قرارداد عدم اعتماد پربحث و رائے شماری3اپریل کو ہوگی
گزشتہ روز بلایاگیا قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر کی صدارت میں ہوا جسے انہوں نے اراکین کا غیر سنجیدہ رویہ کہتے ہوئے 3اپریل تک ملتوی کر دیا جبکہ اپوزیشن لیڈر اور پی پی پی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے ڈپٹی اسپیکر کے رویہ کو آئین سے کھلواڑ قرار دیا۔حکومت اس وقت اتحادیوں سمیت دیگر جماعتوں کی اپوزیشن میں شمولیت اختیار کرنے کے بعدعددی کثرت سے محروم ہو گئی ہے۔اپنی تعداد 172یا زائد رکھنے کے لئے ناراض یا منحرف ارکان کو راضی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اس مقصد کے حصول کے لئے مزید وقت درکار ہے۔آئینی حدود میں رہتے ہوئے اسے 3اپریل تک کی مہلت حاصل ہے۔چنانچہ ڈپٹی اسپیکر نے حکومت کو یہ مہلت فراہم کردی۔3اپریل کو کیا ہوگا، فی الحال کچھ کہنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔پی پی پی کے سینئر رہنما اور آئینی و قانونی امور کے ماہر بیرسٹر اعتزاز احسن پاکستان کی ہر پل بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر ٹاک شوزمیں اکثرکہتے ہیں:
”پاکستان کی سیاست کے بارے میں صرف ماضی کی پیشگوئی کی جا سکتی ہے،مستقبل کے حوالے سے کوئی پیش گوئی ممکن نہیں“۔
بیرسٹر اعتزاز احسن کا تراشا ہوا یہ جملہ شاید مستقبل میں سیاسی ضرب المثل کا درجہ حاصل کر لے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں بدقسمتی سے اصول پرستی کی بجائے مفاد پرستی کو ترجیح دینے کا رواج ہے۔اصول پسندی یا اعلیٰ اخلاقی اقدار کی پاسداری کئی دہائیاں پہلے معاشرے سے رخصت ہو گئی تھی۔”کھاتا ہے تو کیا ہوا، لگاتا بھی تو ہے“،والا کلچر دانستہ یا مصلحتاً پروان چڑھایا گیا۔اس وجہنیہ تھی کہ پاکستان کے حکمرانوں سے ایک بہت بڑی سیاسی اور اخلاقی غلطی سرزد ہو گئی تھی۔اس غلطی کو موجودہ وزیر اعظم عمران خان عوامی جلسوں اور مختلف تقاریب سے خطاب کے دوران بار بار دہرا رہے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ غیر ملک کی ہدایت پر پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹوکو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھاکیونکہ اس غیرملک (امریکہ)کو یہ پسند نہیں تھا پاکستان آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرے۔ پھانسی پر لٹکانے والے پاکستانی تھے،مٹھائیاں بانٹنے اور کھانے والے پاکستانی تھے۔اس وقت کی عدلیہ نے بھی اس بھیانک غلطی میں حصہ لیا تھا۔سپریم کورٹ کااپیلٹ ٹریبونل 9ججز پر مشتمل تھا۔ان میں سے پانچ ججز پھانسی دینے کے حق میں نہیں تھے۔ایک کے بارے میں ”انکشاف“ہوا کہ ان کی (قیام پاکستان سے پہلے حاصل کردہ) میٹرک کی سند جعلی ہے۔جبکہ دوسرے جج بیمار ہوکر ٹریبونل سے الگ ہوگئے۔باقی 7ججز میں 4پھانسی دینے کے حق میں تھے اور پھانسی کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد گھٹ کر3رہ گئی تھی۔چنانچہ ماورائے قانون فیصلہ سناکرمنظر سے ہٹا دیا۔ آزاد خارجہ پالیسی کی ضد کرنے والے ذہین اور جرأت مند پاکستانی سیاست دان کو امریکی خوشنودی کے لئے قربان کر دیا گیا۔واضح رہے عدلیہ سپریم کورٹ کے 7رکنی بینچ کے مذکورہ فیصلے کو بطور ”نظیر“قبول نہیں کرتی۔اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ فیصلہ ایک ”گالی“ بن کر رہ گیا ہے۔ پھانسی کی سزا دینے اور دلوانے والوں کے لئے معزز عدالت کا توہین آمیز رویہ ہی کافی ہے۔آج پاکستان کو ایک بار پھر وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹوکی طرح غیر ملکی ہدایت پر منظر سے ہٹانے کا مسئلہ درپیش ہے۔ذوالفقار علی بھٹو کو ایٹم بنانے کا مصمم افادہ رکھنے کی پاداش میں اپنی جان کی قربانی دینبا پڑی، انہیں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے براہ راست دھمکی دی تھی:
”اگر اس ارادے سے باز نہ آئے تو تمہیں عبرت کا نمونہ بنا دیں گے“۔
پھانسی کے پھندے کو چوم کر وطن کی سلامتی اور بقاء کے لئے جان قربان کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو تاریخ میں امر ہوگئے،آج بھی پارلیمنٹ کی فضاؤں میں ”زندہ ہے،بھٹو زندہ ہے“ کے نعرے گونجتے ہیں۔افسوس اور دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی اولاد ان دونوں کے قاتلوں کے ساتھ بیٹھے ہیں،امریکی اشاروں پر ناچنے والوں کے ہمنوا بن کرمعاہدوں پر دستخط کر رہے ہیں۔کاش بھٹو خاندان کے شہداء سے والہانہ محبت کرنے والوں کو ایسے تکلیف دہ مناظر نہ دیکھنے پڑتے۔ یادرہے،قاتلوں کی اولادکوتاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔انہیں گمنامی کی کی زندگی کے بعد گمنامی کی حالت میں ہی موت آتی ہے۔ہر پاکستانی کو یہ حق حاصل ہے کہ اس کی سیاست سے اختلاف کرے مگر کسی غیر ملکی اشارے پر ایسا کردار ادا نہیں کرنا چاہیئے۔تحریک عدما اعتماد اب قومی اسمبلی کے فلور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔فیصلہ قومی اسمبلی کے اراکین نے اپنی صوابدید اور فہم و فراست کے مطابق کرنا ہے۔عام آدمی کی نظریں پارلیمنٹ پر مرکوز ہیں۔3اپریل دور نہیں،محض 48گھنٹے ہیں،گزر جائیں گے۔آج کی اپوزیشن کو سوچنا چاہیئے غیر ملکی اشاروں پر ناچنے کا انجام کیا ہوگا؟عراق کے صدام حسین،لیبیاء کے قذافی،ایران کے رضا شاہ پہلوی،اور افغانستان کے اشرف غنی اسی عالمی طاقت کے اشاروں پر ناچتے رہے، اور عبرت ناک انجام کو پہنچے۔ملکی وقار کا ترجیح دی جائے۔عزت قدرت کا انمول تحفہ ہے، اس کی قیمت نہ لگائی جائے۔اقتدار بھی آنی جانی چیز ہے، یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ہر شخص نے موت کا ذئقہ چکھنا ہے۔باعزت موت جسے نصیب ہو، وہ امر ہو جاتا ہے۔دوسرے تاریخ کی نگاہوں میں بے توقیر ہوجاتے ہیں۔قومی اسمبلی کے 341اراکین اس 48گھنٹے میں اچھی طر ح سوچ لیں، انہیں کیسی زندگی،کیسی موت پسند ہے؟


