یونیورسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی احتجاجی ریلی
کوئٹہ :جوائنٹ ایکشن کمیٹی یونیورسٹی آف بلوچستان ٹیچرز، آفیسرز اور ایمپلائز ایسوسی ایشن کے جانب سےجامعہ کے اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین کو درپیش مسائل جس میں مکمل تنخواہوں کی بروقت ادائیگی بشمول اضافہ شدہ 44 فیصد ہاوس ریکوزیشن، اردلی الاونس،یوٹیلٹی الاونس ،25 فیصد ڈسپیریٹی الاﺅنس، ہاوس بلڈنگ ایڈوانس، ریٹائرڈ اساتذہ، آفیسرز اور ملازمین کی پینشنز کی بروقت ادائیگی، بائیومیٹرک حاضری، آفیسرز اور ملازمین کے پروموشن، ٹائم سکیل سمیت دیگر درپیش مسائل کے حل کےلئے بروز بدھ کو جامعہ بلوچستان جنگل باغ کیمپس سبزل روڈ ایک بہت بڑا احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس میں سینکڑوں اساتذہ کرام ،آفیسرز اور ملازمین نے بھرپور تعداد میں شرکت کی، قبل ازیں احتجاجی جلسہ جامعہ بلوچستان کے آرٹس بلاک سے زبردست احتجاجی ریلی نکالی گئی جو جامعہ کے آرٹس ،سائنس، منیجمنٹ ایجوکیشن اور لینگویجز ڈیپارٹمنٹس سے ہوتا ہوا جامعہ بلوچستان کے مین گیٹ کے باہر سریاب روڈ اور سبزل رودڈ پر بڑا احتجاجی جلوس نکل کر جنگل باغ کیمپس میں احتجاجی جلسے میں تبدیل ہوا۔ احتجاجی جلسے سے، شاہ علی بگٹی، پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، فریدخان اچکزئی،عبدالباقی جتک، ڈاکٹر عابدہ بلوچ، پروفیسر عبدالمالک اچکزئی، پروفیسر مصور شاہ ،نظام عسکر ،عنایت اللہ بڑیچ، اور محبوب شاہ نے خطاب کیا، مقررین نے کہاکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے پچھلے 13 دنوں سے اپنے جائز مطالبات کے لئے احتجاجی مظاہرے اور احتجاجی کیمپ لگائے ہوئے ہیں لیکن جامعہ بلوچستان کے غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر قصدا معاملات کو خراب اور اساتذہ کرام اور ملازمین میں اشتعال دلارہے ہیں اور مسلسل غلط بیانی اور دردغ گوئی سےکام لے رہے ہیں ، مقررین نے چانسلر جامعہ بلوچستان و گورنر بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ وہ جامعہ بلوچستان کو مزید تباہی سے بچا نے کےلئے عملی قدم اٹھانے ہوئے جامعہ کے اساتذہ کرام، افیسرز اور ملازمین کے جائز حقوق دلائے ۔


