امریکہ کی جانب سے روس کی جوہری نقل و حرکت کی مسلسل نگرانی

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی وزارت دفاع پینٹاگان کے ایک سینئر ذمے دار نے کہاہے کہ امریکا روسی افواج کی نگرانی کر رہی ہے تا کہ ماسکو کی جانب سے حیاتیاتی یا کیمیائی مواد یوکرین منتقل کرنے کا انکشاف ہو سکے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مذکورہ ذمے دار نے یوکرین کی صورت حال سے متعلق بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ اس چیز پر نظر رکھی جا رہی ہے کہ آیا روس کی جانب سے گولہ بارود مثلا میزائل و راکٹ میں کیمیائی یا حیاتیاتی مواد رکھا جا رہا ہے۔ اسی طرح روس کی جوہری نقل و حرکت کی بھی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔امریکی ذمے دار کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیار کے استعمال کے حوالے سے روسی بیانات نہایت خطرناک ہیں۔یوکرین کے شہر ماریوپول کے حوالے سے امریکی ذمے دار نے بتایا کہ ماریوپول کو بم باری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ روسی فوجی شہر کے اندر یوکرینی فوج کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہیں۔ تاہم یوکرین کی جانب سے شہر کے دفاع کے واسطے شدید مزاحمت ہو رہی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران میں بحیرہ آزوف میں 5 سے 7 بحری جہازوں نے ماریوپول کے اطراف بم باری کی۔پینٹاگان کے سینئر ذمے دار نے بتایا کہ امریکیوں کے اندازوں کے مطابق روسی فوج کو غذائی اشیا اور توانائی کی قلت کا سامنا ہے۔ بعض روسی فوجی شدید سردی کا شکار ہو کر لڑائی کے میدان سے باہر آ گئے۔امریکی ذمے دار کے بیان کے مطابق روس نے اب تک یوکرین پر 1100 سے زیادہ میزائل داغے ہیں۔ گذشتہ 10 روز کے دوران میں شہریوں اور رہائشی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔یہ کارروائی جنگی جرائم تک پہنچ سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں