افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال ہونے کی تردید کر دی
اسلام آباد/کابل :افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے بعد پاک۔ افغان سرحد پر مزید امن اور استحکام دیکھنے کی امید عسکریت پسندوں کے حملوں کے تازہ سلسلے کے سبب ختم ہونے کے بعد پاکستان کی فوج نے حالیہ ہفتوں میں پاک افغان سرحد پر اپنی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاک فوج کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند گروپوں نے گزشتہ ماہ کے دوران حملوں میں 14 پاکستانی جوان کو شہید کیا، جن میں سے 3 حملے افغانستان سے داخل ہونے والے جنگجوﺅں نے کیے۔سرحدی کارروائیوں سے واقف ایک اعلیٰ پاکستانی سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ ہم نے انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے تاکہ عسکریت پسندوں کے داخلے کو روکنا یقینی بنایا جا سکے۔سرحد پر پاکستان کے اندر کا وسیع علاقہ کئی دہائیوں سے حکومت کے کنٹرول سے باہر تھا، جن پر آزاد پشتون قبائل کی حکومت تھی جن کی برادریوں کے لیے اس غیر نشان زد سرحد کے دونوں طرف آنا جانا معمول کی بات ہے تاہم پاکستان اس سلسلے کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے جس کا مقصد اس ناہموار علاقے کو مرکزی حکومت کے کنٹرول میں لانا، باڑ کے ساتھ سرحد کی حد بندی کرنا اور سخت بارڈر کنٹرول سسٹم کے مطابق یہاں سے آنے جانے والوں کو پابند کرنا ہے۔شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اور سیکیورٹی اہلکار نے کہا کہ باغیوں اور عسکریت پسندوں سمیت ہم ان تمام عناصر کو نشانہ بنارہے ہیں جو خطرہ ہیں۔ادھر کابل میں طالبان نے پاکستان میں حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کیے جانے کے تاثر کو مسترد کیا اور امید ظاہر کی ہے کہ بات چیت سے مسئلہ حل ہو جائے گا۔افغان وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے بتایا کہ ہم سفارتی طریقوں سے اس طرح کے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


