چمن،پاکستان اورافغان حکومت کے فورسز میں فائرنگ کا تبادلہ ،ہلاکتوں کا خدشہ

چمن : پاک افغان سرحدپر ایک مرتبہ پھر کشیدگی ،دوطرفہ فا ئرنگ ،پاک افغان سرحد باب دوستی ہرقسم کی آمدروفت وتجارتی سرگرمیوں کیلئے مکمل طورپر بند کر دیا گیا ،چمن شہرمیں خوف وہراس سرحدی رہائشی علاقوں کے مکین گھروں میںمحصور ہوگئے۔اطلاعات کے مطابق پاک افغان سرحد کلی شیخ لعل محمد پر پاکستانی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ فائرنگ کاتبادلہ شروع ہوا ہے بلکہ بھا ری اسلحہ کے استعمال کی بھی اطلاعات مل رہی ہیں افغان سرحدی ویش منڈی میں گولہ لگنے اور اس کے نتیجے میںہلاکتوں اور زخمیوں کی متضاد اطلاعات مل رہی ہیں جبکہسر کا ری سطح پر کسی بھی قسم کی نقصانات کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے جبکہ پاکستانی سیکورٹی فورسز پاک افغان سرحدی علاقوں میں الرٹ ہوکر پوزیشن سنبھال لیاہے افغان طالبان کی جانب سے پاک افغان سرحدکو مکمل طورپر سیل کردیاگیا جس سے تجارتی سرگرمیاں اور پیدل آمدورفت مکمل طورپر بند ہوگئی ہے جبکہ سرحدی کشیدگی سے زیروپوائنٹ کے نزدیکی رہائشی علاقوں کے مکینوں میں شدید خوف وہراس پھیل گیاہے اور اپنے گھروں میں محصور ہوگئے ہیں سرحدی علاقوں کے رہائشی افراد نقل مکانی شروع کردی ہیں جبکہ دونوں ممالک کے فورسز کے درمیان صورتحال سے متعلق با ت چیت کی گئی ہے سرحد ی کشیدگی کے باعث چمن کے شہریوں میں شدید خوف وہراس پھیل پا یا جا رہا ہے۔ واضح رہے پاک افغان سرحد یو میہ دس ہزار سے زائد افراد آمدورفت ہوتی ہے جبکہ آل پارٹیز تاجر ولغڑی اتحاد کے صدر صادق اچکزئی نے میڈیا کو بتایاکہ اس طرح کشیدگی سے دونوں ممالک کے تجارت کو بدترین نقصانات پہنچنے کا خدشہ ہے جس سے عوام ہی کو نقصان پہنچے گا کیونکہ چمن شہرکے عوام کی تمام تر تجارتی سرگرمیوں اور روزگار کا وسیلہ صرف اور صرف پاک افغان سرحد باب دوستی ہی ہے دونوں ممالک کے سیکورٹی فورسز بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کریں تاکہ عوام کو مزید نقصانات اور بے روزگاری سے بچایاجاسکے کیونکہ بدترین بے روزگاری سے چمن شہرکی امن وامان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہوچکی ہے عرصہ دراز سے چوری وچکاری کے وارداتیں عام ہوتی جارہی ہے خدانخواستہ پاک افغان سرحد کی بندش سے حالات مزید خراب ہونگے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں