کسی حکومت کی جانب سے ہمیں دھمکی آمیز خط نہیں آیا، سابق سفارت کار

اسلام آباد (انتخاب نیوز) سابق سفارت کار عبد الباسط نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دھمکی آمیز خط ملنے کے دعویٰ پر کہا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق کوئی خط نہیں، ہمارے سفیر نے جو تحفظات تھے وہ آگے بھجوائے ہیں۔ایک انٹرویومیں سابق سفارت کار عبد الباسط نے کہا کہ کسی حکومت سے ہمیں خط نہیں آیا ہے، اس حوالے سے ہمارے سفیرکی کمیونیکیشن ضرور ہے، ہمارے سفیر نے جو تحفظات تھے وہ آگے بھجوادئیے، ایسی کمیونیکیشن محدود ہوتی ہے، سب کو نہیں خاص لوگوں کو جاتی ہے، ایسی کمیونیکیشن کو پبلک نہیں کیا جاسکتا۔سابق سفارت کارعبد الباسط نے کہا کہ دھمکیاں دی جاتی ہیں، ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں پر اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں کبھی نہیں دیکھا کہ کسی سفیر کو بلایا جائے اورکہا جائے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونی چاہیے اور وزیراعظم کو جانا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ ممکن ہے سفیر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہو، اگر یہ ہونا تھا تو صدر بائیڈن براہ راست خط ہی لکھ دیتے، عموماً ایسا ہوتا نہیں، کچھ کیبلز ایسی ہوتی ہیں جو صرف سیکرٹری خارجہ کو بھیجی جاتی ہیں، کچھ کیبلز محدود ہوتی ہیں، جو صرف 3 سے 4 لوگوں کو جاتی ہیں، یہ سفیر پر ہے کہ وہ کس حد تک چاہتا ہے کہ سرکولیشن ملے۔ انہوں نے کہا کہ سرکولیشن فارن آفس آتا ہے توفارن سیکرٹری پرہے کہ اسے کس سے شیئر کرے، سیکرٹری خارجہ وزیرخارجہ کے ماتحت کام کرتا ہے، وزیر خارجہ فیصلہ کرتا ہے کہ کمیونیکیٹ کیا جائے یا نہیں، وزیرخارجہ پرہوتا ہے کہ دیگراداروں یا وزیراعظم کودکھائے یا نہیں، ایسی چیزیں خفیہ ہوتی ہیں اور ہونی بھی چاہئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں