مخالف کو سرپرائز کون دے گا

متحدہ اپوزیشن نے اپنا مشترکہ چارٹرتیار کرلیا ہے ایسا پاکستان بنایا جائے جہاں آئین کو حرمت ملے،ادارے تابع ہوں،آزادی رائے کو تحفظ دیا جائے،انتخابی اصلاحات نافذ کی جائیں۔چارٹر کا سلوگن ”قوت،اخوت عوام“ ہے،متحدہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ غیر جمہوری مداخلت کا خاتمہ ہو،عدلیہ آزاد ہو،سیکیورٹی ادارے مضبوط ہوں جبکہ حکومت کا کہنا ہے اصلی پتے27مارچ کو دکھائے جائیں گے اور28مارچ کو سرپرائز دیں گے۔میچ جیتیں گے دونوں فریق اپنی جگہ مطمئن ہیں کہ پلڑا بھاری ہے۔اپوزیشن کو یقین ہے کہ عدم اعتماد کے حق میں انہیں 200سے زائد ووٹ ملیں گے۔ان کی پختہ رائے ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے انتخابی مہم کے دوران جو وعدے کئے تھے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا۔نئے گھر تعمیر ہونا تو دور کی بات ہے لوگوں سے پرانے گھر بھی چھین لئے گئے۔روزگار کی فراہمی کا وعدہ بھی ادھورا ہے۔بیروزگاری میں اضافہ ہوگیا ہے۔قومی اتحاد پارہ پارہ ہوکر رہ گیا ہے۔معیشت تباہ ہوچکی ہے،مہنگائی میں ناقابل برداشت اضافہ ہوگیا ہے۔لوگ پریشان ہیں کوئی ان کا پرسان حال نہیں۔پی ٹی آئی حکومت ملک کو تباہ وبرباد کردے گی اگر اسے ڈیڑھ سال مزید مل گئے تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔اس لئے اس حکومت کا فوری خاتمہ ضروری ہے چونکہ وزیراعظم عمران خان کے پاس 172ووٹ نہیں ہیں اس لئے وہ اسمبلی کا اجلاس بلانے سے خوفزدہ ہیں۔خوفزدہ نہ ہوتے تو تحریک عدم اعتماد پیش کئے جانے کیلئے اس قدر تاخیر نہ کی جاتی۔تاخیر اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت کو شکست کاڈر ہے حکومت قرارداد کی منظوری کے ساتھ ہی اپنا وجود کھوبیٹھے گی۔ملک اور عوام کے مفاد میں ہے کہ جلد ازجلد حکومت گھر جائے۔جتنی دیر یہ حکومت اقتدار میں رہے گی ملک کی سلامتی کو اتنازیادہ خطرہ لاحق ہوگا۔عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا،اشیاء کی قیمتیں بڑھتی رہیں گی۔دوسری جانب حکومت کہتی ہے کہ وہ27مارچ کو سرپرائز دے گی۔عام آدمی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ اس بحث ومباحثہ کی طرف توجہ دے،اس میں موجود پیغام کو تلاش کرے۔اس لئے کہ اب معاملہ پارلیمنٹ سے باہر چلا گیا ہے سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بنچ آئین کے آرئیکل 63-Aکی تشریح کررہا ہے۔لارجر بنچ کے علم میں ہے کہ ان کے پاس کام کرنے کے لئے وقت27مارچ تک ہے۔آج 26مارچ ہے۔لارجربنچ کے پاس آج کا دن شامل کرلیں تب بھی تین دن بنتے ہیں۔آئین کاآرٹیکل اگر پارلیمنٹ خود نہیں سمجھ سکتی یہی وجہ ہے کہ تشریح کیلئے سپریم کورٹ بار کونسل اور اٹارنی جنرل آف پاکستان نے سپریم کورٹ سے مدد حاصل کی ہے۔سپریم کورٹ کے معزز ججز کی قابلیت پر بصیرت اور فہم ودانش پر شک وشبہ نہیں کیاجاسکتا۔چند تحفظات سپریم کورٹ کے بنچ کے حوالے سے جسٹس فائز عیسیٰ نے ظاہر کئے ہیں۔وہ خود بھی سپریم کورٹ کے جج ہیں۔عام آدمی اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔عام آدمی کی بصیرت دال روٹی کے گرد گھومتی ہے روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی ہوئی مہنگائی نے اس کے ہوش اڑادیئے ہیں۔دیگر قانونی حوالوں سے سوچنے کی ان کے پاس فرصت ہی نہیں۔اگر ہوتی تب بھی عام آدمی کے پاس قانونی اصطلاحتیں سمجھنے کی صلاحیت نہیں اور نہ ہی اس کے پاس وقت ہے کہ دماغ سوزی کرے۔یہ کام اراکین پارلیمنٹ کا تھا اورآئندہ بھی انہی کی ذمہ داری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں