان میں جواب دینے والے کھڑے ہیں اور سوال کرنے والے بھاگ گئے ہیں ، عمران خان پانچ سال مکمل کرلے تو اپوزیشن کی سیاست ختم ہوجائے گی سیاست ان کے لیے کاروبار کا نام ہے،عمران خان کے دورہ چین پر پاکستان میں دوٹکے کی سیاست کی جارہی تھی ۔بغض عمران میں پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کیا کچھ صحافی بھی اس مہم کاحصہ بنے، اپوزیشن نے دوڑنا شروع کردیا ہے انہوں نے نواز شریف سے دوڑجانا سیکھا ہے ہم ان کو دوڑائیں گے 2023میں عمران خان دوبارہ اقتدار میں آئیں گے ۔حکومتی سینیٹرز نے کہاکہ اپوزیشن والے پیسے کھاتے ہیں اور ملک کو چونا لگاتے ہیں ،اپوزیشن والے غلام در غلام لوگ ہیں،اپوزیشن سنجیدہ نہیں رنجیدہ ہے ،پاک افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیںجن کی وجہ سے پاکستان محفوظ ملک ہے۔دنیش کمار نے کہاکہ مسائل حل نہ ہونے پر بلوچستان میں ہمارا استقبال گندے انڈوں اور ٹماٹروں سے کیا جاتا ہے اس کا اصل حقدار بیوروکریسی ہے جس کی وجہ سے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں۔ سینیٹ کااجلاس جمعہ کو صبح تک ملتوی کردیاگیا۔


