جبری طور پر لاپتہ حفیظ بلوچ کو ڈیرہ مراد جمالی تھانہ سے منظر عام پر لایا گیا، سول سوسائٹی خضدار
سول سوسائٹی خضدار نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ رواں سال 8 فروری کو خضدار سے قائداعظم یونیورسٹی کے ایم فل اسکالر اور باغبانہ خضدار سے تعلق رکھنے والے حفیظ بلوچ کو ایک نجی اکیڈمی سے نامعلوم افراد نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا جس کی رہائی کےلیے ملک گیر احتجاج سمیت ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگائی گئی.
سول سوسائٹی خضدار کے ترجمان نے کہا کہ آج انہیں ڈیرہ مراد جمالی عدالت میں پیش کیا گیا مگر تا حال وہ سی ٹی ڈی کے تحویل میں ہے اور ہمیں اس پر جھوٹی الزامات لگانے کا خدشہ ہے. لہذا ہم ملک کی انصاف دالانے والے اداروں سے درخواست کرتے ہیں کہ انہیں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی دفاع کرنے کا مکمل حق دیا جائے.
مزید ترجمان نے کہا ہم کہ بلوچستان بالخصوص خضدار کے سیاسی اور قبائلی رہنماؤں کے علاوہ تمام طبقات سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ حفیظ بلوچ کی رہائی میں اپنا کردار ادا کریں. ترجمان نے کہا کہ ہم ان تمام سیاسی سماجی، مذہبی، قبائلی اور طلبا رہنماؤں کے علاوہ سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے حفیظ بلوچ کےلیے جدوجہد میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے رہے اور آگے بھی اد طرح حفیظ بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کی رہائی تک ہمارے ساتھ دینگے. مزید انہوں نے کہا ہم ملکی اداروں سے حفیظ بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں جلد بازیاب کرکے انکی فیملی اور حلقہ احباب کو ذہنی کوفت سے بازیاب کرے


