پر امن جمہوری سیاسی کارکنوں کو خوف کے سائے میں رکھا گیا ہے، این ڈی پی

کوئٹہ ( پریس ریلیز) نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچستان میں سیاست کو کالعدم قرار دیا گیا ہے پر امن جمہوری سیاسی کارکنوں کو خوف کے سائے میں رکھا گیا ہے۔ بلوچستان میں اظہار رائے آزادی پر پابندی اور سیاسی کارکنان کو ماروائے آئین جبری طور گمشدہ کرنا تشویش ناک ہے جس کے خلاف ہر فورم پر مزاحمت کریں گے۔ ترجمان نے کہا کہ ہماری پارٹی کے مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر ڈاکٹر جمیل بلوچ سمیت دیگر سیاسی کارکنان کو بارکھان میں سیاسی امور کو بحال کرنے کی سزا کے طور پر جبری طور پر گمشدہ کر کے غیر اعلانیہ طور پر پابند سلاسل رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر جمیل بلوچ کو 23 فروری 2022 کو اس وقت اغوا کیا گیا جب معمول کے مطابق وہ اپنے میڈیکل اسٹور میں بیٹھے ہوئے تھے اس واقع کے بعد سیاسی کارکنوں کو اغوا کرنے کا تسلسل شروع کیا گیا جس میں نسیم بلوچ اور شاہ زین بلوچ بھی بارکھان سے جبری گمشدگی کا شکار ہوئے۔ ترجمان نے بیان کے آخر میں کہا کہ بارکھان سے ماروائے آئین جبری گمشدہ ہونے والے ڈاکٹر جمیل بلوچ، نسیم بلوچ اور شاہ زین بلوچ سمیت بلوچستان بھر سے اغوا ہونے والے لاپتہ افراد کے لیے 26 مارچ 2022 کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا جائے گا جس میں ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو شرکت کی دعوت دی جاتی یے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں