لاپتہ افراد کو ریاستی قید خانوں میں اذیت دی جا رہی ہے، این ڈی پی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی، لاپتہ افراد زاہد بلوچ، کبیر بلوچ، مشتاق بلوچ، عطاء اللہ بلوچ، اسد بلوچ کے لواحقین کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے سے لاپتہ افراد رشید بلوچ، آصف بلوچ کی بہن سائرہ بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے بھائیوں کو گزشتہ کی سال سے ریاستی ٹارچر سیل میں بند کرکے رکھا گیا ہے، ایک جانب میرے بھائیوں کو ریاستی قید خانوں میں اذیت دی جا رہی ہے، دوسری جانب یہاں پر ہمارے خاندان بھی ایک اذیت سے گزر رہے ہیں، جبری گمشدگیوں کی وجہ سے آج میرے نام کے ساتھ بھی لاپتہ رشید اور آصف کی ہمشیرہ لگا ہوا ہے۔ یہ لاپتہ کا لفظ آج ہر گھر میں کسی نہ کسی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ حوران بلوچ نے کہا کہ ایک جانب ہمارے لوگوں کو نامعلوم افراد کے نام پر جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے، دوسری جانب انہی لاپتہ افراد کو سی ٹی ڈی کی جانب سے جعلی مقابلے نام پر مارا جا رہا ہے۔ چیئرمین زاہد بلوچ کی ہمشیرہ نے کہا کہ پچھلے آٹھ سال سے میرے بھائی زاہد بلوچ ریاستی عقوبت خانون میں بند ہیں. زاہد بلوچ کے دو چھوٹے بچے بھی ہیں، جو ہر دن ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہمارا والد کہاں پر ہے لیکن اس سوال کا جواب کسی پاس نہیں ہے کہ ہم ان کے بچوں کو بتا دیں کہ آپ کے ابو کہاں اور کس حال میں ہیں۔ زاہد بلوچ کو شہید کریمہ بلوچ اور اس کے دوست لطیف جوہر کے سامنے جبری طور پر لاپتہ گیا جس کیخلاف لطیف جوہر نے 45 دن تک تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے رہے لیکن ہمارے بھائی زاہد بلوچ کو بازیاب نہیں کیا گیا اور نہ ہی ہمیں یہ معلومات دی جا رہی ہے کہ وہ کس حال میں ہے۔ لاپتہ فیاض علی کی زوجہ نرگس فیاض نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے شوہر فیاض علی کو جبری طور لاپتہ ہوئے 7 مہینے گزر گئے اس دن سے لے کر آج تک میں ہر جگہ ہر فورم پر اپنے شوہر کی بازیابی کیلئے آواز بلند کرتی آرہی ہوں لیکن ان کو ابھی تک بازیاب نہیں کیا جارہا ہے، ہم ہر فورم پر یہی کہتے آ رہے ہیں کہ اگر ریاست کو اپنی آئین، قانون اور عدلیہ پر یقین اور اعتبار ہے تو ہمارے لوگوں نے جو بھی جرم کیے ہیں تو انہیں اپنے ہی عدالتوں میں پیش کریں اگر ان پر کوئی جرم ہے تو اسے سزا دیں۔ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ڈپٹی آرگنائزر رشید کریم بلوچ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پارٹی کے مرکزی کمیٹی ممبر ڈاکٹر جمیل بلوچ کو اپنے علاقے، اپنے لوگوں کیلئے آواز اٹھانے کی سزا دی ہے۔ بوگس لوکل ڈومیسائل اور قبائلی تنازعات کے حوالے سے انہوں نے ہمیشہ آواز بلند کرتے رہے۔ آج اسی کی وجہ سے وہ ریاستی ٹارچر سیلوں میں اذیت سہہ رہا ہے، لاپتہ کفایت اللہ کی زوجہ، غلام فاروق کی خالہ، بیبرگ بلوچ اور دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں