بلوچستان میں سیاسی ہلچل میں اضافہ ، ایک بار پھرعدم اعتمادکی آوازیں

کوئٹہ (نیوز ایجنسیاں) بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر سیاسی ہلچل میں اضافہ ہوگیا۔ بی اے پی کے ناراض اراکین نے تحریک عدم اعتماد کے امکانات پر غور شروع کردیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق جام کمال کی زیر صدارت اجلاس میں وزیراعلیٰ سے ناراض اراکین نے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے مشاورت کی۔تاہم کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔بلوچستان عوامی پارٹی کے ارکان سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلی کی اسلام آباد میں مشاورتی نشست سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، تفصیلات کے مطابق منگل کواسلام آباد میں سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان کی قیادت میں بلوچستان عوامی پارٹی کی مشاورتی نشست ہوئی جس میں وفاقی وزیر زبیدہ جلال، سینیٹر انوار الحق کاکڑ، دھنیش کمار، ارکان قومی اسمبلی احسان اللہ ریکی، روبینہ عرفان، صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی ، ارکان صوبائی اسمبلی میر سلیم کھوسہ، میر عارف جان محمد حسنی ،سردار سرفراز ڈومکی و دیگر نے شرکت کی ، اجلاس میں ملکی اور بلوچستان کی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس کے شرکاءنے ملاقاتوں اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا جبکہ دیگر ارکان صوبائی اسمبلی سے رابطے کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و رکن بلوچستان اسمبلی سردار یارمحمد رند سے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی قیادت میں بلوچستان عوامی پارٹی کے وفد نے ملاقات کی ۔وفد میں سردار سرفراز احمد ڈومکی،میر سلیم کھوسہ، میر ظہور بلیدی،میر عارف حسنی،ایم این اے احسان ریکی ،نوابزادہ میر زرین خان مگسی، سینیٹر انوار الحق کاکڑ ،سینیٹر دنیش کمار ،میر رامین حسنی ،میر حبیب حسنی ،سردار نور احمد بنگلزئی،آغا شکیل درانی،ایڈوکیٹ امیر محمد ترین ،ملک شہریار خان شامل تھے۔ ملاقات کے دوران ملک اور خاص کر بلوچستان کی سیاسی صورتحال سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ادھر ملاقات کے بعد جام کمال خان نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال انتہائی خراب ہے ۔ لوگ مایوسی کا شکار ہیں حکومت عوام کے جان ومال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ صوبائی اراکین کوئی ٹھوس فیصلہ کریں انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق 8 اپریل سے پہلے وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک نہیں آسکتی ۔ تاہم دوست اس تاریخ کے بعد عدم اعتماد کی تحریک لانے مشاورت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی حالات کا بلوچستان پر اثر پڑنا لازمی ہے ہم صوبے میں ایک سیاسی بحران دیکھ رہے ہیں۔ کوئٹہ(نیوز ایجنسیاں)وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے سینئر صوبائی وزیر میر ظہور بلید ی سے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کا قلم دان واپس لے لیا، منگل کو وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے حکومت بلوچستان کے قوائد 2012کے قائدہ 3(5)کے تحت سینئرصوبائی وزیر میر ظہور بلید ی سے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیا ت کا قلم دان واپس لے لیا جس کے بعد محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کا قلمدان وزیراعلیٰ کے پاس رہے گا اس حوالے سے چیف سیکرٹری بلوچستان نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، یاد رہے کہ سینئر صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے گزشتہ کابینہ اجلاس سے اپوزیشن کے حلقوں کے لئے فنڈزکی منظوری دینے پر اعتراض کرتے ہوئے واک آﺅٹ کیا تھا جس کے بعد سے وہ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے امور سرانجام نہیں دے رہے تھے ۔بلوچستان عوامی پارٹی کے صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے کہا ہے کہ میرے حلقے کی عوام نے میرے خاندان کو 8 دفعہ اور مجھے2 دفعہ ایوان میں نمائندگی کیلئے منتخب کیا ہمارا خاندان خدمت کی سیاست کرتا ہے نہ کہ عہدوں کی وزارتیں بھی ہمارے لئے نئی نہیں مجھے 2008 میں کم عمر وزیر بننے کا اعزاز حاصل ہوا عوام کے مفاد اور وزارت میں سے فیصلہ میرے لیے مشکل نہیںیہ بات انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہی انہوں نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کا قلم دان واپس لینے پر رد عمل میں کہا کہ مجھے فخر ہے میں نے عوام کے حقوق اور صوبے کے مستقبل کا سودا کرنے کی بجائے مزاحمت کا فیصلہ کیامیں نے کابینہ کے آئینی فورم پر غریب صوبے کے 30 ارب کے وسائل کی بندر بانٹ پر آواز اٹھائی اور اس کرپشن کے بازار کا حصہ بننے سے انکار کیا اب ایک ممبر کے طور پر نااہل لوگوں کا محاسبہ کروں گاانہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام بے چینی اور پسماندگی کا شکار ہیں لیکن محکموں میں نوکریوں اور ٹھیکوں کی بولی لگی ہوئی ہے کچھ وزراءبراہ راست ملوث ہیں میں نے الحمدللہ اسمبلی کے فلور پر اور کابینہ کے اجلاس میں اس مکروہ عمل کی مخالفت کی۔ انشاءاللہ عوامی مفادات کو کسی کو نقصان پہنچانے نہیں دیں گے۔ وزیر میر ظہور احمد بلیدی نے الزام عائد کیا ہے کہ بلوچستان میں نوکریوں اور ٹھیکوں کی بولی لگی ہوئی ہے جن میں کچھ وزراءبراہ راست ملوث ہیں ، انہیں فخر ہے کہ انہوں نے عوام کے حقوق اور صوبے کے مستقبل کی سودا کرنے کی بجائے مزاحمت کا فیصلہ کیا ، کابینہ کے آئینی فورم پر غریب صوبے کے 30ارب کے وسائل کی بندربانٹ پر آواز اٹھائی اور کرپشن کے بازار کا حصہ بننے سے انکار کیا ۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر اپنے جاری کرد ہ پیغامات میں انہوں نے کہا ہے کہ میرے حلقے کی عوام نے میرے خاندان کو 8دفعہ اور مجھے2دفعہ ایوان میں نمائندگی کیلئے منتخب کیا۔ ہمارا خاندان خدمت کی سیاست کرتا ہے نہ کہ عہدوں کی۔ وزارتیں بھی ہمارے لئے نئی نہیں مجھے 2008 میں کم عمر وزیر بننے کا اعزاز حاصل ہوا عوام کے مفاد اور وزارت میں سے فیصلہ میرے لیے مشکل نہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ مجھے فخر ہے میں نے عوام کے حقوق اور صوبے کے مستقبل کا سودا کرنے کی بجائے مزاحمت کا فیصلہ کیا۔ میں نے کابینہ کے آئینی فورم پر غریب صوبے کے 30 ارب کے وسائل کی بندر بانٹ پر آواز اٹھائی اور اس کرپشن کے بازار کا حصہ بننے سے انکار کیا اب ایک ممبر کے طور پر نااہل لوگوں کا محاسبہ کروں گا۔ میر ظہور احمد بلیدی کے مطابق صوبے کے عوام بے چینی اور پسماندگی کا شکار ہیں لیکن محکموں میں نوکریوں اور ٹھیکوں کی بولی لگی ہوئی ہے کچھ وزرا براہ راست ملوث ہیں۔ میں نے الحمدللہ اسمبلی کے فلور پر اور کابینہ کے اجلاس میں اس مکروہ عمل کی مخالفت کی۔ انشااللہ عوامی مفادات کو کسی کو نقصان پہنچانے نہیں دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں