ادارہ برائے علاج و بحالی منشیات میں کرپشن کا نوٹس لیا جائے، بی ایس او پجار
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار)کے مرکزی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر طارق بلوچ نے کہا ہے کہ سماجی بہبود ادارہ برائے منشیات بحالی مریضان کے ایڈمنسٹریٹر کے ناہلی و کرپشن سے ادارہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکاہے بدعنوان ایڈمسٹریٹر 10سالوں سیاسی اثرواسوخ کی بنیاد پر ایک ہی سیٹ پر براجماں ہے جو سمجھ سے بالا تر ہے چیف سیکرٹری بلوچستان و دیگر اعلیٰ حکام بدعنوانی اور کرپشن کا نوٹس لیکر ملوث آفیسر کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے اخباری بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹر ادارہ و برائے علاج وبحالی مریضان منشیات ملازم کش پالیسی پر عمل پیرا ہے جس ادارے کے ملازمین شدید مایوسی اور بے چینی میں مبتلا ہورہے ہیں محکمہ سماجی بہبود کے غریب وشریف ملازمین پر عرصہ حیات تنگ کردیاگیاہے۔ ایڈمنسٹریٹر ادارہ و برائے علاج وبحالی مریضان منشیات کمپلکس میں بدعنوانی سے ادارے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے بدعنوانی اور کرپشن کا یہ علامیہ ہے کہ سرکاری سطع پر 300مریضوں کے لئے فنڈ فراہم کی جاتی ہے مگر موصوف صرف 70مریض کو ہی داخل کرتا ہے بدعنوان ایڈمنسٹریٹر کو 10سالوں سے ایک ہی سیٹ پر تعینات کرنا مخلوق خدا اور زمانے کے ستائے ہوئے لوگوں کیساتھ ناانصافی ہے۔اور ایپکا سماجی بہبود کے ملازمین نمایندوں کو کو سننے کے کی بجائے ملازمین کو دھونس دھمکیوں سے حراساں کرنے پر زور مزمت کرتے ہوئے کہا کہ ایڈ منسٹریٹر ادارہ و براے علاج و بحالی منشیات پسند و ناپسد کی بنیاد پر ملازمین کو دھونس دھمکیوں سمھج سے بالا تر ہے انہوں نے کہا کہ ملازمین کو تنگ کرنے کے انکے مسائل فورا حل کیے جاہیں چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا کی توجہ مخلوق خدااور زمانے کے ستائے ہوئے لوگوں کیاس عظیم ادارے میں پچھلے 10سالوں ایک ہی ایڈمنسٹریٹر کو تعینات رہنے کی جانب راغب کرتے ہوئے کہاکہ موصوف نے پورے دورانیہ میں اپنی توانائی کرپشن اور 20پرائیوٹ لوگوں کو باہر سے لاکربدمعاشی کرنا سمجھ سے بالا تر ہے اور جنکوسرکار نے بھرتی کیاان سے مہینے کا بھتہ لیکر ان کو گھربیٹھادیاگیاہے۔اس مخصوص پرائیویٹ بدعنوان مافیا نے بدعنوانی اور بیقاعدگیوں کی انتہا کیااور پرائیویٹ لوگوں کو سرکاری کوارٹر میں بیٹھانا کہاں کا انصاف ہے اور اوریجنل نرس کو گھر بیٹھا کر عطائی نرس کو اس کے جگے پر مامور کر کے ادارے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اس 10سال کے پریڈ میں جو مجرمانہ غیرقانونی کام کیئے اور بہبود کے نام پرپرائیوٹ کرپٹ مافیا کی سرپرستی کی موصوف کو کرپشن کے باوجود نوازہ جانا جو سمجھ سے بالاتر ہے،انہوں نے کہا کہ ہم کسی دھونس دھمکی میں نہیں ائیں گے دارے میں مفادات اور مظلوموں کے حقوق پر کسی قیمت پر سودے بازی نہیں ہوگی خواہ اس کیلییہمیں کسی مہنگی سے مہنگی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرناپڑے اور انہوں نے چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا کہ جنگی بنیادوں پر ادارے میں غیر معمولی کرپشن اور بدنظمیوں سے گھمبیر صورتحال اور معاملات کی خود نوٹس لیکر تحقیقات بیرون خانہ ٹیم تشکیل دی جائے اور مجرم جوبھی ہواسے عبرتناک سزادی جائے تاکہ کرپشن و کمیشن کا خاتمہ ہوسکیں۔


