پاکستا ن میں تعلیمی ادارے بڑھگئے معیارکے معاملے میں براحال
کراچی:ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنے تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلیاں کرنی ہونگی۔ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی رپورٹ جاری کی ہے جس میں پاکستان کی معیاری تعلیم پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تعلیمی ادارے بڑھ گئے لیکن بچوں کی معیاری تعلیم تک رسائی کا برا حال ہے۔اے ڈی بی نے رپورٹ میں کہا کہ پبلک ایجوکیشن سروس کا معیار ناگفتہ بہ ہے کیوں کہ تعلیمی بجٹ کم اور اس کا استعمال ناقص ہے۔اے ڈی بی کے مطابق اس نظام میں مزید سرمایہ کاری اور اصلاح کی اشد ضرورت ہے، پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن میں مزید طلبہ و طالبات کو شامل کرنا لازم ہے۔اے ڈی بی نے کہا کہ پرائمری اسکولوں اور 10 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کے لیئے نصاب بدلنا ہوگا، 15 تا 24 سال کے طلبہ و طالبات کے تعلیمی ماحول کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہوگا۔یاد رہے کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں بچے اور بچیاں صرف اس لیے اسکول نہیں جا پاتے کہ ملک کے بہت سے اسکولوں میں انھیں بنیادی ضروریات جیسے کہ پانی اور ٹوائلٹ یا بیت الخلا ہی دستیاب نہیں ہیں۔پاکستان میں 5 سے 16 برس کی عمر کے 2 کروڑ 20 لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے۔


