’انصار الاسلام‘ کی موجودگی پر پارلیمنٹ لاجز میں پولیس کا آپریشن، صلاح الدین ایوبی سمیت متعدد افراد گرفتار

اسلام آباد: پارلیمنٹ لاجز میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے محافظ دستے انصار الاسلام کے کارکنوں کی موجودگی پر اسلام آباد پولیس نے آپریشن کرکے متعدد گرفتاریاں کی ہیں۔پارلیمنٹ لاجز میں آپریشن ڈی آئی جی آپریشن کی کمانڈ میں کیا گیا۔ میڈیا کو پارلیمنٹ لاجز سے نکال دیا گیا جس کے بعد پولیس کی نفری نے صلاح الدین ایوبی کے لاج کا دروازہ توڑ کر گرفتاریاں شروع کیں۔انصار الاسلام کی پارلیمنٹ لاجز میں موجودگی، فضل الرحمان کا مؤقف آگیااطلاعات کے مطابق پولیس جے یو آئی کے ایم این اے صلاح الدین ایوبی کو بھی گرفتار کر کے لے گئی جبکہ 10 سے 12 رضا کاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔قبل ازیں پولیس افسران پارلیمنٹ لاجز پہنچے جہاں ان کے جے یو آئی کے رکن قومی اسمبلی صلاح الدین ایوبی سے مذاکرات جاری تھے۔صلاح الدین نے پولیس سے کہا کہ انصارالاسلام کےکارکُن ہمارےمہمان ہیں، ہمارےمہمان قانون کے مطابق آئےہیں ،کارکنوں کے پاس اسلحہ نہیں ہے۔پولیس نے کہا کہ ہم ان کارکنوں کو تھانے لے کر جائیں گے جس پر صلاح الدین ایوبی نے کہا کہ میرامہمان میرےکمرےمیں ہے آپ مجھے تھانے لے جائیں، میرے مہمان کو نہیں۔بعد ازاں اس معاملے کا آئی جی اسلام آباد پولیس محمد احسن یونس نے بھی نوٹس لیا اور ڈی چوک پر ناکہ انچارج، پارلیمنٹ لاجز کے انسپکٹر انچارج اور لائن آفیسر کو معطل کردیا۔اس کے بعد پولیس اہلکار پارلیمنٹ لاجز کے چوتھے فلورپرپہنچی اور صلاح الدین ایوبی کے لاج نمبر 401 کے باہر پولیس کارش لگ گیا، پولیس نے دونوں اطراف سے لاج کو گھیرے میں لیا اور اس دوران ایم این اےصلاح الدین ایوبی سے ایس ایس پی آپریشنز فیصل کامران سے مذاکرات بھی ہوئے۔صلاح الدین ایوبی نے کہا کہ آپ اپنے پولیس اہلکاروں کو نیچے لے جائیں لیکن پولیس رکن قومی اسمبلی صلاح الدین ایوبی کے لاج میں داخل ہوگئی اور تلاشی لی۔مزید پولیس اہلکار جب رکن قومی اسمبلی صلاح الدین ایوبی کےلاج میں داخل ہوئےتو اس موقع پر ایم این اے صلاح الدین ایوبی کے اسٹاف اور پولیس میں ہاتھا پائی بھی ہوئی اور پھر باضابطہ آپریشن کرکے صلاح الدین ایوبی اور انصار الاسلام کے رضاکاروں کو گرفتار کرلیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے ارکان کے لاپتہ کیے جانے اور سکیورٹی پر خدشات ظاہر کیے تھے جس کے بعد مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا تھا کہ انصار الاسلام کے کارکن اپوزیشن کے تمام ارکان کو سکیورٹی فراہم کریں گے۔
خیال رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کیخلاف قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے جس پر اب اسپیکر کو اجلاس بلا کر ووٹنگ کرانی ہے۔

اپوزیشن کو خدشہ ہے کہ ان کے ارکان کی تعداد کم کرنے کیلئے گرفتاریاں یا ارکان کو غائب کیا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں