بلوچستان کسی کی جاگیر نہیں ہے بلکہ یہ یہاں کے غریب عوام کی میراث ہے، اسداللہ بلوچ
تربت:صوبائی وزیر زراعت میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کسی کی جاگیر نہیں ہے بلکہ یہ یہاں کے غریب عوام کی میراث ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے غریب عوام نے ہمیں منتخب کرکے اسمبلیوں میں بھیجا ہے اور یہ اب ہماری زمہ داری ہے کہ ہم محنت کش عوام کی حالت بہتر بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں ان خیالات کا اظہار انہوں نے تربت میں پی این پی عوامی کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ہماری منزل نہیں ہے بلکہ عوام کی خدمت کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کو چاہیے کہ اقتدار کی کرسی حاصل کرنے کے بعد عوام کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں اور لوگوں کو باعزت روزگار کا ذریعہ فراہم کریں ناکہ زبانی جمع خرچ سے کام لیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی سربراہی میں صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے سرحدی تجارت کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی ہے جسمیں بلوچستان کے ہر ضلع میں صنعتی یونٹس کا،قیام، زمین داروں کے لیے ٹیوب ویل اور سولر سسٹم کی فراہمی شامل ہے تاکہ بلوچستان کے بےروزگار نوجوانوں کو باوقار روزگار کا ذریعہ فراہم کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین معدنیات کی دولت سے مالامال ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان وسائل کو بروئے کار لاکر ملک اور قوم کی ترقی کے لیے کام کرسکیں۔ انہوں نے بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے سیاسی اختلافات کو بھلا کر عوام کی فلاح وبہبود کے بارے میں مشترکہ طور پر کام کرنا چاہیے تاکہ ہم سب ملکر بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکیں۔ اس دوران انہوں نے سیاسی جماعتوں کو ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں پوائنٹ سکورنگ سے باز آنے کی بھی تلقین کی۔


