میں نے اپنے ملک کو دنیا میں ذلیل ہوتے دیکھا، وزیر اعظم
میں نے امریکہ کی شروع کردہ وار آن ٹیرر کی مخالفت کی، وزیر اعظم
اسلام آباد (انتخاب نیوز) میں قوم بتانا چاہتا ہوں کہ میری طرح کا آدمی سیاست میں کیوں آیا، میرے پاس پیسہ تھا سب کچھ تھا، سیاسی لوگوں کی زندگی کو دیکھیں شروع میں ان کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ قائد اعظم بہت بڑے سیاستدان تھے، سیاست میں آنے سے پہلے انہیں کوئی نہیں جانتا تھا۔ میں نے جب وار آن ٹیرر میں شرکت کی، جب ہیڈ آف پارٹی بلائی گئی تو میں بھی موجود تھا، جنرل مشرف کہا کہ اگر ہم نے وار آن ٹیرر میں شرکت نہ کی تو امریکہ کہیں ہمیں ہی نہ مار دے تو میں نے اس وقت کہا تھا کہ ہمیں اس جنگ سے دور رہنا چاہیے،
اگر دہشت گردی ہوئی ہے تو ہمیں اس کی مخالفت کرنی چاہیے، ہم کمزور اقوام کی تباہی کا باعث کیوں بنیں۔ روس کی جنگ میں سارے مجاہدین پاکستان سے فراہم کیے گئے، جیسے ہی وہ جہاد ختم ہوا اور سوویت یونین ختم ہوا ارو وہ ہی امریکا جس کے لیے ہم جنگ لڑ رہے تھے وہ ہمیں چھوڑ گیا، پھر وار آن ٹیرر کی جنگ میں امریکہ کو پھر ہماری ضرورت پڑی، وار آن ٹیرر میں جو قربانیاں پاکستان نے دیں وہ نہ امریکا نہ دیں نہ ہی نیٹو اور دیگر اتحادیوں نے۔ ہمارے قبائلی علاقے بہت پر امن تھے،
ہماری اس جنگ میں شرکت کرنے سے ان پر کیا گزری، کئی لوگ مارے گئے۔ امریکہ کے آنے سے قبائلیوں کو ہمارا دشمن بنا دیا گیا، مختلف گروہوں کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی۔ کیا امریکہ سمیت کسی نے کہا کہ پاکستان نے وار آن ٹیرر میں قربانیاںدیں، یہاں ہمارے لوگوں کو بار بار کہا گیا کہ ڈو مور ، ہمارے اوپر ڈرون اٹیک ہوئے، باجوڑ میں مدرسے پر ڈرون حملے میں 80 بچے مار دیے گئے۔ آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میری پالیسی کیا ہے، میں بتادوں کہ میں اس جنگ کی مخالفت کررہا تھا، ڈرون حملوں کیخلاف میں نے مظاہرے کیے، مجھے طالبان خان کا نام دیا گیا۔
میں نے امریکہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس جنگ کیخلاف آواز پہنچائی۔ امریکا کا ساتھ دینے پر ہمارے لوگوں نے ہمارے اپنے اوپر حملے شروع کردیے۔اسلام آباد وزیر اعظم عمران خان نے اپنے قوم سے خطاب میں کہا کہ قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان اس وقت فیصلہ کن موڑ پر ہے، ہمارے ملک کا قیام کس بنیاد پر وجود میں آیا،
جو پاکستان کا بڑا عظیم مقصد تھا جس کے مطابق ہمیں ایک عظیم اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا، اسلام کا سنہری دور مدینہ کی اسلامی ریاست تھا۔ جس قوم کا نعرہ کلمہ طیبہ تھا اس ملک کو میں نے دنیا میں ذلیل ہوتے دیکھا ہے۔ انصاف کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کمزور اور طاقتور کے لیے ایک قانون ہو۔ حضور ﷺ نے کہا تھا کہ کمزور پر طاقت کے استعمال سے قومیں تباہ ہوجاتی ہیں۔
دھمکی آمیز خط پرعمران خاننے امریکہ کا نام لے لیا
اپنے خطاب میں دھمکی آمیز خط کے حوالے سے کہا کہ 7 یا 8 مارچ کو ہمیں امریکہ سے پیغام آیا۔ دھمکی آمیز خط پر انہوں نے امریکہ کا نام لے لیا، غلطی کا احساس ہونے پر انہوں نے بات بدل دی اور کہا کہ مجھے ملک کا نام نہیں لینا تھا۔
استعفیٰ نہیں دوں گا، آخری گیند تک لڑوں گا، عمران خان
اتوار کو عدم اعتماد پر ووٹنگ سے ملک کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ اگر عدم اعتماد ناکام ہوجاتی ہے تو پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ تین لوگ مغرب کو کیوں پسند ہیں، ان کے رابطے ان لوگوں سے ہیں، انہیں پہلے سے پتا تھا کہ عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد آرہی ہے جس سے ظاہر ہے کہ اپوزیشن کے پہلے سے ہی باہر کے لوگوں سے رابطے تھے۔ اگر تحریک ناکام ہوئی تو پاکستان کو مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جو بھی فیصلہ ہوں گا میں دوبارہ تگڑا ہوکر واپس آﺅں گا، قوم ضمیر فروشوں کو معاف نہیں کرے گی۔
میرے دورہ روس کے بعد دھمکی آمیز خط آیا، وزیر اعظم
وزیر اعظم عمران خان نے اپنے قوم سے خطاب میں کہا کہ آفیشل دستاویز ہے جس میں پاکستانی سفیر کو کہا گیا کہ اگر عمران خان وزیراعظم رہا تو نہ صرف تعلقات خراب ہوں گے بلکہ پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ’مراسلے پر شک کیا گیا، میں نے کابینہ کے سامنے مراسلہ رکھا، اس کے بعد قومی سلامتی کونسل کا اجلاس کیا اور مراسلہ ان کے سامنے رکھا اور پھر صحافیوں کے سامنے پیش کیا، یہ مراسلہ اکسانے کے لیے نہیں ہے، اس ڈاکیومنٹ میں خطرناک الفاظ لکھے ہیں۔ قوم سے پوچھتا ہوں کہ کیا یہ ہماری حیثیت ہے ؟ کہا گیا کہ بعد میں جو لوگ آئیں گے ہمیں ان سے کوئی مسئلہ نہیں، روس جانے پر یہ سب کچھ کہا گیا۔ ہم امن میں آپ کے ساتھ ہیں جنگ میں نہیں، ہم ایک آزاد خارجہ پالیسی چاہتے ہیں۔ وکی لیکس میں مولانا فضل الرحمان کے بارے میں انکشاف ہوا کہ پاکستان میں امریکی سفیر کو مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے اقتدار دیں میں بھی وہی کروں گا جو دیگر کرتے ہیں، نواز شریف مودی سے چھپ چھپ کر ملتا تھا، شادیوں پر دعوتیں دیتے تھے، آصف زرداری نے کہا کہ فکر نہ کریں ڈرون حملے میں بے قصور لوگ مارے جاتے ہیں، شہباز شریف کے مطابق عمران خان نے ایبسلوٹلی ناٹ کہہ کر بڑی غلطی کی۔ خودداری ایک آزاد قوم کی نشانی ہوتی ہے، جہاں انصاف نہیں ہوتا وہ قومی تباہ ہوجاتی ہیں، مسلمان قوم غلام نہیں بن سکتی۔


