ایمنسٹی ا سکیم ،سرمایہ کاروں سے صرف 5فیصد ٹیکس لیا جائے گا
لاہور: وفاقی حکومت کی جانب سے صنعتی شعبے کے لیے ریلیف پیکیج کے خدو خال سامنے آ گئے ہیں جبکہ آئی ایم ایف نے کہاہے کہ ساتویں معاشی جائزے میں اعلان کردہ ریلیف پیکیج اور اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق خصوصی اقتصادی زونز، ایکسپورٹ پراسسنگ زونز اور سپیشل ٹیکنالوجی زونز کے بعد اب صنعتی شعبے کو پروموشن پلان فار انڈسٹری کے ذریعے خصوصی مراعات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق تین نکاتی ایمنسٹی سکیم کے تحت سرمایہ کاری کرنے والوں سے 24 فیصد کے بجائے صرف پانچ فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا اور آمدن کا ذریعہ بھی نہیں پوچھا جائے گا۔ڈیکلیئرڈ بیرونی اثاثے رکھنے والے پاکستانی بھی سکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے اور بیرونی سرمایہ پاکستان لانے والے کو 5 سال تک 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ ملے گا۔بیمار صنعتی یونٹ بحال کرنے والے کو بھی تین سال تک ٹیکس چھوٹ ملے گی، نئے صنعتی یونٹ کو کمرشل پیداوار 30 جون 2024 تک شروع کرنا ہوگی۔ نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ایستر پیریز روئز نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ آئی ایم ایف ساتویں معاشی جائزے میں حکومت کی جانب سے حال ہی میں اعلان کردہ ریلیف پیکیج اور اقدامات کا جائزہ لے گا، مشکل بیرونی حالات کے دوران میکرو اکنامک استحکام کے فروغ کے لیے اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔


