خضدار کو سوئی گیس کی فراہمی کا منصوبہ تین سال میں شروع نہ ہوسکا
خضدار(نمائندہ خصوصی)2021 کو خضدار میں گیس فراہمی کے لیے ٹرینڈر ہوناتھا لیکن نہ ہوسکا اور یہ گمان ہے کہ آنے والے دو تین سال تک ٹرینڈر نہ ہوسکے گا۔ ایک طرف وزیراعظم کا گرین پروجیکٹ پر کا چل رہاہے جبکہ دوسری طرف خضدار میں درختوں کے بےدریغ کٹائی جارہی ہے جس کی بنیادی وجہ خضدار میں گیس کی عدم دستیابی اور اندھن کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے بلوچستان کا سب سے بڑا ضلع جوکہ کوئٹہ کے بعد بلوچستان میں دوسرا اہم ضلع ہے، جسے بلوچستان کا دل بھی کہاجاتاہے مگر یہ ضلع اس جدید دور میں بھی گیس کی سہولت سے محروم ہے، باوجود اس کے کہ اس ضلع کے پاس تین مرتبہ وزیراعلی اور ایک مرتبہ نگران وزیراعلی کا عہد بھی رہاہے لیکن چار مرتبہ کے وزارت علیا کے حصول نے بھی اس ضلع کی قسمت نہیں بدلی۔ گیس سے محروم یہاں کے لوگ لکڑیوں پر گزارا کرتے ہیں لکڑیوں کے استعمال جہاں تکلیف دہ امر ہے تو وہیں ماحول دوست بھی نہیں اس کے علاوہ لکڑیوں کے وافر مقدار میں استعمال کا اثر قدرتی جنگلات پر بھی پڑہارہاہے، لکڑیوں کے بےدریغ استعمال سے مستقبل قریب میں قدرتی جنگلات نام ونشان مٹ سکتی ہے جبکہ جنگلات کی ماحولیاتی اہمیت اور حیواناتی زندگی کے ساتھ اہم ربط ہے مگر خضدار میں جنگلات کے کٹاو¿ کا عمل جاری ہے۔ اس کی بڑی وجہ خضدار میں گیس کے عدم دستیابی اور بڑھتی ہوئی انسانی آبادی ہے جس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جنگلات کا بے دریغ کٹاو¿ کیا جا رہا ہے۔ جنگلات کے کٹاو¿ کی وجہ سے نہ صرف ماحول بلکہ انسان اور دوسرے جانوروں کی حیاتیاتی تنوع پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں جوکہ ایک نہایت تشویشناک امر ہے کیونکہ درختوں کا کٹاو آلودگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ انسانی زندگیوں اور جنگلی حیات کو بہت متاثر کر رہا ہے۔کسی علاقے کے طول و عرض میں جنگلات لگانا اس علاقے کے درجہ حرارت کو کم اور ماحول کو صاف رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، درخت جس تیزی سے کاٹے جارہے ہیں، اس کے نتیجے میں فضا میں ا?کسیجن کم اور کاربن ڈائی ا?کسائیڈ زیادہ ہو رہی ہے، جو انسان اور جانداروں کے لیے شدید خطرات کا باعث ہے۔ جبکہ درختوں کی زیادہ کٹائی کی صورت میں فضا میں موجود ozone کی تہہ کمزور پڑجاتاہے جس سے کینسر جیسی مہلک بیماری زور پکڑتی ہے جبکہ خضدار پہلے کینسر کے لپیٹ میں ہے جنگلات ختم ہونے پر کینسر کو زور پکڑنے میں مزید تقویت مل جائے گی۔ مگر کیا جائے کہ اس کے علاوہ اندھن کے لیے پریشان حال شہریوں کے پاس کوئی حل بھی نہیں، انہیں روزہ مرہ کھانا بنانے کیلئے بھی لکڑیوں کی ایندھن پر ہی قناعت کرنا پڑتاہے۔ خضدار سے منتخب ہونے والے تین ایم پی اے اور ایم این اے سے کیاگلہ ہے، یہاں کے نمائندے وزیراعلی بن کے بھی گیس نہ لاسکے۔ اس ضلع سے منتخب ہونے والے سردارعطااللہ مینگل جبکہ ان کا فرزند سراداراخترمینگل بھی وزیر اعلی رہے جبکہ اس ضلع کے میرنصیرمینگل نگراں وزیراعلی رہے، تیسرا وزیراعلی یہاں منتخب ہونے والا نواب ثنااللہ زہری تھے کہ جو 2018 تک وزارت علیا کے منصب پر فائز رہے۔ لیکن خضدار کو گیس نصیب نہ ہوسکا۔ ایک بار وزیراعلی اور اب ایم این اے رہنے والا سرداراخترمینگل سے نمائندہ انتخاب نے رابطہ کیا کہ وہ کس حد تک گیس لانے میں کوشش کی ہے تاکہ وہ عوام کے سامنے لایاجاسکے۔ انہوں نے رابطہ کار کے ذریعے سوال مانگا تو انہیں سوال وٹساپ کیاگیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا جبکہ دومرتبہ صوبائی وزیر اور ایک مرتبہ وزیراعلی رہنے والے نواب ثنااللہ خان زہری سے رابطہ کیاگیا تو ان کہناتھاکہ انہوں نے اپنی وزارت علیا کی دور میں خضدار میں گیس کو لانے کیلئے بھرپور کوشش کی تھی اور میاں نواز شریف کو بھی کہا کہ گیس کے لائن کے بجائے گیس پلانٹ فراہم کریں اس سے گیس چوری اور لیکیج سے محفوظ رہے گا ہماری یہ خواہش تھی کہ ایک پلانٹ خضدار جبکہ وڈھ، زہری نال، کرخ میں بھی الگ پلانٹ ہو اس سے خرچہ بھی کم ہوگا اور صارفین کو سہولت بھی ہوگی انہوں نے کہاکہ ہم سے جتنا ہوسکا ہم نے گیس فراہمی کے لیے کوشش کی اور ایک حد تک پراسس کو لے آئے اب یہ خضدار کے ایم این اے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس مراحل کو آگے بڑھا کر خضدار میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور اب جبکہ ان کی پارٹی کے چار ایم این اے ہیں لہذا وہ اگر چاہتے تو یہ کام مشکل نہیں ہم اگر آنے والے وقت میں کسی بھی اہم عہدے پر آتے ہیں تو ہمارے اولین ترجیح خضدار کو گیس فراہمی ہوگی۔ ویسے بھی اس بار تو خضدار کی قسمت جاگ اٹھی ہیکہ یہاں سے کامیاب ہونے والے تین مختلف پارٹیوں کے تینوں ایم پی اے اپوزیشن میں ہے خیر اگر حکومت میں ہوتے بھی کونسا ان کو کام کرنا تھا پہلے حکومت کے حصہ بننے والوں نے کیا کیا جوکہ یہ کرتے تاہم ان کے پاس اب یہ جواز موجود ہیکہ وہ حکومت کا حصہ نہیں اس ل?ے بےبس ہے لیکن یہ بےبسی کس حد تک ہے یہ بات بتانے سے ہمارے ایم پی ایز قاصر ہے عوامی حلقے یہ بات کہنے میں حق بجانب ہے کہ اگر ان کے نمائندوں کے ہاتھ میں کچھ نہیں تو زبان آزاد ہے، اسمبلی فلور آواز بلند تو کرسکتے ہیں۔ خضدار میں گیس کی منظوری کے لیے جدوجہد کرنے میں نمایاں نام سابق وفاقی وزیر میراسرراللہ خان زہری نے "نمائندہ انتخاب” سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اب تک گیس کا ٹینڈر نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ 2016 کو ہی خضدار کو گیس ملنا تھا اسی وقت ہم فائل مکمل کروایا تھا جبکہ اپرول باقی تھاجبکہ پیسہ نہیں کیا جا رہا تھا اس میں نے سرداراخترمینگل سے بات کی اور کردار ادا کرنے کو کہاکہ اخترمینگل اور ہم نے اس کے فائل کیا گیا اور میں اس وقت سرداراخترمینگل کردار ادا کرنے کے لیے بات کی تھی، میراسراراللہ زہری کے مطابق خضدار سے سینٹر تین ایم پی اے اور ایم این کے باجود خضدار کو گیس جیسی بنیادی سہولت کا نہ ملنا المیہ ہے، خضدار کو گیس فراہمی سے نہ خزانہ کا نقصان ہے اور نہ ہی گیس کمپنی نقصان ہوگا کیونکہ دو سے تین سال کے اندر صارفین سے بل کی صورت میں وہ پیسہ وصول ہونگے ہاں اگر نقصان ہوگا تو شاید خضدار منتخب ہونے والے عوامی نمائندوں کا ہو انہوں نے کہا کہ ہمارے نمائندے وزارت اور دیگر کمیٹیوں کے ممبر بننے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں کیا سوئی سدرن کمیٹی کے ممبر نہیں بنتے اگر وہاں ممبر ہوجائے یہ کام ان کے لیے بالکل آسان ہوگا۔ انہوں نے مشورہ دیاکہ اگر ایئرمکس پلان دیا جائے تو یہ بہتر ہوگا کیونکہ اس میں خرچہ بھی کم ہوگا جبکہ صارفین لوڈشیڈنگ سے بھی آزاد ہونگے، انہوں نے منتخب شدہ عوامی نمائندوں کو ہدف تنقید بناتے کہاکہ اگر وہ چاہیے تو خضدار کو گیس ملنا بعید نہیں، اس کے لیے ان میں سے اگر دو افراد جاکر اسلام آباد ڈیرے ڈالائیں تو شاید دو دن کے اندر معاملات طے ہو، ایک سوال کے جواب میں ان کا کہناتھا کہ وزیراعلی بلوچستان سے اس متعلق کردار ادا کرنے کا کیا امید کیاجاسکتا کہ جب وہ وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم تھا اور اس وقت انہوں نے لسبیلہ اور وندر کو گیس دیکر خضدار کو نظر انداز کیا تھا تو اب کہاں خضدار کے ساتھ مخلص ہونگے۔ اس ضمن آواز بلند کرنے یاعملی کیاکردار ادا کیاگیا یہ جاننے کے لیے ہم نے ڈسٹرکٹ خضدار سے منتخب ہونے والا میراکبر مینگل سے رابطہ ہوا تو ان کا کہناتھاکہ پارٹی کی طرف سے وفاقی حکومت کیساتھ بات چیت کرنے کیل?ے کمیٹی بنی ہے انہوں نے بلوچستان میں گیس نہ ہونے کی نکتہ کو اٹھایا ہے جس میں خضدار میں گیس کی عدم دستیابی سرفہرست ہے اس کے علاوہ ان کی پارٹی کے لوگوں نے گیس کیل?ے صوبا?ی حکومت سے بھی بات کی ہے جب ان سے یہ سوال کیاگیا کہ پارٹی سے ہٹ کر آپ اپنا بتا?یں کہ آپ یہاں کے عوام کا نما?ندگی کررہے ہو آپ نے کیا کردار ادا کیاہے تو ان کا کہنا تھاکہ اب تک انہوں نے اس حوالے سے بات نہیں کی ہے تاہم اب صوبا?ی اسمبلی میں اس پر ضرور آواز بلند کریں گے اور پارٹی کے دیگر ارکان سے ملکر وفاق پر دباو¿ ڈالیں گے وہ خضدار کو گیس فراہم کریں۔


