وزیراعلیٰ نے حکومت کو3.5 ارب میں خریدا، جس کی وجہ سے صوبے میں کرپشن کا بازار گرم ہے،سردار یار محمد رند

کوئٹہ :پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے صوبائی حکومت کو سانحہ اعوان گوٹھ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے 48گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو سخت اقدام اٹھائیں گے،ریاست مدینہ میں غریبوں کو قتل کیاجارہاہے کچھی میں قتل ہونے والے پانچ افراد کے قاتل آج بھی دھنداناتے پھر رہے ہیں 40گھنٹوں تک سندھ،بلوچستان قومی شاہراہ بند رہالیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی،ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم اس سے بھی سخت قدم اٹھائیں ان خیالات کااظہار انہوں بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنے کے موقع پر شرکاء سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا سردار یار محمد رند نے کہا کہ ہم نے 40گھنٹے تک سندھ بلوچستان قومی شاہراہ کو بولان کے مقام پر ہر قسم کے ٹریفک کیلئے بند کیا تاکہ پانچ افراد کے قاتل گرفتار ہوں لیکن حکومت پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا قاتلوں کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے وزیراعلی ہاؤس سے قاتلوں کی بچاؤ کیلئے متعلقہ افسران کو کارروائی سے روکا جارہاہے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بلوچستان کے وزیراعلی ایسے شخص کو بنایا گیا جو 70گھنٹے جاگتا ہے اور 70گھنٹے سوتا ہے ایک اور سوال کے جواب میں سردار یار محمد رند نے کہا کہ وزیراعلی نے ساڑھے 3ارب روپے میں بلوچستان کا سودا کیا ہے انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کے باوجود اپنے بیٹوں اور اپنے لوگوں کے ساتھ بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنے پر بیٹھا ہوں اگر مجبور کیا گیا تو اس سے بھی سخت قدم اٹھاؤں گا ایک اور سوال کے جواب میں سردار یار محمد رند نے کہا کہ ہم ملک کے وفادار ہے لیکن ایک سازش کے تحت ہمیں دوسری جانب دکھیلا جارہاہے تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے کہا کہ بلوچستان حکومت قاتلوں کی پشت پناہی کررہی ہے انہوں نے کہا کہ ماضی میں قومی اسمبلی کی نشست ہارنے کی وجہ سے ہمارے خلاف اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں حکومت بلوچستان کو اپنے مطالبات پیش کیے ہیں قاتلوں کی گرفتاری تک ہمارا دھرنا جاری رہے گا۔سرداریارمحمدرند نے کہاکہ صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے صوبائی حکومت مزید صبر کا امتحان نہ لیں حکومت کو قاتلوں کی گرفتاری کیلئے 48گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہیں اگر ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو ہم سخت اقدام اٹھائیں گے، بلوچستان بند کرنے کیلئے وزیر اعلی ہمیں مجبور نہ کریں دوران احتجاج میرے ساتھ کوئی بھی واقعہ ہوا تو ذمہ دار وزیر اعلی بلوچستان ہونگے، قوم پرست اپنے مفادات کیلئے ہر جگہ پہنچتے ہیں مگر سانحہ کچھی پر خاموش ہیں جب تک قاتل گرفتار نہیں ہوتے ہم یہاں سے نہیں اٹھیں گے، قومی شاہراہ بند کرکے لوگوں کو تکلیف دینے کے بجائے یہاں حکمرانوں کو تکلیف دینے یہاں بیٹھے ہیں مقتولین کی 12 سو ایکڑ زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے۔کوئٹہ: پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے اعوان برداری کے تین افراد کے قتل اور دو افراد کو زخمی کرنے میں ملوث ملزمان کے خلاف کاروائی کے لئے صوبائی حکومت کو 48گھنٹوں کی مہلت دے دی، انہوں نے وزیراعظم عمران خان، چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کا نوٹس لیکر کاروائی عمل میں لائیں، یہ بات انہوں نے جمعہ کی شب بلوچستان اسمبلی کے باہر جاری اعوان برداری کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہی، قبل ازیں جمعہ کو اعوان برداری کے افراد نے سردار یار محمدر ندکی قیادت میں کچھی میں اعوان برداری کے تین افراد کے قتل اور دو افراد کو زخمی کرنے کے ملزمان کے خلاف کاروائی نہ کئے جانے کے خلاف بلوچستان اسمبلی کے باہر احتجاجاً دھرنا دیا، دھرنے کے شرکاء کا مطالبہ ہے کہ اعوان برداری کے افراد کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سردار یار محمد رند نے کہا کہ بولان میں 40گھنٹے تک دھرنا دینے کے بعد مشیر داخلہ کی جانب سے ملزمان کے خلاف کاروائی کرنے کی یقین دہانی اور عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے دھرنا کوئٹہ منتقل کیا گیا حکومتی یقین دہانی کے باوجود کسی بھی قسم کی کاروائی نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے بلوچستان کو ساڑھے تین ارب روپے میں خریدا ہے اور اب وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح یہ ساڑھے تین ارب پورے اور 10ارب مزید کمالئے جائیں جس کے لئے صوبے میں کرپشن کا بازار گرم ہے ڈیم، قومی شاہراہوں کے منصوبوں پر 14فیصد تک کمیشن لیا جارہا ہے ایس ڈی او، ایکسین سمیت دیگر آسامیاں فروخت کی جارہی ہیں تین ٹھیکیدار صوبے کے فیصلے کر رہے ہیں،کابینہ میں وزراء کو شامل کرنے پر بھی پیسے لئے گئے ہیں عوام آئندہ انتخابات میں اسکیمات کی خاطر نااہل اور کم ضرف حکمرانوں کو ووٹ نہ دیں انہوں نے کہا کہ جذباتی نعرے لگانے والے آج کہاں ہیں ہمیں سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان سے بھی تحفظات تھے انکی جانب سے صوبے میں کیڈٹ کالجز کا منصوبہ بجٹ سے نکالنے پر انکی کابینہ سے استعفیٰ دیا لیکن چار بار بلوچی میڑھ آیا اور یقین دہانی کروائی گئی کہ منصوبہ پی ایس ڈی پی میں شامل کیا جائیگا جس پر دوبارہ کابینہ میں آیا اگر یہ منصوبہ بجٹ میں شامل ہوتا تو شاید 10سال بعد بلوچستان کا کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہیں ہوتا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کرپشن اور رشوت نے خراب کئے ہیں آج صوبے میں پنجگور اور نوشکی جیسے بڑے واقعات ہوئے جب وزیراعظم اور آرمی چیف نے وزیراعلیٰ سے پوچھا کہ وہ صوبے کیلئے کیا کریں تو انہوں نے آئی جی پولیس تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا بلوچ کے بچے بھوکے ہیں، انکے پاس پانی، تعلیم نہیں ہے تو وہ کیسے ملک سے محبت کریں گے صوبے میں ایسے لوگوں کو لانے کی ضرورت ہے جو عوام کو تحفظ دے سکیں انہوں نے کہا کہ بولان، بھاگ، سمیت دیگر علاقوں میں دانستہ طور پر حالات خراب کئے جارہے ہیں لوٹ مار، چوری ڈکیتی کی وارداتیں ہورہی ہیں پالیسی بنانے والے مقتدرہ حلقے بلوچستان پر رحم کریں ایسے لوگوں کو اقتدار میں لانے سے حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے انہوں نے کہا کہ اعوان برداری کے افراد کے قاتلو ں کو گرفتار کیا جائے وزیراعظم،چیف جسٹس آف پاکستان چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اور آرمی چیف خود نوٹس لیکر مداخلت کریں اور مظالموں کو انصاف فراہم کریں اگر حکومت نے 48گھنٹوں میں کاروائی نہ کی تو آئندہ کے سخت لائحہ عمل کا اعلان کریں گے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت زیادہ دیر نہیں چلے گی وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے جس دن ساڑھے تین ارب روپے پورے کر دئیے اگلے دن وہ سیٹ پر نہیں ہونگے وزیراعلیٰ ہمیں دھکمیاں یا دباؤ میں لانے اور کوئی ایسا اقدام نہ کریں کہ انہیں پچھتانا پڑے

اپنا تبصرہ بھیجیں