پاکستان میں کاشت بھنگ کی فصل کی کٹائی مکمل، تیل بنانے کا عمل جاری
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کوحکام نے بتایاکہ پاکستان میں کاشت ہونے والی بھنگ کی فصل کی کٹائی ہوگئی ہے، آزمائشی بنیادوں پر بھنگ کی کٹائی کا عمل مکمل ہونے کے بعد آئل بنانے کا عمل جاری ہے،کمیٹی نے "کنٹریکٹر رجسٹریشن بل 2021 ” اور موجودہ قوانین پر ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی،وزیر سائنس اینڈٹیکنالوجی نے کہاکہ پاکستان انجینئرنگ کونسل میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کرنی ہیں۔انجینئرز کاغذوں موجود ہوتے ہیں عملی طور پر نہیں ہوتے۔بدھ کوقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس چیئرمین ساجد مہدی کی زیر صدارت میں ہوا۔وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی پی ایس ڈی پی منصوبوں پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی نے کمیٹی کوبتایاکہ رواں مالی سال میں وزارت کی کل 44 سکیمیں ہیں، کل 44 سکیموں میں سے 20 سکیمیں نئی ہیں، وزارت سائنس کی ترجعی ہے کہ انڈسٹری کے ساتھ ملکر کام کیا جائے۔ حکام وزارت سائنس نے کمیٹی کوبتایاکہ آزمائشی بنیادوں پر بھنگ کی کٹائی مکمل ہونے کے بعد آئل بنانے کا عمل جاری ہے۔کمیٹی میں "کنٹریکٹر رجسٹریشن بل 2021 ” زیر غورآیا "کنٹریکٹر رجسٹریشن بل 2021 ” ایم این اے عظمہ ریاض کی طرف سے پیش کیا گیا،عظمہ ریاض نے کہاکہ کنٹریکٹر بل لانے کا مقصد،کنٹریکٹر کی طرف سے استعمال کیا گیا میٹریل چیک کرنا ہے، کنٹریکٹر کی رجسٹریشن ہونی چاہیے، تعمیر میں اگر کوئی نقص اجائے تو کنٹریکٹر اس کی زمہ داری لے،حکام وزرات سائنس و ٹیکنالوجی نے کہاکہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کے پاس کنٹریکٹر کے حوالے سے قوانین موجود ہیں، چیئرمین کمیٹی نے موجودہ اور مجوزہ بل پر باہمی مشاورت کے بعد ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔وزیر سائنس اینڈٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہاکہ پاکستان انجینئرنگ کونسل میں بڑے پیمانے پر ریفارمز کرنی ہیں۔انجینئرز کاغذوں موجود ہوتے ہیں عملی طور پر نہیں ہوتے چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ حکومت جو وزرات سائنس وٹیکنالوجی کو بجٹ دے رہی ہے اس میں بقا ہی مشکل ہے۔(م۔ا)


