ادارے اپنے آئینی حدود میں رہے تو احترام خود بخود آجاتی ہے، مولانا قادر لونی

جمعیت علماء اسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی سنئیر نائب امیر مولناعبدالقادر لونی مرکزی جنرل سیکرٹری مفتی شفیع الدین مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری جوائنٹ سیکرٹری مولنا محمودالحسن قاسمی مرکزی نائب امیر مولنا عبدالروف مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی مرکزی سیکرٹری مالیات حاجی حیات اللہ کاکڑ نے کہا کہ ادارے اپنے آئینی حدود میں رہے تو احترام خود بخود آجاتی ہے اداروں ایک دوسرے کا احترام رکھے تو احترام کے لیے قانون سازی کی ضرورت نہیں پڑتی ہے انہوں نے کہا کہ 73ءآئین اور جمہوری نظام لپیٹنے کی سازش ہے جس میں جمہوریت، جمہوری حقوق کو مزید زیر تسلط لانے کی ایک اور کوشش ہے صدراتی نظام کے لبادے میں امریت کو تقویت دینے کی کوشش ہورہی ہے پاکستان کے مسائل کا حل صدارتی نظام نہیں ہے آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی سے ملک کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے غیر آئینی اقدامات اور مارشلاء نے ملک کو بحرانوں اور مسائل سے دوچار کیا اب پھراقتدار کی توسیع کے لیے پارلیمنٹ سے”نظریہ ضرورت“ جیسے انوکھے فیصلے ہورہی ہے انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم اور صوبائی خودمختیاری پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی جارہی ہیں بلکہ طے شدہ ”پارلیمانی نظام“ کے بجائے ”صدارتی یا جرنیلی نظام“ کی طرف ملک کو دھکیلا جارہا ہےاس ملک کی اساس آئین کو کمزور کرنے کی طرف خطرناک اقدام ہے جو محکوم اقوام میں بے چینی میں مزید اضافہ ہوگا۔جوملک کی محکوم اقوام کو ہر قسم کی قومی حقوق اور برابری سے محروم رکھا جارہا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں