کراچی، عذیر بلوچ قتل کے 18ویں کیس میں بھی بری
کراچی (انتخاب نیوز) کراچی کی مقامی عدالت نے عذیر بلوچ کو قتل کے ایک اور کیس میں بری کردیا۔کراچی میں انسداد دہشت گردی عدالت میں عذیر بلوچ اور اس کے بھائی زبیر بلوچ کے خلاف مقامی تاجر کے اغوا اور قتل سے متعلق کیس پر سماعت ہوئی۔عذیر بلوچ اور اس کے بھائی زبیر بلوچ پر عبد الصمد نامی تاجر کو تاوان کے لیے اغوا کرنے کا الزام تھا۔دونوں ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے تاوان کے طور پر 70 ہزار روپے وصول بھی کئے اور اس کے بعد تاجر کو بھی قتل کردیا۔دوران سماعت عذیر بلوچ کے وکیل عابد زمان نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکلین پر لگائے گئے الزامات غلط اور جھوٹے ہیں ،ان کا اغوا اور قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔عدالت نے شواہد اور ثبوت نہ ہونے پر دونوں کو مقدمت سے بری کردیا۔واضح رہے کہ ملزم عذیر بلوچ اب تک 18 مقدمات میں بری ہوچکا ہے۔عذیر بلوچ 2013 میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کراچی میں شروع کئے گئے آپریشن کے دوران فرار ہوگیا تھا۔ تاہم عذیر بلوچ کو کراچی کے مضافات سے ایک کارروائی کے دوران گرفتار کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔عذیر بلوچ سے جوائنٹ انوسٹی ٹیم(جے آئی ٹی)نے دوران حراست تفتیش کی تھی ، ملزم نے جے آئی ٹی کو دیئے گئے بیان میں سیاسی و لسانی بنیادوں پر 198 افراد کے قتل کا اعتراف کیا تھا۔


