کھیل عمران خان کے ہاتھ سے نکل گیا؟

حکومت کی بڑی اتحادی پارٹی ایم کیو ایم (7ووٹوں کے ساتھ)وفاقی حکومت کی جانب سے پیشکش میں تاخیر کے باعث اپوزیشن میں شامل ہو گئی۔ایسے نازک لمحات میں ایم کیو ایم کا حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ ایک بہت بڑا دھچکہ ہے۔7اتحادیوں اور دیگر اراکین کے چلے جانے کے بعد اپوزیشن کی تعداد175اور پی ٹی آئی 164پر پہنچ گئی ہے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق جہانگیر گروپ بھی پاکستان مسلم لیگ نون سے مذاکرات کر رہا ہے اور سیٹ ایڈ جسٹمنٹ سمیت بعض نکات پر اتفاق رائے ہوچکا ہے۔ایم کیو ایم نے ہمیشہ بڑے فیصلے کئے اور حکومتوں کی تشکیل میں بڑا حصہ پایا۔ ایم کیو ایم کے بیشتر مسائل صوبائی سطح کے ہیں،اس لئے پی پی پی سے انہیں بہت کچھ ملنے کی امید ہے اورمعاہدے کے جو مندرجات سامنے آئے ہیں ان کے مطابق ایم کیو ایم نے بہت کچھ حاصل کر لیا ہے۔متحدہ اپوزیشن میں شامل تمام پارٹیوں کے سربراہان کے دستخط معاہدے پر موجود ہیں جو اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ پی پی پی اور ایم کیو ایم دونوں کی قیادت اس معاہدے کی پاسداری کرے گی،کوئی فریق خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ دستخط میڈیا کے روبرو کئے گئے ہیں تاکہ عوام دیکھ لیں کہ کوئی سودے بازی نہیں کی گئی۔اس موقع پر سردار اختر مینگل نے کہا:ہمیں نہ نیا پاکستان چاہیئے اور نہ ہی پرانا،بلکہ مختلف پاکستان چاہیئے، جس میں سب کو جینے کا حق حاصل ہو،کسی کے بچوں کو غائب نہ کیا جائے، والدین اپنے بچوں کے غائب ہونے پر پریشان نہ ہوں، روتے ہوئے دربدر نہ پھریں۔سب کو انسانی حقوق حاصل ہوں۔بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما نادر مگسی نے کہا ہمیں عوامی پاکستان چاہیئے جہاں عوام کے مسائل حل ہوں۔جمیعت علمائے اسلام کے اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے توقع ظاہر کی عمران خان کے جانے کے بعد اپوزیشن اقتدار میں آکر ان غلطیوں کی اصلاح کرے گی جو عمران خان نے کی ہیں اور عالمی سطح پر پاکستان کو نقصان پہنچا ہے۔ایم کیو ایم نے انتہائی ذہانت سے کام لیتے ہوئے پی پی پی سے دوستی کرنے میں دیر نہیں کی۔پونے چار سال میں وفاق سے جو کچھ لینا تھا، لے چکے۔تازہ صورتِ حال میں یہ ایم کیو ایم اور اپوزیشن کی بڑی کامیابی ہے۔حیرت ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سب کچھ جانتے ہوئے بھی نہ جانے کیوں، اپنے اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے میں اس قدر ٹال مٹول سے کام لیتے رہے؟ ایم کیو ایم کی جانب سے تحریری معاہدہ ہوجانے کے بعد گورنر سندھ پارلیمنٹ لاجزآئے اوروزیر اعظم کا پیغام ایم کیوایم کی قیادت تک پہنچایا،جاتے وقت میڈیا سے کہا،انہیں صبح تک جواب مل جائے گا۔ اس میں شک نہیں کہ انہیں جواب تو مل گیا ہے مگر اس سے پی ٹی آئی کو فائدہ نہیں ہوگا، اپوزیشن فائدہ اٹھائے گی۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے وزراء یہ تأثر دے رہے ہیں کہ آخری گیند تک مقابلہ کیا جائے گا اور حتمی فیصلہ آخری گھنٹے میں سامنے آئے گا۔اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ آخری لمحات تک سسپنس برقرار رہے گا۔واضح رہے آج کل تحریک عدم اعتمادنجی محفلوں میں گفتگو کا دلچسپ موضوع ہے۔ہر شخص عمران خان کے بطور وزیر اعظم برقراررہنے یا جانے کے بارے میں ٹی 20 جیسی لمحہ لمحہ بدلتی صورت حال جاننا چاہتاہے۔جبکہ اپوزیشن اپنی تعداد میں خاطر خوا ہ اضافے کے لئے دوڑ دھوپ میں مصروف ہے اور اسے مسلسل کامیابی مل رہی ہے۔حکومت کی تبدیلی کی صورت میں یقینا خارجہ اور داخلی طور پر ایک بڑی تبدیلی نظر آئے گی اور اس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ تحریک عدم اعتمادکے ذریعے حکومتی تبدیلی ایک باوقار جمہوری طریقہ ہے اور اگر اپوزیشن اراکین قومی اسمبلی کی مطلوبہ تعداد آخری گھنٹے تک اپنے ساتھ رکھنے میں کامیاب ہوگئی توعمران خان کے پاس اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہوگا۔ مگر پاکستان کی سیاسی تاریخ میں معجزات بھی رونما ہوتے رہے ہیں۔البتہ گزشتہ دو حکومتوں کے دوران کوئی معجزہ رونما نہیں ہوا، اس لئے توقع کی جا سکتی ہے کہ اب بھی ایسی کوئی انہونی دیکھنے کو نہیں ملے گی۔لیکن یہ بھی ایک ناقابل تردید صداقت ہے کہ پاکستان میں بعض اراکین قومی اسمبلی کا ضمیر عین رائے شماری کے دوران جاگنے کی مثالیں بھی پارلیمانی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔فون کالز کا کردار بھی رائے دہندگان کی ا ٓمد و رفت کے لئے ریموٹ کنٹرول کا کام کرتی رہی ہیں۔بعض نازک فیصلوں کے لئے اراکین میڈیا کے روبرو اعتراف کرتے رہے ہیں:”ہم آئے نہیں،لائے گئے ہیں“۔اگر یہی تجربہ دہرایا گیا تو نتائج اپوزیشن کی توقعات اور دعووں کے برعکس بھی ہو سکتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کے مشیر تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں جمع کرائے جانے بعد ایک جانب عدالت پہنچے تاکہ فلور کراسنگ روکی جائے اور دوسری جانب انہوں نے عوامی جلسے منعقد کرکے اپنی مقبولیت کا اندازہ لگایا اور وفاداری تبدیل کرنے والے اراکین کو دکھایا نقصان اٹھاؤ گے۔عدالتی ریمارکس سے یہ تأثر ملتا ہے کہ عدلیہ یہ کہے گی: آئین کی تشریح آئین کی تحریر کے مطابق ممکن ہے، آئین کے آرٹکل کو نئے معانی نہیں پہنائے جا سکتے۔یہ کام آئین ساز ادارے (پارلیمنٹ)کے اختیار میں ہے۔عدلیہ آئین کی تشریح کر سکتی ہے۔ جیسا کہ اٹارنی جنرل کی ایک دلیل کے جواب میں ججز نے ریمارکس دیئے کہ دائمی نااہلی کی سزا کا آرٹیکل میں ذکر نہیں،اس کے لئے متعدد قلابازیاں کھانی پڑیں گی۔تیسری جانب وزیر اعظم نے غیر ملکی دھمکی آمیز خط کا معاملہ عوام کے سامنے رکھ دیا اور ایسا کرتے وقت یہ نہیں سوچا کہ یہ اقدام آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت قابل گرفت ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی میں نہیں لے جایا گیا۔سب کچھ کرنے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کا خیال آیا۔اتوار کے روز قومی اسمبلی قرار دادِ عدم تحریک پر رائے شماری کرے گی،میڈیا پر یہ اطلاعات بھی گشت کر رہی ہیں کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے12وزراء آئندہ الیکشن پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر نہیں لڑیں گے۔وزیر داخلہ شیخ رشیداحمد کے پاس یہ اطلاع کس ذریعے سے پہنچی ہے کہ وہ ای۔ پاسپورٹ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے وقت بھی وزیر اعظم کو یقین دلا رہے تھے:”وزیر اعظم صاحب! آپ 12ووٹوں سے جیتیں گے!“۔اور وزیر اعظم ان کے دعوے پر مسکرا رہے تھے۔ البتہ انہیں راولپنڈی کے نالہ لئی پراجیکٹ کی فکر لاحق تھی،اس کی یاددہانی کرانا ضروری سمجھا۔وزیر اعظم ہاؤس نہ آنے کی وجہ رولز کی پاسداری بتائی کہ جب تک وزیر اعظم ہاؤس سے بلاوا نہ آئے،نہیں جانا۔انہوں نے وزیر اعظم کی نوازشات کا شکریہ ادا کرنے کے لئے کہا کہ میں مرتے دم تک عمران خان کے ساتھ ہوں۔عام آدمی اتناسمجھدار ہو چکا ہے آخری اور نازک لمحات میں ایسے جملے وزراء کی زبان پر کب آتے ہیں؟وزیر اعظم نے بھی دنیادیکھی ہے، سرد و گرم چشیدہ ہیں، سمجھ گئے ہوں گے،وزیر داخلہ کیا سمجھانا چاہتے ہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں