یہ طے کرنا ہوگا کہ ملک افواج کےلئے ہے ےا افواج پاکستان کےلئے، محمود خان اچکزئی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چےئرمےن پاکستان ڈےموکرےٹک موومنٹ کے مرکزی نائب صدر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ےہ ہے کہ جب سے ےہ ملک بنا ہے آئےن کے ساتھ مسلسل مذاق ہوتا رہا ہے۔ دفعہ 144کی خلاف ورزی پر سےاسی، جمہوری رہنماﺅں وکارکنوں کو سزا دی گئی اور آئےن کی خلاف ورزی کرنے والوں اور آئےن کو پھاڑنے والوں کو کچھ نہےں کہا گےا ۔ ملک کے اقوام وعوام نے اب ےہ طے کرنا ہے کہ ےہ ملک افواج پاکستان کےلئے ہے ےا افواج پاکستان کےلئے ہےں۔ ملک کا استحکام ترقی وخوشحالی اور ہر قسم کے بحرانوں سے نجات آئےن وقانون کی حکمرانی پارلےمنٹ کی بالادستی اور قوموں کی برابری عملاً تسلےم کرنے مےں ہے ۔ ان خےالات کا اظہار انہو ںنے سالار شہدا خان شہےد عبدالصمد خان اچکزئی کی بائےوگرافی کے انگرےزی ترجمے کی کتاب کی رونمائی کی تقرےب سے مقامی ہوٹل مےں خطاب کرتے ہوئے کےا۔ جس سے سپرےم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عےسیٰ ، سابق وزےر اعظم شاہد خاقان عباسی ، سےنٹ کے سابق چےئرمےن سنےٹر رضا ربانی ، ممتاز سےاستدان افراءسےاب خان خٹک ، ممتازدانشور اور مصنف صاحبزادہ امتےاز ، سپرےم کورٹ کے ممتاز وکےل حامد خان اےڈووکےٹ، سپرےم کورٹ بار اےسوسی اےشن کے صدر عبدالطےف آفرےدی اےڈووکےٹ، پےپلز پارٹی کے ممتاز رہنماءسنےٹر فرحت اللہ بابر ، مسلم لےگ کے سنےٹر مشاہد حسےن سےد ، ےوکرائن سفارت خانے کے سےکرٹری اولےنابردی لوپسکا ےا ، بی اےن پی کے اےم پی اے ثناءبلوچ ، سابق سنےٹر بشےر خان مٹہ ، ممتاز سندھی دانشور عبدالخالق جونےجو ، نےشنل پارٹی کے رہنماءسنےٹر طاہر بزنجواور سابق گورنر محمد خان اچکزئی نے خطاب کےا ۔ جبکہ سٹےج سےکرٹری کے فرائض اےاز خان اچکزئی نے سرانجام دےئے اور تلاوت کلام پاک کی سعادت حاجی ولی گل صاحب نے حاصل کی۔ محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے اس تقرےب مےں شرکت کرنےوالے تمام رہنماﺅں،معززےن اور مہمانوں کا شکرےہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ آج کے اس تقرےب مےں انتہائی اعلیٰ علم ودانش سے مزےن اور پڑھے لکھے لوگ موجود ہےں اور ان تمام کی آمد پر ان کا شکرےہ ادا کرتا ہوں اور ےہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارا ملک پاکستان انتہائی مشکل حالات سے گزررہا ہے اور اس کے بچانے کےلئے وقت بہت کم ہے ،عراق لےبےاء، شام کے بدترےن حالات آپ کے سامنے ہےں ا ن کےلئے بہانے جو بھی تھے لےکن ان کا گناہ صرف ان کے معدنی وسائل تھے جبکہ ہمارا ملک اور ساتھ ہی افغانستان مےں دنےا کے بہترےن معدنی ذخائر پڑے ہوئے ہےں اور ےہی ہمارے وسائل ہمارے گلے پڑسکتا ہے دنےا کے ظالم وجابر حکمرانوں کے ارادے ٹھےک نہےں اور ہم اس ملک کو کسی بھی صورت توڑنے نہےں دےنگے اور اسے ہر حالت مےں استحکام اور جمہور کی حقےقی حکمرانی کے راستے پر لانا ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ ےہاں بےٹھے عالم اور فاضل لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ملک کے سےاستدانوں ،ججز ، جرنےلوں ، دانشوروں ،صحافےوں سمےت ہر شعبے کے نمائندہ اور باشعور لوگوں کے کانفرنس بلا کر ےہ طے اور فےصلہ کرنا ہے کہ اس ملک کو اور کن اصولوں کے مطابق چلاےا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی انسان سے رنگ ،نسل ، زبان اور مذہب کی بنےاد پر نفرت کو گناہ کبےرہ سمجھتے ہےں اور اس ملک کو ہر قسم کے گھمبےر حالات سے نکال کر چلانا چاہتے ہےں لےکن ملک کے حکمرانوں نے محکوم اقوام وعوام کو ان کے وسائل پر حق ملکےت تسلےم کرنا ہوگا اور ان کے زبانوں کو قومی زبان تسلےم کرکے انہےں ان کا حق دےنا ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ نے بھی زبانوں کی اہمےت تسلےم کی ہے چار بڑے مذہبی کتابےں ان پےغمبروں کی مادری زبانوں مےںہی نازل ہوئی تھی ۔ لہٰذا ےہ بات عملاً تسلےم کرنی ہوگی کہ ےہاں آئےن وقانون کی حکمرانی اور پارلےمنٹ کی بالادستی تسلےم کرنی ہوگی اور ملک کے ہر ادارے نے آئےن کی حدود مےں پابند ہوکر اپنی ذمہ دارےاں سرانجام دےنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ےہ بات تمام ملک پر واضح کرنا چاہتے ہےں کہ ہم پشتون ، بلوچ ، سندھی ،سرائےکی اقوام اور پنجاب کے مظلوم عوام اس ملک مےں غلاموں کی طرح کبھی بھی نہےں رہےنگے۔ مےں محکوم اقوام ومظلوم عوام کی جانب سے ضمانت دےتا ہوں کہ آپ نے ہمےں اور بلوچوں سمےت سب کو تارےخ مےں جتنا مارا ہے اُن سب کو بھول کر ملک کو چلانے اور آگے لےجانے کےلئے تےار ہےں لےکن ملک مےں آئےن وقانون کی حکمرانی عوام کے حق حکمرانی اور پارلےمنٹ کی بالادستی کو عملاً تسلےم کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ جب اقوام متحدہ بنی تو اُس وقت آزاد ممالک کی تعداد چالےس کے قرےب تھی اور اب 75تا 80سالوں مےں تقرےباً 193ممالک آزاد ہوئے اور ےہ سب ناانصافےوں کی وجہ سے ہوا۔ ملک حقےقی جمہوری حکمرانی سے کمزور نہےں ہوتے بلکہ آمر حکمرانوں کی غلط حکمرانی کے باعث کمزور ہوجاتے ہےں جس طرح اےوب خان ، ضےاءالحق اور پروےز مشرف سمےت ہر اےک 10-10سال سے زائد عرصے تک ملک پر مسلط رہے اور اس دوران سےنکڑوں اعلیٰ فوجی آفےسروں کو وقت سے پہلے رےٹائرڈ ہونا پڑا اور ان کی صلاحےتےں سے ملک مےں کوئی فائدہ نہےں اٹھاےا ۔ انہو ںنے کہا کہ سےنٹ کے اختےارات قومی اسمبلی کے برابر کرتے ہوئے ملک کے اقوام کو حکمرانی کے اختےارات مےں حقےقی حصہ دےنا ہوگا اور اسی طرح ملکی فوج ہمارا بھی ہے اور ہم سمےت تمام اقوام کو اس مےں حصہ دےنا ضروری ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ موجودہ انتہائی مخدوش حالات ےہ اجازت نہےں دےتے کہ ہم مزےد انتظار کرےں لہٰذا ملک کو صحےح جمہوری خطوط پر چلانے کےلئے ہر اےک نے اپنی ذمہ داری سرانجام دےنی ہوگی۔ انہو ںنے کہا کہ آئندہ پارلےمنٹ کو ےہ کام ضرور کرنا چاہےے کہ اعلیٰ عدالتوں کے جن ججز نے اصولوں کی خاطر اپنی نوکرےاں چھوڑ کر چلے گئے ان کو اعزازات دےتے ہوئے ان کے خاندانوں کی مدد کی جائے اور اےم آر ڈی سمےت ہر جمہوری تحرےک مےں شہےد ہونےوالے سےاسی رہنماﺅں اور کارکنو ںکو اعزازات دےئے جائےں اور ان کے خاندانوں کی مدد کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن زدہ لےڈروں کے ذرےعے ملک نہےں چلاےا جاسکتا پشتونخواملی عوامی پارٹی ملک مےں حقےقی جمہوریت اور حقےقی وفاقی پارلےمانی نظام کی تشکےل اور جمہور کی حکمرانی کی جدوجہد مےں ہمےشہ کی طرح ہر اول دستے کا کردار ادا کرتی رہےگی۔


