آواران، پسند کی شادی پر لڑکی قتل، مبینہ قاتل گرفتار
آواران (انتخا ب نیوز) بلوچستان کے ضلع آواران میں پسند کی شادی پر لڑکی کو مبینہ طور اس کے رشتہ داروں نے قتل کردیا ہے۔ واقعے پر مختلف مکاتب فکر کی جانب سے رد عمل دیا جارہا ہے جبکہ ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کرلیا گیا ہے۔ بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات تواتر کیساتھ رونماءہوتے رہتے ہیں، ان واقعات کی اکثریت میڈیا پر رپورٹ نہیں ہوپاتی جبکہ رپورٹ ہونے والے واقعات کی اعداد و شمار تشویشناک ہے۔ غیرت کے نام پر رونماءہونے والے قتل کے ان واقعات میں زیادہ تر نشانہ خواتین بنتی ہیں۔ بلوچستان کے ضلع آواران سے حال ہی میں اسی نوعیت کا ایک واقعہ رپورٹ ہوا ہے، جس میں پسند کی شادی پر نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر اس کے اپنے ہی رشتہ داروں نے قتل کردیا۔ یہ واقعہ آواران کے علاقے لباچ ڈنسر میں پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق واقعے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرکے آلہ قتل برآمد کرلیا گیا ہے۔ آواران لباچ میں کیا ہوا؟ لباچ ڈنسر کا علاقہ آواران ہیڈکوارٹر سے 16 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ علاقائی ذرائع نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے ٹی بی پی کو بتایا کہ ڈنسر کی رہائشی لڑکی ماہ زیب حضور بخش نے رواں سال فروری کی چار تاریخ کو ایک لڑکے کیساتھ بھاگ کر ضلع کیچ کے علاقے ڈنڈار میں ایک علاقائی معتبر کے یہاں بلوچی رسم کے تحت باہوٹ یعنی پناہ لی تھی۔ مذکورہ معتبر نے انہیں رسم کے تحت باہوٹ دی اور وہاں انکی شادی کی رسم ادا کی گئی۔ ذرائع کے مطابق شادی کے پندرہ روز بعد مقتول ماہ زیب کے چچا خالد علاقائی معتبر کو لڑکے اور لڑکی کو نقصان نہ دینے کی یقین دہانی پر اپنے ہمراہ لے گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ لڑکے اور لڑکی کو گھر منتقل کرنے کے بعد 11 مارچ کو آٹھ بجے کے قریب لڑکی کو اس کے چاچا رفیق نے مبینہ طور پر قتل کردیا جبکہ اس سے قبل لڑکے کو طلاق دینے پر مجبور کیا گیا۔ لڑکے نے زبردستی طلاق کے متعلق قاضی کورٹ میں کیس دائر کی تھی، کیس کی پیشی ہفتے کے روز تھی جبکہ جمعہ کی رات کو لڑکی کو قتل کردیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کی پیش رفت: واقعے پر آواران اتنظامیہ کے اقدامات سے متعلق ٹی بی پی نے رابطے کی کوشش کی تو ایک آفیسر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کیس پر روز اول سے ضلعی انتظامیہ متحرک رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے فوراً بعد مقتول لڑکی کے رشتہ داروں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جبکہ خواتین کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے، تاہم شواہد کی عدم دستیابی پر انہیں بعدازاں رہا کردیا گیا۔ مذکورہ افسر نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کیس کے حوالے سے مزید پیش رفت میں گذشتہ رات مقتول کے دو چاچا اور کزن گرفتار کرلیے گئے جبکہ بعدازاں چاچا رفیق کے اعتراف جرم پر آلہ قتل بھی برآمد کیا گیا ہے۔


