اپوزیشن کا دانشمندانہ فیصلہ
پی ڈی ایم نے لانگ مارچ نہ کرنے اور تحریک عدم اعتمادکے ذریعے حکومت تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔موجودہ حالات کے تناظر میں یہ فیصلہ دانشمندانہ سمجھاجانا چاہیے۔اس لئے کہ 23مارچ کی اپنی قومی شناخت ہے۔اسے یوم پاکستان کہاجاتا ہے،اسی روز1940میں لاہور کے منٹو پارک(آج مینارِ پاکستان) کے جلسہ میں آل انڈیا مسلم لیگ نے قراردادِ پاکستان منظور کی۔اس قرارداد کی منظوری، تاج برطانیہ کے خلاف چلائی جانے والی تحریک اور دوسری جنگ عظیم کے بعد پیدا ہونے والے عالمی تقاضوں کے پیش نظر انگریز حکمرانوں نے برصغیر پاک و ہندکا اقتدار یہاں کے عوام کے سپرد کرکے لندن واپس جانا مناسب سمجھا۔اسی تاریخی دن کی یاد منانے کے لئے اسلام آباد میں پرشکوہ فوجی پریڈکااہتمام کیا جاتا ہے۔ اس تقریب میں دوست ممالک کے سفراء بھی شریک ہوتے ہیں۔ صدر مملکت اور آرمی چیف خطاب کرتے ہیں۔دنیا کے سامنے پاکستان کی حکمت عملی اور پاکستان کا کردار واضح کرتے ہیں۔ 23مارچ کو اسی تناظر میں دیکھاجانا چاہیئے۔ سیاسی مخاصمت اور حکومت ہٹاؤ جذبات کے اظہار کے لئے سال کے دیگر364ایام موجود ہیں۔ لانگ مارچ کا فیصلہ ملتوی کرنا اور تحریک عدم اعتماد لانامعروضی حالات میں مناسب معلوم ہوتا ہے۔ جبکہ بسا اوقات ایک قدم آگے اور دوقدم پیچھے ہٹنابھی سیاسی تقاضہ بن جاتا ہے۔ تحریک عدم اعتمادرمضان کے دوران بھی اسپیکر کے پاس جمع کرائی جا سکتی ہے۔اعتماد یا اس کے برعکس فیصلہ اراکین قومی اسمبلی کو ایوان کے فلور پر کرنا ہے۔عشاء سے قبل از سحری عدام اعتماد کی کارروائی مکمل کی جا سکتی ہے۔تراویح کی ادائیگی کے لئے سارا مہینہ ضروری نہیں، دس روزہ تکمیل کی گنجائش بھی علماء کرام نے نکال لی ہے۔جید علماء اراکین اسمبلی ہیں، مناسب شیڈول مرتب کیا جا سکتا ہے۔تحریک عدم اعتماد رمضان میں جمع کرانے کی راہ میں قانون اور آئین بھی حائل نہیں۔البتہ اس مقصد کے حصول کی ایک شرط ہے کہ اپوزیشن کے پاس کم از کم 172ممبران ہوں جو ایوان میں کھڑے ہوکر کہہ سکیں کہ انہیں قائد ایوان پر اعتماد نہیں۔ پی ڈی ایم کے سربراہ نے میڈیا کو بتایا ہے کہ تعداد پوری ہونے تک لانگ مارچ ملتوی کر دیا گیاہے بلکہ انہوں نے یہ اضافہ بھی ضروری سمجھا ہے:”لانگ مارچ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی“۔ فیصلہ سیاسی، قانونی اور آئینی ہے، صائب ہے۔اب جوکچھ ہوگا ایوان کے فلور پر ہوگا، سڑکوں پر دھرنوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔بچے اسکول، والدین دفاتر، کاروباری مراکز اور مریض اسپتال جاتے رہیں گے۔ معمولات زندگی متأثر نہیں ہوں گے۔ویسے بھی 23مارچ ابھی دور نہیں،5ہفتے ہیں پلک جھپکتے گزر جائیں گے۔اس دوران حکومت غیر ملکی دورے کرتی رہے گی، غیرملکی سربراہان کو مدعو کر سکے گی۔معاہدوں پر دستخط ہو جائیں تو عدم اعتماد کے بعد نئی حکومت ان معاہدوں پر عمل درآمد کی پابند ہوگی۔آئی پی پیز سے معاہدے پی پی پی اور نون لیگ نے کئے تھے مگر ان پر عمل پی ٹی آئی کی حکومت بھی کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے اربوں ڈالر مالیت کاقرضہ پی پی پی اور نون لیگ نے لیا تھا مگر ان قرضوں کی ادائیگی پی ٹی آئی کی حکومت باقاعدگی سے کر رہی ہے۔یاد رہے عدم اعتماد قائد ایوان پر کیاجاتا ہے، بین الاقوامی معاہدوں پر عدم اعتمادنہیں کیا جاتا۔حتیٰ کہ نگراں حکومت کے دور میں کئے جانے والے معاہدے بھی منتخب حکومت تبدیل نہیں کرسکتی۔ان معاہدو کی قیمت ناقابل برداشت مہنگائی، بیروزگاری، اورجہالت کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ فوری نئے انتخابات کا مطالبہ ان ہاؤس تبدیلی سے متصادم ہے۔پی پی پی ان ہاؤس تبدیلی چاہتی ہے، صوبائی حکومتوں کا فوری خاتمہ نہیں چاہتی۔نون لیگ کی سیاسی ضرورت بھی کچھ اور ہے،زبان پر نہیں لاتی۔دونوں صرف وزیر اعظم کی تبدیلی کی خواہشمند ہیں،ان کی جانب سے وسط مدتی انتخابات پر زور نہیں دیا جاتا۔عدم اعتماد کی راہ میں خواہشات کا فرق حائل ہے۔ اپوزیشن کی خواہشات کتنی ہی جائز اور قابل احترام کیوں نہ ہوں،معاشی مسائل سے آنکھیں بند کرنا ان کے لئے سودمند نہیں ہوگا۔ عوام کے بارے میں صرف یہ کہنا کہ مہنگائی نے ان کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے، کافی نہیں۔اپوزیشن کو اپنا جادوئی فارمولہ سامنے لانا ہوگا جس کی مدد سے وہ اقتدار میں آتے ہی مہنگائی پر قابو پالیں گی۔پیٹرول سستا ہوجائے گا، آٹاپرانی قیمت پر دستیاب ہوگا۔گھی2018والی قیمت پر فروخت ہونا شروع ہوجائے گا۔ڈالر کی قیمت گر کر نون لیگ والی ہوجائے گی۔آئی پی پیز والا گردشی قرضہ ختم ہو جائے گا۔رواں تجارتی خسارہ موجودہ سطح پر برقرار رہے گا۔ہماری برآمدات بنگلہ دیش سے کم رہیں گی، مگر سارے شعبے مثالی کارکردگی دکھائیں گے۔پی ٹی آئی کے دور میں تعمیر کئے جانے والے ڈیمز بم سے اڑا دیئے جائیں گے،مگر بجلی سستی ملے گی،ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔اگر اپوزیشن جلتے توے پر بیٹھ کر عوام کو مطمئن کرے یا قرآن کا لباس پہن کر گھومے، عوام کا ساڑھے تین سال کارویہ یہی ثابت کرتا ہے کہ انہیں اپوزیشن سے والہانہ ہمدردی نہیں۔خیبر پختونخوا کے ادھورے بلدیاتی نتایج بھی شادیانے بجانے کی بنیاد نہیں بنائے جا سکتے۔ ڈی آئی خان کی شکست نے پشاور کی جیت والی قدروقیمت برقرار نہیں رہنے دی۔اپوزیشن کی تمام پریس کانفرنسز میں یہ جملہ بار بار دہرایا جاتا ہے کہ اب تو انہیں لانے والے بھی ان سے نالاں ہیں، نیوٹرل ہو گئے ہیں۔سر سے ہاتھ اٹھا لیا ہے۔مگر زمینی حقائق ان دعووں کی تصدیق نہیں کرتے، جھٹلاتے ہیں۔علاوہ ازیں عالمی سطح پر جغرافیائی اور معاشی منظر تبدیل ہو گیا ہے۔بالخصوص ہمارے گردو نواح میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔امریکی ساکھ کو کابل انخلاء سے بڑا دھچکا لگا ہے۔اس کا سپر پاور ہونے کا دعویٰ کرچی کرچی ہوگیا، اور1945سے قائم عسکری برتری کا رعب و دبدبہ جاتا رہا ہے۔مسلسل حالت جنگ میں رہنے کی وجہ سے اس کی معیشت بھی کمزور ہو چکی ہے، دنیا کو اندازہ اس وقت ہوگا جب امریکی عوام اپنے حکمرانوں کا احتساب کریں گے، اور یہ وقت زیادہ دور نہیں۔چین لداخ کے متنازعہ علاقے کو خاموشی سے اپنے کنٹرول میں لے چکا ہے۔بھارت نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔بھارت اور چین کے درمیان گولی نہ چلانے کا معاہدہ ہے۔چینی فوجی جوڈو کراٹے اور کیلوں جڑے ڈنڈوں کی مدد سے بھارتی فوجیوں پر حاوی ہیں۔کہا جارہا ہے چین کے قبضے میں لداخ کا رقبہ بنگلہ دیش کے برابر ہے اور بھارتی/مقامی لوگ وہاں نہیں جا سکتے۔پاکستان بھی ان تبدیلیوں کے مطابق اپنی حکمت عملی طے کرنے کے مراحل میں ہے۔ چین اور روس کے دورے اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔یہ نہ بھولیں کہ سیاست معیشت کے تابع ہوتی ہے۔


