کوئٹہ، مطالبات کی عدم منظوری کیخلاف رات گئے ینگ ڈاکٹرز کا ریڈ زون میں دھرنا

کوئٹہ (انتخاب نیوز) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف فیڈریشن کی جانب سے ریڈ زون میں رات گئے دھرنا جاری رہا مطالبات منظور ہونے کے باوجود حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے پر ینگ ڈاکٹرز ایک بار پھر سراپا احتجاج بن گئے۔ جمعرات کی شام کو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اور آل پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف فیڈریشن کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی اور ریڈ زون میں دھرنا دیا گیا دھرنا رات گئے بھی جاری رہا۔ دھرنے کی وجہ سے ریڈ زون و اطراف کو ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا۔ ریلی کی قیادت ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے ڈاکٹر بہار شاہ، ڈاکٹر حفیظ مندوخیل، آل پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف فیڈریشن کے صدر جمال شاہ کاکڑ و دیگر کررہے تھے۔ ینگ ڈاکٹرز کے رہنماں نے کہا کہ ہمارے مطالبات کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیا جارہا یے۔ریڈزون سے تب تک نہیں اٹھینگے جب تک نوٹیفکیشن نہیں ہوجائے۔ڈاکٹر حفیظ مندوخیل نے کہا کہ ہمارے مطالبات عوامی ہے جس میں تمام ہسپتالوں میں ادویات بشمول ایمرجنسی میڈیسن، ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات بشمول ایم آر آئی، سی ٹی سکین، کیتھ لیب، ڈیکسا سکین اور اینڈوسکوپی، لیبارٹریز اور ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی 24/7 خدمات، تمام مشینری کی بحالی، ہسپتالوں میں میڈیکل و لیڈی میڈیکل آفیسرز، اے پی / ایس آر کی آسامیاں، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کیلئے ایچ پی اے کے علاوہ محکمہ صحت کو بااختیار بنانے جیسے مطالبات شامل ہیں جو حکومت کی طرف سے تسلیم بھی کئے گئے ہیں لیکن نوٹیفکیشن جاری کرنے میں لیے و لعل سے کام لیا جا رہا ہے ۔ واضح رہے کہ ینگ ڈاکٹرز نے آخری بار 9 فروری کو احتجاجی دھرنا دیا تھا وزیر صحت احسان شاہ سے کامیاب مذکرات کے بعد دھرنا ختم ہوا تھا ینگ ڈاکٹرز نے نوٹیفکیشن جاری ہونے تک احتجاج ملتوی کیا تھاجبکہ حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کرنے کیلئے تین دن کا وقت لیا تھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں