عمران خان اور چیئرمین سینیٹ کے علاوہ کس کس کو ہٹانا ہے یہ فیصلہ مشاورت سے ہوگا,شہباز شریف

صدر مسلم لیگ ن اور اپوزيشن لیڈر شہباز شریف نےکہا ہےکہ متحدہ اپوزيشن کا پہلا ہدف عدم اعتماد کے ذریعے عوام کی عمران خان سے جان چھڑانا ہے، چیئرمین سینیٹ بھی اپنا لائيں گے۔

نی جی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور چیئرمین سینیٹ کے علاوہ کس کس کو ہٹانا ہے ؟ یہ فیصلہ عمران نیازی کو ہٹانے کے بعد مشاورت سے ہوگا، عدم اعتماد کے بعد انتخابی اصلاحات کرکے فوری طورپر نئے انتخابات کی طرف جانا چاہیے، وزیراعظم کے عہدے سے متعلق نواز شریف پارٹی کی مشاورت سے فیصلہ کریں گے۔

صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ ہم نے عوام کی خواہشات کی تکمیل کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے، اس نااہل حکومت نے قوم کا وقت بربادکیا، پاکستان کی کشتی ہچکولےکھا رہی ہے، معیشت ڈوب چکی ہے، ہم آئین اور قانون کی مدد سے گندگی کے ٹوکرے کو دریا برد کرنا چاہتے ہیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ صدر مملکت عارف علوی نے بھی انتہائی مایوس کیا، وہ یس مین ثابت ہوئے، صدر عارف علوی کو یس مین والے کردار سے پہلے سو بار سوچنا چاہیے تھا، وہ ایسی اوٹ پٹانگ باتیں کر جاتے ہیں جو صدر کے شایان شان نہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی دھمکیاں سنی ہیں، یہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بنانا چاہتے ہیں ، اگر وہ جلسہ کریں گے تو ہم بھی ہرصورت جلسہ کریں گے، ان کے اپنے اتحادی شجاعت حسین نےکہا کہ کسی کو پیسا نہیں دیا گیا ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوئی ، پیسا اور ہارس ٹریڈنگ بلوچستان اور سینیٹ کے الیکشن میں کی گئی، ہارس ٹریڈنگ ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے الیکشن میں کی گئی۔

انہوں نےکہا کہ چوہدری صاحبان منجھے ہوئے سیاستدان ہیں، پاکستان کے وسیع ترمفاد میں فیصلہ کریں گے، امید ہے کہ وہ عوام اور پاکستان کا مفاد دیکھ کر متحدہ اپوزیشن کے ساتھ جائیں گے، زرداری صاحب نے بتایا کہ ان کا ایم کیو ایم سے معاملہ طے پاگیا ہے، جام کمال سے ذاتی مراسم ہیں امید ہےکہ وہ صحیح فیصلہ کریں گے۔

اپوزيشن لیڈر شہباز شریف نےکہا کہ ہماری پہلی کوشش اور توجہ اس نااہل حکومت سے جان چھڑانا ہے، عمران خان نیازی کو سیاسی اور آئینی ہتھیاروں سے زیر کریں گے، ممبران کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے، علی وزیر کا پروڈکشن آرڈر جاری ہونا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دل پر پتھر رکھ کر دھاندلی سے آئے سلیکٹڈوزیراعظم کو چار سال قبول کیا، جمہوریت کو پنپنے کے لیےکہا کہ ہم پارلیمان میں کردار ادا کریں گے، اگر ہم استعفے دے کر چلے جاتے تو آج اس حکومت سے کیسے جان چھڑاتے، عمران خان نےکہا تھا کہ ایمپائر نیوٹرل ہوجائے تو معاملات ٹھیک ہو جاتے ہیں، عمران خان سے زیادہ محسن کش شاید ہی دنیا میں پیدا ہوا ہو، اب پی ٹی آئی کسی کو پارٹی ٹکٹ کے ساتھ کروڑ روپے بھی دے تو کوئی نہ لے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں