بلوچستان اسمبلی اجلاس،پولیس اور لیویز کی تنخواہوں میں اضافہ کی قراردادمتفقہ طور پر منظور
کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی نے پولیس اور لیویز کی تنخواہوں میں اضافہ سے متعلق قرا ر داد متفقہ طو رپر منظور کرلی۔گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندرخان ایڈووکیٹ نے ایوان میں اپنی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ 7فروری کو وزیراعظم نے دورہ نوشکی کے موقع پر ایف سی اور رینجرز کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ بلوچستان پولیس فورس اور بلوچستان لیویز فورس کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیاحالانکہ پولیس فورس اور لیویز فورس کے جوان بھی عرصہ سے ملک کی دفاع اور تحفظ کی خاطر اپنی جانوں کی قربانیاں د ے رہے ہیں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیراعظم ان کی تنخواہ بھی بڑھانے کا اعلان کرتے اور صوبہ کو اضافی تنخواہ کی رقم مرکز سے بھجواتے۔ صوبائی حکومت سے سفارش کی جاتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ بلوچستان پولیس اور بلوچستان لیویز فورس کی تنخواہوں میں بھی پندرہ فیصد اضافے کے فوری اعلان اور مطلوبہ فنڈز صوبہ کو فراہم کرنے کو یقینی بنائے تاکہ پولیس اور لیویز فورس میں پائی جانے والی بے چینی اور احساس محرومی کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے ملک سکندرخان ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان میں پولیس اور لیویز امن وامان کی بحالی کی ذمہ دار فورسز ہیں دونوں فورسز صوبے کے کونے کونے میں امن وامان کے قیام کے لئے تگ و دو کررہی ہیں اسی طرح ایف سی اور دیگر فورسزبھی ہمارے ملک کی سرحدوں کی محافظ فورسز ہیں وزیراعظم نے سات فروری کو اپنے دورہ نوشکی کے موقع پر ایف سی اور رینجرز کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافہ کیا جس پر خوشی ہوئی مگر وہیں انہوں نے صوبے میں قربانیاں دینے والے پولیس اور لیویز اہلکاروں کو نظر انداز کیا دونوں فورسز کی قربانیاں ہیں انہوں نے زور دیا کہ پولیس اور لیویز اہلکاروں کی تنخواہوں میں بھی اسی طرز پر اضافے کو یقینی بنایاجا ئے۔ پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ لیویز اور پولیس دونوں فورسز مقامی لوگوں پر مشتمل ہیں جن کا صوبے میں امن وامان کے قیام میں اہم کردار ہے بلوچستان کے مقابلے میں دوسرے صوبوں میں پولیس کی تنخواہیں کئی زیادہ ہیں حالانکہ صوبے کے مخدوش حالات میں امن وامان کے لئے پولیس او رلیویز اہلکاروں نے جانوں کے نذرانے دیئے ہیں وزیراعظم نے ایف سی اور رینجرز کی تنخواہوں میں تو اضافے کا اعلان کیا مگر پولیس اور لیویز کو نظر انداز کیا انہوں نے بھی زور دیا کہ پولیس اور لیویز کی تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ دیگر مراعات دی جائیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ نے کہا کہ امن وامان کے حوالے سے مشکل حالات میں پولیس اور لیویز کے اہلکاراپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر عوام کا تحفظ کررہے ہیں انہوں نے تجویز دی کہ آئین کے تحت بلوچستان کانسٹیبلری کے لئے وفاق سے اربوں روپے حاصل کئے جاسکتے ہیں اس سلسلے میں وفاق سے بات کی جائے اس موقع پر انہوں نے بلوچستان اور پنجاب میں پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں کا موازنہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں صوبوں کی تنخواہوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے حالانکہ پنجاب میں حالات بہتر اور مراعات و سہولیات بھی زیادہ ہیں۔ صوبائی وزیر خزانہ نور محمد دمڑ نے قرار داد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یقینا پولیس اور لیویز کی دوسری سیکورٹی فورسز کی طرح قربانیاں ہیں ایف سی، پولیس، لیویز سمیت تمام فورسز کی قربانیوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ہمارے سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے پنجگور اور نوشکی میں جو قربانیاں دیں ان پر ان کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں فورسز کی قربانیوں کی بدولت ہی آج ہم اور ہمارا ملک محفوظ ہے یہ انصاف کا بھی تقاضہ ہے کہ جان ہتھیلی پر رکھ کر خدمات سرانجام دینے والوں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے وزیراعظم نے وفاقی فورسز کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا پولیس اور لیویز کی تنخواہوں میں اضافہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے وزیراعلیٰ کی مشاورت سے آج ہی سے پولیس اور لیویز کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق پیشرفت شروع کریں گے یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ بجٹ میں پولیس اور لیویز کی تنخواہوں میں اضافہ کردیا جائے گا۔بعدازاں ایوان نے قرا ر داد متفقہ طو رپر منظور کرلی۔


