گزشتہ دو ہفتوں کے دوران جبری گمشدگیوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے، وی بی این پی

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ گزشتہ دو دہائیوں سے تواتر کے ساتھ جاری و ساری ہےالبتہ ان جبری گمشدگیوں کے سلسلے میں کھبی تیزی تو کھبی کمی دیکھنے کو ملتی رہی ہے مگر گزشتہ دو ہفتوں کے دوران جبری گمشدگیوں میں خوفناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جسکا سلسلہ ہنوز جاری ہےگزشتہ دنوں نوشکی اور پنجگور واقعے کے بعد عام سویلین کو جس طرح سے زیر عتاب لایا جارہا ہے وہ انتہائی تشویشناک عمل ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہےاس دوران اب تک درجنوں طلبا کو سیکورٹی فورسز نے گرفتاری کے بعد لاپتہ کردیا ہے جنکو نہ کوئی قانونی رسائی حآصل ہے نہ انکے گھر کے افراد کو پتا ہے کہ انکے پیاروں کو لاپتہ کرکے کہاں رکھا گیا ہےوائس فار بلوچ مِسنگ پرسن نے گراونڈ میں کچھ ایسے کیسز کو اکھٹا کیا ہے گزشتہ دنوں سے اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جس تیزی کے ساتھ فورسز نے بلوچ طلبا کو گرفتاری کے بعد لاپتہ کردیا ہے جس سے نت نئے تشویش ابھر کر سامنے آرہے ہیںلیکن سب سے پہلے آپکی توجہ پنجگور سے تعلق رکھنے والے اسلام آباد اسلامک یونیورسٹی کے طالب علم احتشام بلوچ جو چھٹیوں کی غرض سے اپنے آبائی گاوں آیا تھا اسے تین فروری کو پنجگور بازار سے اٹھا کر گرفتار کرنے کے بعد اسی سن لاش مسخ کرکے پھینک دی گئی تھی جبکہ ایک اور نوجوان پنجگور سے کی تعلق رکھنے والے زھینی طور پر مفلوج ندیم ابدال کو گرفتار کرکے گولیاں مار کر لاش پھینک دی گئی تھیجبکہ پنجگور سے دو سو کلو میٹر دور تجابان سے ایک نوجوان طالب علم الطاف جاڑا کو 3 فروری کو جبری لاپتہ کرکے 4 فروری کو اسکی لاش ویرانے میں پھینک دی گئی تھی جبکہ پنجگور سے 6 فروری کو سماجی کارکن اور بزنس مین ملک میران بلوچ سمیت رجب دل مراد ، باسط حسن شبیر حاجی کریم اور جبکہ پنجگور سے 9 فروری کو مسرور عارف کو گرمکان پنجگور یحی اور رئیس کو گرفتار کرنے کے بعد لاپتہ کردیا گیا تھا جو تاحال لاپتہ ہیں جبکہ جبری گمشدگیوں کے سلسلہ کو تربت میں پھیلا کر 9 اور 8 فروری کو متعدد افراد کو لاپتہ کیا گیا تھا جن میں نزیر رحمت، نظام نوروز رازق بلوچ شامل ہیں اسی دوران نوشکی سے 6 فروری جو وحید بلوچ ، سمعی بلوچ فرید عاصم جو سیکورٹی فورسز نے گرفتاری کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے جبکہ اسی اثنا قائد اعظم یونیورسٹی کے طالب علم حفیظ بلوچ جو فزکس میں ایم فل کررہے تھے چھٹیوں میں اپنے گاوں خضدار آئے تھے انھیں لاپتہ کردیا گیا تھاہارون اور ندیم نامی دو طالب علموں کوئٹہ سے جبری طور پر 7 فروری کو لاپتہ کردیا گیا ہےجبکہ مول جان ولد دربیش کریم داد ولد محمد عمر یاسین ولد میاں صمد پھٹان ولد کہدہ اللہ بخش جبکہ دو بھائیوں شبیر جان اور امان اللہ کو بھی ایک ساتھ 8 فروری کو لاپتہ کردیا گیا ہےجبکہ گیشکور سے صمد ولد سخی تعداد اپنے بیٹے کے ساتھ 8 فروری کو گرفتاری کے بعد تاحال لاپتہ ہیںجبکہ محمد خان دھنی بخش بگٹی ڈیرہ مراد جمالی سے پانچ فروری کو جبری گمشدگی کا شکار ہوئےوزیر اعظیم پاکستان نے وائس فار بلوچ مِسنگ پرسن کے وت کو یقین دلایا تھا کہ تمام لاپتہ افراد کو جد از جلد بازیاب کیا جائے گا انکی بازیابی اپنی جگہ مگر اس تعداد میں چند دنوں کے دوران جس طرح سے بلوچستان کے طول عرض میں لوگوں کو لاپتہ کیا گیا ہے وہ مزید لاپتہ افراد کے حوالے سے ایک اور بحران پیدا کررئے گی ۔۔ہم متعلقہ اداروں کو اس ملک کی مقتدرہ سے اپیل کرتے ہیں کہ تمام لاپتہ افراد جو منظر عام پر لایا جائے اگر کسی نے کوئی جرم جا ارتکاب کیا ہے تو انھیں عدالتوں کے زرئعے قرار واقعی سزا دیں اس طرح لوگوں کو لاپتہ کرکے لواحقین کو ازیت نہ دیںمعزز صافی حضرات ۔۔جیسے کے آپ سب جانتے ہیں کہ مِسنگ پرسن کا مسلۂ ایک دیرینہ مسلۂ ہے ابھی تک ملکی ادارے اس مسلے کی حساسیت سے بے خبر ہیں گزشتہ دنوں نوشکی اور پنجگور واقعے کے بعد غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق صرف نوشکی سے سو سے زیادہ افراد لاپتہ کیے گئے ہیں جن میں کثیر تعداد نوجوانوں کی شامل ہے ۔۔
جبکہ حکومتی اداروں کی سنجیدہ کا یہ عالم ہے ایک بل تک لاپتہ افراد کے لیے سینٹ سے اب تک پاس نہیں کروا سکے ۔
اگر کسی کو لگتا کے کہ لوگوں کو جبری گمشدہ کرنا ہی بلوچستان ہی مسلۂ بلوچستان کو حل کرنا ہے تو انھیں یاد دلانا چاہتے ہیں کہ مِسنگ پرسن کا مسلۂ بلوچستان کے مسائل میں ایک اہم مسلۂ ہے ۔اور جتنی دیر اس مسلے کو حل کرنے میں لگایا جائے گا بلوچستان کے دیگر مسائل بھی جوں کہ توں رہی گے ۔۔عام شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال اور انکی جبری گمشدگیاں بلوچستان کے مسائل کو مزید گھمبیر کرتے جارہے ہیں ۔۔اس پریس کانفرنس کے توسعت ہم حکومت وقت ملکی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گزشتہ دنوں جتنے لوگ لاپتہ کردئیے گئے ہیں انھیں فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور پہلے سے گمشدہ افراد کی بازیابی بھی یقینی بنائیں جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں